دل کو گِلہ خِرد سے کبھی کچھ جنوں سے ہے
سب شورِ شہرِ جاں میں تمہارے فسوں سے ہے
حیرت میں سب ہیں سطح سمندر کہ موجِ تُند
طوفاں جو یہ اٹھا ہے، اٹھا کس سکوں سے ہے
کب منحصر کسی پہ کسی کا ہے اب وجود
سر پر جو آسماں ہے لگا کس ستوں سے ہے
دل کو گِلہ خِرد سے کبھی کچھ جنوں سے ہے
سب شورِ شہرِ جاں میں تمہارے فسوں سے ہے
حیرت میں سب ہیں سطح سمندر کہ موجِ تُند
طوفاں جو یہ اٹھا ہے، اٹھا کس سکوں سے ہے
کب منحصر کسی پہ کسی کا ہے اب وجود
سر پر جو آسماں ہے لگا کس ستوں سے ہے
تیری جستجو میں جہاں دیکھ آئے
کہاں دیکھنا تھا کہاں دیکھ آئے
چلے صبح دم، شام گھر لوٹ آئے
زمیں آسماں کہکشاں دیکھ آئے
رہے رہگزر پر کھڑے شام تک ہم
گزرتے رہے کارواں دیکھ آئے
بے وفا گر ہے وہ تجدید وفا ہو کیسے
درد ہی دل کی دوا ہو تو دوا ہو کیسے
وہ کبھی میر ہے لکھتا کبھی خود کو غالب
حرف آ جائے گا تنقید روا ہو کیسے
جلوہ گر ہر سو فروزاں جو درخشاں مجھ میں
ہو نہ گر دور نگاہوں سے خدا ہو کیسے