دل میں جب بھی شکوک پلتے ہیں
حادثے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
وقت پھر ہاتھ میں نہیں ہوتا
ٹھوکریں کھا کے جب سنبھلتے ہیں
لوگ عجلت میں فیصلے کر کے
عمر بھر صرف ہاتھ ملتے ہیں
شکل انسان کی بدلتی ہے
آئینے عکس کب بدلتے ہیں
عشق کی جستجو میں چل دیکھو
سلسلے دور تک نکلتے ہیں
کوئی سمجھا سکے تو سمجھائے
لوگ کیوں راستا بدلتے ہیں
یہ جہاں کس کو راس آیا ہے
آؤ تزین ہم بھی چلتے ہیں
تزئین راز
No comments:
Post a Comment