ادب کے نام پہ
ادب کے نام پہ تہذیب کے لٹیروں نے
جو کارہائے نمایاں کیے کہوں کیسے
کسی نے شعر میں پھبتی کسی بہ ایں مقصد
کہا گیا کبھی عریاں نگار کو فنکار
جدیدیت کے تقاضے نبھا دئیے لیکن
قبائے شرم و حیا، تار تار کر ڈالی
ادب کے نام پہ
ادب کے نام پہ تہذیب کے لٹیروں نے
جو کارہائے نمایاں کیے کہوں کیسے
کسی نے شعر میں پھبتی کسی بہ ایں مقصد
کہا گیا کبھی عریاں نگار کو فنکار
جدیدیت کے تقاضے نبھا دئیے لیکن
قبائے شرم و حیا، تار تار کر ڈالی
ادب کے نام پہ
ادب کے نام پہ تہذیب کے لٹیروں نے
جو کارہائے نمایاں کیے کہوں کیسے
کسی نے شعر میں پھبتی کسی بہ ایں مقصد
کہا گیا کبھی عریاں نگار کو فنکار
جدیدیت کے تقاضے نبھا دیے لیکن
لاگ ایسی کہ دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی
آگ ایسی کہ سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
ذہن و دل برسرِ پیکار رہا کرتے ہیں
شور اتنا ہے سنائی نہیں دیتا کچھ بھی
عشقِ منصور بھی لازم ہے اناالحق کے لیے
صرف دعوائے خدائی نہیں دیتا کچھ بھی
دل میں جب بھی شکوک پلتے ہیں
حادثے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
وقت پھر ہاتھ میں نہیں ہوتا
ٹھوکریں کھا کے جب سنبھلتے ہیں
لوگ عجلت میں فیصلے کر کے
عمر بھر صرف ہاتھ ملتے ہیں
ربط رکھے، یا سرِ بزم وہ تنہا چھوڑے
فیصلہ کر لے کوئی، خود سے الجھنا چھوڑے
اب بھی دل ترکِ تعلق پہ رضامند نہیں
ایک مدت ہوئی وہ راہ، وہ رستا چھوڑے
فیصلہ وقت کا تسلیم کیا ہے میں نے
دل کو سمجھائے کوئی، اس کی تمنا چھوڑے
نالہ و فریاد کو اپنائیں کیا
وقت کی بے مہریاں گنوائیں کیا
یہ سزائے ہجر ہے خود ساختہ
داغ ہائے رنج و غم دکھلائیں کیا
موسمِ گل ہے مگر نادان دل
کس لیے مغموم ہے بتلائیں کیا
محبت زندہ رکھتی ہے
محبت ایک جذبہ ہے
لطافت سے گُندھا، پاکیزہ تر
اک جذبۂ خالص
کہ ہے جس کے رگ و پے میں
صداقت، حوصلہ مندی