Showing posts with label شفیق ندوی. Show all posts
Showing posts with label شفیق ندوی. Show all posts

Sunday, 11 May 2025

دل کو گلہ خرد سے کبھی کچھ جنوں سے ہے

 دل کو گِلہ خِرد سے کبھی کچھ جنوں سے ہے

سب شورِ شہرِ جاں میں تمہارے فسوں سے ہے

حیرت میں سب ہیں سطح سمندر کہ موجِ تُند

طوفاں جو یہ اٹھا ہے، اٹھا کس سکوں سے ہے

کب منحصر کسی پہ کسی کا ہے اب وجود

سر پر جو آسماں ہے لگا کس ستوں سے ہے

Monday, 5 December 2022

تیری جستجو میں جہاں دیکھ آئے

تیری جستجو میں جہاں دیکھ آئے

کہاں دیکھنا تھا کہاں دیکھ آئے

چلے صبح دم، شام گھر لوٹ آئے

زمیں آسماں کہکشاں دیکھ آئے

رہے رہگزر پر کھڑے شام تک ہم

گزرتے رہے کارواں دیکھ آئے

Wednesday, 16 March 2022

بے وفا گر ہے وہ تجدید وفا ہو کیسے

بے وفا گر ہے وہ تجدید وفا ہو کیسے

درد ہی دل کی دوا ہو تو دوا ہو کیسے

وہ کبھی میر ہے لکھتا کبھی خود کو غالب

حرف آ جائے گا تنقید روا ہو کیسے

جلوہ گر ہر سو فروزاں جو درخشاں مجھ میں

ہو نہ گر دور نگاہوں سے خدا ہو کیسے