Showing posts with label شمس خالد. Show all posts
Showing posts with label شمس خالد. Show all posts

Sunday, 6 November 2022

کیا مصیبت ہے بہار آتے ہی دیوانوں کے

 کیا مصیبت ہے بہار آتے ہی دیوانوں کے

چاک کُھل جاتے ہیں سِلتے ہی گریبانوں کے

جن نگاہوں میں کبھی جلوے تھے پری خانوں کے

ان میں اُگ آئے مناظر ہیں بیابانوں کے

زمرے میں رکھے ہو اپنوں کو ہی بیگانوں کے

جوں گلِ خشک نہ گلشن کے نہ گلدانوں کے

Sunday, 9 October 2022

جو دعویدار ہیں، نہ تمہیں بھول پائیں گے

جو دعوے دار ہیں، نہ تمہیں بھول پائیں گے

وہ لوگ ایک دن میں تمہیں بھول جائیں گے

جن کو ہے زعم ہم نہ انہیں بھول پائیں گے

ایسا بھلائیں گے کہ انہیں بھول جائیں گے

تم باز آؤ گے نہ تو ہم باز آئیں گے

تم دھوکہ پھر سے دو گے تو ہم پھر سے کھائیں گے

Saturday, 19 March 2022

رکھی ہے کون سی گردش مرے سِتارے میں

 رکھی ہے کون سی گردش مِرے سِتارے میں

جَلے ہیں خواب چراغوں کے استعارے میں

نیا ہو رنج بھلا کیوں نئے خسارے میں

نئی نہیں ہے یہ گردش مِرے ستارے میں

مِرا نصیب کہ جس دم ہی ناؤ پار لگی

اسی کے ساتھ بھنور پڑ گئے کنارے میں

Friday, 4 February 2022

جو دعوے دار ہیں نہ تمہیں بھول پائیں گے

 جو دعوے دار ہیں، نہ تمہیں بھول پائیں گے

وہ لوگ ایک دن میں تمہیں بھول جائیں گے

جن کو ہے زعم ہم نہ انہیں بھول پائیں گے

ایسا بھلائیں گے کہ انہیں بھول جائیں گے

تم باز آؤ گے نہ تو ہم باز آئیں گے

تم دھوکہ پھر سے دو گے تو ہم پھر سے کھائیں گے

Tuesday, 22 June 2021

شہر بدری کے دن گزر جاتے

 شہر بدری کے دن گزر جاتے 

کتنا اچھا تھا لوگ گھر جاتے 

آن دے کر کے جان لائے ہو 

کیا یہ لازم نہیں تھا مر جاتے؟ 

حکم نافذ تھا؛ اپنے گھر میں رہو 

بے گھری! ہم بتا کدھر جاتے؟

یوں تو ملنے کو کیا نہیں ملتا

 یوں تو ملنے کو کیا نہیں ملتا

ایک اس کا پتہ نہیں ملتا

سب کے سب گامزن ہیں اس کی طرف

کیوں مجھے راستہ نہیں ملتا؟

مُدعائے دُعا ہے آنکھوں میں 

اور حرفِ دُعا نہیں ملتا

Monday, 21 June 2021

بنا مخرج کے ہو دریا رواں ایسے نہیں ہوتا

 بِنا مخرج کے ہو دریا رواں، ایسے نہیں ہوتا

جلے آتش، نہ ہو کوئی دھواں، ایسے نہیں ہوتا

جنہیں کل تک میں سِکھلاتا تھا ہاں ایسے نہیں ہوتا

وہی لوگ آج کہتے ہیں؛ میاں! ایسے نہیں ہوتا

سفر میں راہبر ہیں تو کئی رہزن بھی آئیں گے

مِلیں دنیا میں سب ہی مہرباں ایسے نہیں ہوتا

Tuesday, 15 June 2021

اب ترا بھی نہیں ملال ہمیں

 اب تِرا بھی نہیں ملال ہمیں

لوگ کہتے ہیں با کمال ہمیں

اب کسی کو ہماری فکر نہیں

اب کسی کا نہیں خیال ہمیں

اس قدر زہر بار کر لہجہ

شاق گزرے تِرا سوال ہمیں

Tuesday, 22 December 2020

خواب آنکھوں میں مر گیا شاید

 قلب وحشت سے بھر گیا شاید 

خواب آنکھوں میں مر گیا شاید 

تیری نظروں سے کیا اترنا تھا

سب کے دل سے اتر گیا شاید 

آئینے نے نظر جھکا لی ہے

میری حالت سے ڈر گیا شاید