عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جو بھی شیریں سخنی ہے میرے مکی مدنیﷺ
تیرے ہونٹوں سے چھنی ہے میرے مکی مدنی
نسل در نسل تیری ذات کے مقروض ہیں ہم
تُوﷺ غنی ابنِ غنی ہے میرے مکی مدنیﷺ
میری سوچوں سے مدینہ کی مسافت ہے طویل
میں ہوں اور خستہ تنی ہے میرے مکی مدنی
دستِ قدرت نے تِرے بعد پھر ایسی تصویر
نہ بنائی، نہ بنی ہے مِرے مکی مدنیﷺ
تیرا پھیلاؤ بہت ہے،۔ تیرا قامت ہے بلند
تیری چھاؤں بھی گھنی ہے مِرے مکی مدنی
رام مُلحد کہ مسلماں ہے؟ کبھی فیصلہ دے
ہر طرف رائے زنی ہے میرے مکی مدنی
رام ریاض
ریاض احمد
No comments:
Post a Comment