اس نے اک شام بلا کر جو پلائی چائے
مجھ کو میٹھی لگی اس ہاتھ کی پھیکی چائے
اس طرح لمس لیا اس کے لبوں کا میں نے
پی گیا اس کی مزے لے کے میں جوٹھی چائے
بن گئی تھی اسی اک لمحے میں وہ چائے شراب
مسکرائی تھی وہ، جب اس نے مجھے دی تھی چائے
اس نے اک شام بلا کر جو پلائی چائے
مجھ کو میٹھی لگی اس ہاتھ کی پھیکی چائے
اس طرح لمس لیا اس کے لبوں کا میں نے
پی گیا اس کی مزے لے کے میں جوٹھی چائے
بن گئی تھی اسی اک لمحے میں وہ چائے شراب
مسکرائی تھی وہ، جب اس نے مجھے دی تھی چائے
جانے کیسا یہ نور ہے مجھ میں
چاند کوئی ضرور ہے مجھ میں
کوئی پڑھتا نہیں کبھی اس کو
وہ جو بین السطور ہے مجھ میں
جانے کس میں ہے عاجزی میری
جانے کس کا غرور ہے مجھ میں
اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے
وقت کی نبض بھی تھمی سی ہے
ہر طرف جوں کی توں ہے ہر اک شے
کیوں طبیعت میں برہمی سی ہے
کوئی اب تک سمجھ نہیں پایا
زندگی گونگے آدمی سی ہے
دشمنی بھی ہو تو اک معیار ہونا چاہیے
یاد رکھو سینے پر ہر وار ہونا چاہیے
دھوپ بونے والا بھی یہ چاہتا ہے دیکھیے
اس کے سر پر پیڑ سایہ دار ہونا چاہیے
یا جنونِ زندگی ہو یا تو شوقِ مرگ ہو
آدمی کو کوئی تو آزار ہونا چاہیے
منزل نہ کوئی راہنما گھر سے چل پڑے
آوارگی کا لینے مزہ گھر سے چل پڑے
گوتم کی طرح ہم نے بھی چپ چاپ ایک رات
گھر میں کسی سے کچھ نہ کہا گھر سے چل پڑے
دیوارو در میں قید ہیں گھر بھی ہے اک قفس
احساس ہم کو جب یہ ہوا گھر سے چل پڑے
جاگا ہوا ہوں اور نہ سویا ہوا ہوں میں
ایسا تِرے خیال میں کھویا ہوا ہوں میں
سب کو سنا رہا ہوں لطیفے نئے نئے
حالانکہ پھوٹ پھوٹ کے رویا ہوا ہوں میں
خود کو کسی طرح نہیں کر پاتا ہوں الگ
کچھ اس طرح سے اس میں سمویا ہوا ہوں میں
زمانے بھر میں ہیں یوں تو ہمارے صد دشمن
ہیں دوستوں میں بھی شامل کئی عدد دشمن
کہیں سے سنگ چلے آ کے ہم کو لگتا ہے
ہجوم سر میں بنا ہے ہمارا قد دشمن
میرے خلوص پہ شک مت کرو رفیقو تم
میرے خلوص کی دیں گے تمہیں سند دشمن
وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا
وہ اک چراغ جو جلنے میں بھی بے مثال رہا
کبھی بھُلا نہ سکا دل💔 شکستگی اپنی
جُڑا تو جُڑ کے بھی اس آئینے میں بال رہا
تمہارے بعد کسی سے فریب کھایا نہیں
تمہارا مجھ سے بچھڑنا بھی نیک فال رہا