Friday, 4 March 2022

جو بھی شیریں سخنی ہے میرے مکی مدنی

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جو بھی شیریں سخنی ہے میرے مکی مدنیﷺ

تیرے ہونٹوں سے چھنی ہے میرے مکی مدنی

نسل در نسل تیری ذات کے مقروض ہیں ہم

تُوﷺ غنی ابنِ غنی ہے میرے مکی مدنیﷺ

میری سوچوں سے مدینہ کی مسافت ہے طویل

میں ہوں اور خستہ تنی ہے میرے مکی مدنی

دستِ قدرت نے تِرے بعد پھر ایسی تصویر

نہ بنائی، نہ بنی ہے مِرے مکی مدنیﷺ

تیرا پھیلاؤ بہت ہے،۔ تیرا قامت ہے بلند

تیری چھاؤں بھی گھنی ہے مِرے مکی مدنی

رام مُلحد کہ مسلماں ہے؟ کبھی فیصلہ دے

ہر طرف رائے زنی ہے میرے مکی مدنی


رام ریاض

ریاض احمد

No comments:

Post a Comment