رکھی ہے کون سی گردش مِرے سِتارے میں
جَلے ہیں خواب چراغوں کے استعارے میں
نیا ہو رنج بھلا کیوں نئے خسارے میں
نئی نہیں ہے یہ گردش مِرے ستارے میں
مِرا نصیب کہ جس دم ہی ناؤ پار لگی
اسی کے ساتھ بھنور پڑ گئے کنارے میں
نہ ڈوبنا ہی مقدر ہوا نہ ساحل ہی
پھنسی ہے ناؤ تلاطم نُما کنارے میں
سمجھ رہے ہیں اِشاروں میں سب ترے مفہوم
مگر جو ایک اشارہ ہے ہر اشارے میں
وہیں پہ شکوہ ہے جائز جہاں کَجی نہ ہو
کبھی گزار تو لیتے کسی گزارے میں
نئی تھی عمر نئے حوصلے تھے لڑنے کے
جو تھک گیا ہوں تو اب بہہ چلا ہوں دھارے میں
تو کل کے لوگ بتائیں گے ہم کو ہم کیا ہیں
کہ تم کو علم ہی کیا ہے ہمارے بارے میں
یہ صرف بخت بتا پائے گا نہ کہ دریا
کہ کس کو میٹھے میں بہنا ہے کس کو کھارے میں
طرب کی تم کو تمنا ہمیں حَوادث کی
یہی تو فرق ہے تمہارے اور ہمارے میں
ملول شمس ہو کیوں پا کے بھی گنوا کے بھی
کوئی تو فرق رکھا جائے جیتے ہارے میں
شمس خالد
No comments:
Post a Comment