Friday, 12 March 2021

جانے کیسا یہ نور ہے مجھ میں

 جانے کیسا یہ نور ہے مجھ میں

چاند کوئی ضرور ہے مجھ میں

کوئی پڑھتا نہیں کبھی اس کو

وہ جو بین السطور ہے مجھ میں

جانے کس میں ہے عاجزی میری

جانے کس کا غرور ہے مجھ میں

کہیں باہر نظر نہیں آتا

میرا دشمن ضرور ہے مجھ میں

کرچیاں چبھ رہی ہیں سینے میں

آئینہ چور چور ہے مجھ میں

مدتوں تک سفر میں رہ کر بھی

کوئی منزل سے دور ہے مجھ میں

منتظر ہے کسی تجلی کا

ایک جو کوہ طور ہے مجھ میں

میں یہ محسوس کر رہا ہوں کمال

کوئی مجھ سے ہی دور ہے مجھ میں


احمد کمال حشمی

No comments:

Post a Comment