کیا مصیبت ہے بہار آتے ہی دیوانوں کے
چاک کُھل جاتے ہیں سِلتے ہی گریبانوں کے
جن نگاہوں میں کبھی جلوے تھے پری خانوں کے
ان میں اُگ آئے مناظر ہیں بیابانوں کے
زمرے میں رکھے ہو اپنوں کو ہی بیگانوں کے
جوں گلِ خشک نہ گلشن کے نہ گلدانوں کے
کیا مصیبت ہے بہار آتے ہی دیوانوں کے
چاک کُھل جاتے ہیں سِلتے ہی گریبانوں کے
جن نگاہوں میں کبھی جلوے تھے پری خانوں کے
ان میں اُگ آئے مناظر ہیں بیابانوں کے
زمرے میں رکھے ہو اپنوں کو ہی بیگانوں کے
جوں گلِ خشک نہ گلشن کے نہ گلدانوں کے
جو دعوے دار ہیں، نہ تمہیں بھول پائیں گے
وہ لوگ ایک دن میں تمہیں بھول جائیں گے
جن کو ہے زعم ہم نہ انہیں بھول پائیں گے
ایسا بھلائیں گے کہ انہیں بھول جائیں گے
تم باز آؤ گے نہ تو ہم باز آئیں گے
تم دھوکہ پھر سے دو گے تو ہم پھر سے کھائیں گے
رکھی ہے کون سی گردش مِرے سِتارے میں
جَلے ہیں خواب چراغوں کے استعارے میں
نیا ہو رنج بھلا کیوں نئے خسارے میں
نئی نہیں ہے یہ گردش مِرے ستارے میں
مِرا نصیب کہ جس دم ہی ناؤ پار لگی
اسی کے ساتھ بھنور پڑ گئے کنارے میں
جو دعوے دار ہیں، نہ تمہیں بھول پائیں گے
وہ لوگ ایک دن میں تمہیں بھول جائیں گے
جن کو ہے زعم ہم نہ انہیں بھول پائیں گے
ایسا بھلائیں گے کہ انہیں بھول جائیں گے
تم باز آؤ گے نہ تو ہم باز آئیں گے
تم دھوکہ پھر سے دو گے تو ہم پھر سے کھائیں گے
شہر بدری کے دن گزر جاتے
کتنا اچھا تھا لوگ گھر جاتے
آن دے کر کے جان لائے ہو
کیا یہ لازم نہیں تھا مر جاتے؟
حکم نافذ تھا؛ اپنے گھر میں رہو
بے گھری! ہم بتا کدھر جاتے؟
یوں تو ملنے کو کیا نہیں ملتا
ایک اس کا پتہ نہیں ملتا
سب کے سب گامزن ہیں اس کی طرف
کیوں مجھے راستہ نہیں ملتا؟
مُدعائے دُعا ہے آنکھوں میں
اور حرفِ دُعا نہیں ملتا
بِنا مخرج کے ہو دریا رواں، ایسے نہیں ہوتا
جلے آتش، نہ ہو کوئی دھواں، ایسے نہیں ہوتا
جنہیں کل تک میں سِکھلاتا تھا ہاں ایسے نہیں ہوتا
وہی لوگ آج کہتے ہیں؛ میاں! ایسے نہیں ہوتا
سفر میں راہبر ہیں تو کئی رہزن بھی آئیں گے
مِلیں دنیا میں سب ہی مہرباں ایسے نہیں ہوتا
اب تِرا بھی نہیں ملال ہمیں
لوگ کہتے ہیں با کمال ہمیں
اب کسی کو ہماری فکر نہیں
اب کسی کا نہیں خیال ہمیں
اس قدر زہر بار کر لہجہ
شاق گزرے تِرا سوال ہمیں
قلب وحشت سے بھر گیا شاید
خواب آنکھوں میں مر گیا شاید
تیری نظروں سے کیا اترنا تھا
سب کے دل سے اتر گیا شاید
آئینے نے نظر جھکا لی ہے
میری حالت سے ڈر گیا شاید