Showing posts with label رام ریاض. Show all posts
Showing posts with label رام ریاض. Show all posts

Friday, 4 March 2022

جو بھی شیریں سخنی ہے میرے مکی مدنی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو بھی شیریں سخنی ہے میرے مکی مدنیﷺ

تیرے ہونٹوں سے چھنی ہے میرے مکی مدنی

نسل در نسل تیری ذات کے مقروض ہیں ہم

تُوﷺ غنی ابنِ غنی ہے میرے مکی مدنیﷺ

میری سوچوں سے مدینہ کی مسافت ہے طویل

میں ہوں اور خستہ تنی ہے میرے مکی مدنی

دل میں تو بہت کچھ ہے زباں تک نہیں آتا

 دل میں تو بہت کچھ ہے زباں تک نہیں آتا 

میں جتنا چلوں پھر بھی یہاں تک نہیں آتا 

لوگوں سے ڈرے ہو تو مِرے ساتھ چلے آؤ

اس راستے میں کوئی مکاں تک نہیں آتا

اس ضد پہ تِرا ظلم گوارا کیا ہم نے 

دیکھیں کہ تجھے رحم کہاں تک نہیں آتا

Monday, 12 October 2020

جنہوں نے سر سے یہ طوفاں گزارے زندہ ہیں

 لہکتی لہروں میں جاں ہے کنارے زندہ ہیں

وجود آب کے سب استعارے زندہ ہیں

وہ ہجرتوں کی حکایت تمہیں سنائیں گے

جنہوں نے سر سے یہ طوفاں گزارے زندہ ہیں

ہمارے کرب کتابوں میں ہیں ابھی محفوظ

وہ سارے صفحے وہ سب گوشوارے زندہ ہیں

Wednesday, 20 December 2017

سامان طرب اور زمانے کے لیے ہیں

سامانِ طرب اور زمانے کے لیے ہیں
ہم جسم کا اسباب اٹھانے کے لیے ہیں
اے کاریگرِ حسن کبھی تُو نے یہ سوچا
یہ چاند بھی مٹی میں ملانے کے لیے ہیں
ان سوختہ جانوں کو نہ دھرتی میں اتارو
یہ پھول تو گنگا میں بہانے کے لیے ہیں

وہ لوگ اب وہ لوگ نہ جانے کدھر گئے

وہ لوگ اب وہ لوگ نہ جانے کدھر گئے
میلے بھرے بھرائے جو سنسان کر گئے
کچھ ساتھیوں کو وقت کا سنسار لے گیا
کچھ زندگی کے بوجھ تلے آ کے مر گئے
آنکھوں میں ایک بوند بھی پانی نہیں رہا
بادل سمٹ گئے ہیں کہ دریا اتر گئے؟

لوگ بڑے ہمدرد زمانہ اچھا ہے

لوگ بڑے ہمدرد، زمانہ اچھا ہے
پھر بھی یارو! زخم چھپانا اچھا ہے
شاید کوئی بچھڑا ساتھی آن ملے
سارے رستے گرد اڑانا اچھا ہے
اتنا زیادہ خون کہاں سے لاؤ گے
بیماروں کو زہر پلانا اچھا ہے

کہیں جنگل کہیں دربار سے جا ملتا ہے

کہیں جنگل کہیں دربار سے جا ملتا ہے 
سلسلہ وقت کا تلوار سے جا ملتا ہے 
میں جہاں بھی ہوں مگر شہر میں دن ڈھلتے ہی 
میرا سایہ تِری دیوار سے جا ملتا ہے 
تیری آواز کہیں روشنی بن جاتی ہے 
تیرا لہجہ کہیں مہکار سے جا ملتا ہے 

Monday, 28 March 2016

ابھرا جب آکاش پہ تارا دونوں وقت ملے

ابھرا جب آکاش پہ تارا، دونوں وقت ملے
میں نے اچانک تجھے پکارا دونوں وقت ملے
سبز درختوں پر چُپ چھائی، ٹھہر گیا دریا
آج نگر سے کون سدھارا، دونوں وقت ملے
رات نے مجھ سے تارے چھینے، دن نے سورج لُوٹا
بھول گیا ہوں نام تمہارا، دونوں وقت ملے

زنداں میں بھی وہی لب و رخسار دیکھتے

زِنداں میں بھی وہی لب و رخسار دیکھتے
دروازہ دیکھتے،۔ کبھی دیوار دیکھتے
کس درجہ آنے والے زمانے کا خوف تھا
بجتا گجر تو شام کے آثار دیکھتے
سب دوڑتے تھے اس کی عیادت کے واسطے
جس کو ذرا سا نیند سے بے دار دیکھتے

Tuesday, 25 November 2014

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے

ہر ایک دن کے تصور سے رات بنتی ہے
حصارِ رنگ سے نکلیں تو بات بنتی ہے
کسی کسی کو زمانہ فروغ دیتا ہے
کسی کسی کی زمانے کے سات بنتی ہے
نقوشِ ریگ سہی، تُو بھی کچھ بنا کے تو دیکھ
کہ رفتہ رفتہ یونہی کائنات بنتی ہے

