Showing posts with label احمد کمال. Show all posts
Showing posts with label احمد کمال. Show all posts

Saturday, 13 March 2021

اس نے اک شام بلا کر جو پلائی چائے

 اس نے اک شام بلا کر جو پلائی چائے

مجھ کو میٹھی لگی اس ہاتھ کی پھیکی چائے

اس طرح لمس لیا اس کے لبوں کا میں نے

پی گیا اس کی مزے لے کے میں جوٹھی چائے

بن گئی تھی اسی اک لمحے میں وہ چائے شراب

مسکرائی تھی وہ، جب اس نے مجھے دی تھی چائے

Friday, 12 March 2021

جانے کیسا یہ نور ہے مجھ میں

 جانے کیسا یہ نور ہے مجھ میں

چاند کوئی ضرور ہے مجھ میں

کوئی پڑھتا نہیں کبھی اس کو

وہ جو بین السطور ہے مجھ میں

جانے کس میں ہے عاجزی میری

جانے کس کا غرور ہے مجھ میں

Saturday, 6 March 2021

اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے

 اس کی آنکھوں میں کچھ نمی سی ہے

وقت کی نبض بھی تھمی سی ہے 

ہر طرف جوں کی توں ہے ہر اک شے 

کیوں طبیعت میں برہمی سی ہے 

کوئی اب تک سمجھ نہیں پایا 

زندگی گونگے آدمی سی ہے

Friday, 5 March 2021

دشمنی بھی ہو تو اک معیار ہونا چاہیے

 دشمنی بھی ہو تو اک معیار ہونا چاہیے

یاد رکھو سینے پر ہر وار ہونا چاہیے

دھوپ بونے والا بھی یہ چاہتا ہے دیکھیے

اس کے سر پر پیڑ سایہ دار ہونا چاہیے

یا جنونِ زندگی ہو یا تو شوقِ مرگ ہو

آدمی کو کوئی تو آزار ہونا چاہیے

Thursday, 4 March 2021

منزل نہ کوئی راہنما گھر سے چل پڑے

 منزل نہ کوئی راہنما گھر سے چل پڑے

آوارگی کا لینے مزہ گھر سے چل پڑے

گوتم کی طرح ہم نے بھی چپ چاپ ایک رات

گھر میں کسی سے کچھ نہ کہا گھر سے چل پڑے

دیوارو در میں قید ہیں گھر بھی ہے اک قفس

احساس ہم کو جب یہ ہوا گھر سے چل پڑے

Wednesday, 3 March 2021

جاگا ہوا ہوں اور نہ سویا ہوا ہوں میں

 جاگا ہوا ہوں اور نہ سویا ہوا ہوں میں

ایسا تِرے خیال میں کھویا ہوا ہوں میں

سب کو سنا رہا ہوں لطیفے نئے نئے

حالانکہ پھوٹ پھوٹ کے رویا ہوا ہوں میں

خود کو کسی طرح نہیں کر پاتا ہوں الگ

کچھ اس طرح سے اس میں سمویا ہوا ہوں میں

Tuesday, 2 March 2021

زمانے بھر میں ہیں یوں تو ہمارے صد دشمن

 زمانے بھر میں ہیں یوں تو ہمارے صد دشمن

ہیں دوستوں میں بھی شامل کئی عدد دشمن

کہیں سے سنگ چلے آ کے ہم کو لگتا ہے

ہجوم سر میں بنا ہے ہمارا قد دشمن

میرے خلوص پہ شک مت کرو رفیقو تم

میرے خلوص کی دیں گے تمہیں سند دشمن

Monday, 1 March 2021

وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا

 وہ بجھ گیا تو اندھیروں کو بھی ملال رہا

وہ اک چراغ جو جلنے میں بھی بے مثال رہا

کبھی بھُلا نہ سکا دل💔 شکستگی اپنی

جُڑا تو جُڑ کے بھی اس آئینے میں بال رہا

تمہارے بعد کسی سے فریب کھایا نہیں

تمہارا مجھ سے بچھڑنا بھی نیک فال رہا