Showing posts with label ‌محسن بھوپالی. Show all posts
Showing posts with label ‌محسن بھوپالی. Show all posts

Thursday, 15 January 2026

بدن تو جل گئے سائے بچا لیے ہم نے

 بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے

جہاں بھی دھوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے

اُس امتحان میں سنگین کس طرح اُٹھتی

دُعا کے واسطے جب ہاتھ اُٹھا لیے ہم نے

کٹھن تھی شرطِ رہِ مستقِیم، کیا کرتے

ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لیے ہم نے

Wednesday, 4 September 2024

محسن غم مت کر

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے


محسن غم مت کر

ہر بارش میں بڑھ جاتا ہے

سرکنڈوں کا قد


محسن بھوپالی

Wednesday, 7 February 2024

دور کونج کی ڈار کہہ گئی جیون راز

 ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/٭ہائیکو/تروینی/ترائلے


دور کونج کی ڈار

اوجھل ہوتے ہوتے بھی 

کہہ گئی جیون راز


محسن بھوپالی 

Wednesday, 4 October 2023

سانحہ یاد نہیں راہ کے کھو جانے کا

 سانحہ یاد نہیں راہ کے کھو جانے کا

ہاں مگر قافلے والوں کے بھی سو جانے کا

غمِ ایّام کے بخشے ہُوئے لمحوں کی قسم

بزمِ تخیّل سے تو نام نہ لو جانے کا

اب شناسا بھی مِلا کرتے ہیں غیروں کی طرح

یہ صِلہ ہم کو مِلا آپ کے ہو جانے کا

Thursday, 23 March 2023

مرے وطن سدا یونہی سجی رہے یہ انجمن

 ملی ترانہ


مِرے وطن

سدا یونہی سجی رہے یہ انجمن

جواں رہے ہمیشہ تیرا بانکپن

مِرے وطن

عظیم تیرے کوہسار، تِری چوٹیاں

ارم سے بھی حسین ہیں یہ تیری وادیاں

Monday, 26 December 2022

رات بھر جینے سے کیا شمع شبستاں کی طرح

 رات بھر جینے سے کیا شمع شبستاں کی طرح

ایک لمحہ ہے بہت شعلۂ‌‌ رقصاں کی طرح

دل کے زخموں پہ بھی پھولوں کا گماں ہوتا ہے

یاد آئی ہے تِری موجِ بہاراں کی طرح

کیوں ہو خاموش رفیقان‌ِ چمن کچھ تو کہو

صبح‌ِ گلشن بھی نہ گزرے شبِ زنداں کی طرح

Tuesday, 22 November 2022

بدن تو جل گئے سائے بچا لیے ہم نے

 بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے

جہاں بھی دھوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے

اس امتحان میں سنگین کس طرح اٹھتی

دعا کے واسطے جب ہاتھ اٹھا لیے ہم نے

کٹھن تھی شرطِ رہِ مستقیم، کیا کرتے

ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لیے ہم نے

Saturday, 28 December 2019

دوراہے پر بچھڑنا ہے تم کو​ بچھڑ جاؤ لیکن

دوراہے پر

بچھڑنا ہے تم کو​
بچھڑ جاؤ، لیکن​
کسی سنگِ الزام سے تو نوازو​
 اگر زندگی کے کسی موڑ پر ہم ملیں​
تو ہمارے لبوں پر​

Sunday, 21 January 2018

یہ طے ہوا ہے کہ قاتل کو بھی دعا دیجے

یہ طے ہوا ہے کہ قاتل کو بھی دعا دیجے 
خود اپنا خون بہا پھر بھی خوں بہا دیجے 
نیاز و ناز بجا ہیں مگر یہ شرط وصال 
ہے سنگ راہ‌ تعلق اسے ہٹا دیجے 
سنا تھا ہم نے کہ منزل قریب آ پہنچی 
کہاں ہیں آپ، اگر ہو سکے صدا دیجے 

سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ

سہمے سہمے چلتے پھرتے لاشے جیسے لوگ 
وقت سے پہلے مر جاتے ہیں کتنے ایسے لوگ 
سر پر چڑھ کر بول رہے ہیں پودے جیسے لوگ 
پیڑ بنے خاموش کھڑے ہیں کیسے کیسے لوگ 
چڑھتا سورج دیکھ کے خوش ہیں کون نہیں سمجھائے 
تپتی دھوپ میں کمہلائیں گے غنچے جیسے لوگ 

سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے

سروں کی فصل کاٹی جا رہی ہے 
وہ دیکھو سرخ آندھی آ رہی ہے 
ہٹا لو صحن سے کچے گھڑوں کو 
کہیں ملہار سوہنی گا رہی ہے 
مِری دستار کیسے بچ سکے گی 
قسم وہ میرے سر کی کھا رہی ہے 

Sunday, 8 January 2017

دعاگو دعا کرنے والے

دعاگو

یہ جو حادثوں
اور بیماریوں سے
میں بچتا رہا ہوں
ہیں باقی ابھی کچھ
مِری زندگی کی

جام تہی قبول نہ تھا غم سمو لئے

جام تہی قبول نہ تھا، غم سمو لیے
پھولوں کے انتظار میں کانٹے چبھو لیے
محرومئ دوام بھی کیا لطف دے گئی
یہ سوچ کر ہنسے ہیں کہ اک عمر رو لیے
ہم ہیں وہ سادہ لوح کہ پا کر رضائے دوست
خود اپنے ہاتھ اپنے ہی خوں میں ڈبو لیے

انتباہ مفروضے کی بنا پر خود فیصلہ سنا کر

انتباہ

مفروضے کی بِنا پر خود فیصلہ سنا کر
ماضی نے جو دیا تھا اس درس کو بھلا کر
اک فرد کے بہانے
تم قوم کو مٹانے کا عزم کر چکے ہو
آبادیوں کو یکسر مسمار کر رہے ہو

Saturday, 7 January 2017

وطن اہل زمیں میں بٹ گیا ہے

کراچی کرچیوں میں بٹ گیا ہے
یہ اپنے آئینے سے کٹ گیا ہے
تسلط کی کشا کش میں بالآخر
یہ چشمہ خاروخس سے پٹ گیا ہے
ملی ہے یوں بھی دادِ تشنہ کامی
جو ہم پہنچے تو دریا ہٹ گیا ہے

واعظ وعظ فرما کے وہ گارڈ کے ساتھ

واعظ

وعظ فرما کے وہ
گارڈ کے ساتھ
اپنی پجیرو میں کب کے چلے بھی گئے
اور میں سات نمبر کے اسٹاپ پر
ڈیڑھ گھنٹے سے ہوں

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
وہ شخص لہجہ بڑا دل نشین رکھتا تھا
اتر گیا ہے رگوں میں میری لہو بن کر
وہ زہر ذائقہ بڑا انگبین رکھتا تھا
گزرنے والے نہ یوں سرسری گزر دل سے
مکاں شکستہ سہی، پر مکین رکھتا تھا

Wednesday, 4 January 2017

تسلسل ٹوٹ جائے گا

تسلسل ٹوٹ جائے گا

نہ چھیڑو کھلتی کلیوں ہنستے پھولوں کو
ان اڑتی تتلیوں آوارہ بھونروں کو
تسلسل ٹوٹ جائے گا

فضا محو سماعت ہے
حسیں ہونٹوں کو نغمہ ریز رہنے دو

ہے وجہ تماشائے جہاں دل شکنی بھی

ہے وجہ تماشائے جہاں دل شکنی بھی
منظور ہے اے دوست! یہ نیزے کی انی بھی
شاداب درختوں کے بھی سائے ہیں گریزاں 
اک جرم ہوئی میری غریب الوطنی بھی
پیتے ہی رہے گردش ایام کے ہاتھوں 
صہبائے ملامت بھی، غمِ طعنہ زنی بھی

چمن چمن اسی رنگیں قبا کو دیکھتے ہیں

چمن چمن اسی رنگیں قبا کو دیکھتے ہیں
ہر ایک جلوے میں جلوہ نما کو دیکھتے ہیں
تیرے مزاج سے ہم اس قدر ہوئے مانوس
کہ شاخ گل میں بھی تیری ادا کو دیکھتے ہیں
کلی پہ تیرے لبوں کا گماں گزرتا ہے
گلوں میں ہم تِرے رنگ حنا کو دیکھتے ہیں