عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو بھی شیریں سخنی ہے میرے مکی مدنیﷺ
تیرے ہونٹوں سے چھنی ہے میرے مکی مدنی
نسل در نسل تیری ذات کے مقروض ہیں ہم
تُوﷺ غنی ابنِ غنی ہے میرے مکی مدنیﷺ
میری سوچوں سے مدینہ کی مسافت ہے طویل
میں ہوں اور خستہ تنی ہے میرے مکی مدنی
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو بھی شیریں سخنی ہے میرے مکی مدنیﷺ
تیرے ہونٹوں سے چھنی ہے میرے مکی مدنی
نسل در نسل تیری ذات کے مقروض ہیں ہم
تُوﷺ غنی ابنِ غنی ہے میرے مکی مدنیﷺ
میری سوچوں سے مدینہ کی مسافت ہے طویل
میں ہوں اور خستہ تنی ہے میرے مکی مدنی
دل میں تو بہت کچھ ہے زباں تک نہیں آتا
میں جتنا چلوں پھر بھی یہاں تک نہیں آتا
لوگوں سے ڈرے ہو تو مِرے ساتھ چلے آؤ
اس راستے میں کوئی مکاں تک نہیں آتا
اس ضد پہ تِرا ظلم گوارا کیا ہم نے
دیکھیں کہ تجھے رحم کہاں تک نہیں آتا
لہکتی لہروں میں جاں ہے کنارے زندہ ہیں
وجود آب کے سب استعارے زندہ ہیں
وہ ہجرتوں کی حکایت تمہیں سنائیں گے
جنہوں نے سر سے یہ طوفاں گزارے زندہ ہیں
ہمارے کرب کتابوں میں ہیں ابھی محفوظ
وہ سارے صفحے وہ سب گوشوارے زندہ ہیں