دیے کی گود میں جگنو کبھی نہیں پلتے
بڑے مزاج کے لوگوں سے ہم نہیں ملتے
ہوا اداس ہو یارو تو ایسے عالم میں
شجر تو دور ہے، پتے تلک نہیں ہلتے
کسی کی چپ پہ کبھی تبصرہ نہیں کرنا
کہ راز دل کے سرِ انجمن نہیں کھلتے
یہاں کے لوگ بہاروں سے خوف کھاتے ہیں
ہمارے شہر میں اب پھول ہی نہیں کھلتے
جو لوگ آنکھیں جلاتے ہوں روشنی کے لیے
چراغ ان کے گھروں میں کبھی نہیں جلتے
خدا کی ذات پہ عابد یقین لازم ہے
دعا سے حادثے ورنہ کبھی نہیں ٹلتے
عابد بنوی
No comments:
Post a Comment