تیری محفل میں ستارے کوئی جگنو لایا

تیری محفل میں ستارے کوئی جگنُو لایا
میں وہ پاگل، کہ فقط آنکھ میں آنسُو لایا
جب بھی دنیا میں کسی قصر کی بنیاد پڑی
سنگ کچھ میں نے فراہم کئے، کچھ تُو لایا
تُو نے عالم سحر و شام میں تقسیم کیا
اور میں دل میں نہ کبھی فرقِ سرِ مُو لایا

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے

سرما تھا مگر پھر بھی وہ دن کتنے بڑے تھے
اس چاند سے جب پہلے پہل نین لڑے تھے
رستے بڑے دشوار تھے اور کوس کڑے تھے
لیکن تِری آواز پہ ہم دوڑ پڑے تھے
بہتا تھا مِرے پاؤں تلے ریت کا دریا
اور دھوپ کے نیزے مِری نس نس میں گڑے تھے

سب اعتراض اسے شیوہ وفا پر تھا

سب اعتراض اسے شیوۂ وفا پر تھا
کہ اس نے چھوڑ دیا، اختیار ہم نے کیا
سوائے صبر، ہمارے کچھ اور بس میں نہ تھا
سو جتنا ہو سکا، پروردگار! ہم نے کیا
رفاقتوں کا ہمارا وسیع تجربہ ہے
کہ ایک عمر یہی کاروبار ہم نے کیا

Sunday, 16 March 2014

میں اندھیروں کا پجاری ہوں مرے پاس نہ آ

میں اندھیروں کا پجاری ہوں مِرے پاس نہ آ
اپنے ماحول سے عاری ہوں مِرے پاس نہ آ
رُوپ محلوں کی تُو رانی ہے، تِرا نام بڑا
میں تو گلیوں کا بھکاری ہوں مِرے پاس نہ آ
مِری آواز نے کتنے ہی چمن پھونک دئیے
نالۂ صبحِ بہاری ہوں مِرے پاس نہ آ

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے

آنکھوں میں تیز دھوپ کے نیزے گڑے رہے
ہم تیرے انتظار میں پھر بھی کھڑے رہے
تم رک گئے پہ سنگ کا میلہ نہ کم ہوا
اس کارواں کے ساتھ مسافر بڑے رہے
میرے بدن پہ صرف ہوا کا لباس تھا
تیری قبا میں چاند ستارے جڑے رہے

تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سے

تیرا درد بھی یوں جھلکے ہے اب تیری آوازوں سے
جیسے روشنی باہر نکلے شیشے کے دروازوں سے
میں بھی تیرے بازو تھاموں میں بھی تیرے ساتھ اُڑوں
لیکن مجھ کو ڈر لگتا ہے، ان اُونچی پروازوں سے
آنکھیں ڈھونڈتی رہتی ہیں کچھ ، کان سے بجتے رہتے ہیں
میں نے جب سے ناتا توڑا سایوں اور آوازوں سے

وہی دلدار وہی یار یگانہ اپنا

وہی دلدار، وہی یار، یگانہ اپنا
اسی کافر سے تعلق ہے پرانا اپنا
تم زمانے کے مخالف تھے مگر تم پر بھی
کچھ نہ کچھ چھوڑ گیا رنگ زمانہ اپنا
آخری بار وہ اس شان سے بچھڑا ہے کہ پھر
اس سے ملنے کو کبھی دل نہیں مانا اپنا

جو برق و باد پروں سے نکال دیتے ہیں

جو برق و باد پروں سے نکال دیتے ہیں
ہم ان کو ہمسفروں سے نکال دیتے ہیں
تِرا بھی مہر و مروّت پہ اعتقاد نہیں
تو ہم یہ خواب سروں سے نکال دیتے ہیں
جو دل نہ جوڑ سکے، اب تو شیشہ گر اُس کو
سنا ہے شیشہ گروں سے نکال دیتے ہیں

یاد کا موسم جب سے بادل چال ہوا

یاد کا موسم جب سے بادل چال ہوا
اجڑ گئے سپنے، جیون جنجال ہوا
کھیتوں میں پھر سرسوں کی رُت آ پہنچی
آج تجھے بِن دیکھے پورا سال ہوا
تیری راہیں تکتے آنکھیں سُوج گئیں
تیری چاپ ترستے دل پامال ہوا

چین آیا ہے تو اب نیند بھی آ جائے گی

چین آیا ہے تو اب نیند بھی آ جائے گی
اور دھرتی ہمیں آرام سے کھا جائے گی
تُو یونہی دیکھتا رہ جائے گا، اور موجِ ہوا
پُستکِ عمر کے سب حرف مٹا جائے گی
ہم نشیں تُو بھی کسی روز وہاں ہو گا جہاں
مِری دستک، نہ اشارہ، نہ صدا جائے گی