بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے
جہاں بھی دھوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے
اُس امتحان میں سنگین کس طرح اُٹھتی
دُعا کے واسطے جب ہاتھ اُٹھا لیے ہم نے
کٹھن تھی شرطِ رہِ مستقِیم، کیا کرتے
ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لیے ہم نے
بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے
جہاں بھی دھوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے
اُس امتحان میں سنگین کس طرح اُٹھتی
دُعا کے واسطے جب ہاتھ اُٹھا لیے ہم نے
کٹھن تھی شرطِ رہِ مستقِیم، کیا کرتے
ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لیے ہم نے
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
محسن غم مت کر
ہر بارش میں بڑھ جاتا ہے
سرکنڈوں کا قد
محسن بھوپالی
ماہیا/ثلاثی/سہ حرفی/٭ہائیکو/تروینی/ترائلے
دور کونج کی ڈار
اوجھل ہوتے ہوتے بھی
کہہ گئی جیون راز
محسن بھوپالی
سانحہ یاد نہیں راہ کے کھو جانے کا
ہاں مگر قافلے والوں کے بھی سو جانے کا
غمِ ایّام کے بخشے ہُوئے لمحوں کی قسم
بزمِ تخیّل سے تو نام نہ لو جانے کا
اب شناسا بھی مِلا کرتے ہیں غیروں کی طرح
یہ صِلہ ہم کو مِلا آپ کے ہو جانے کا
ملی ترانہ
مِرے وطن
سدا یونہی سجی رہے یہ انجمن
جواں رہے ہمیشہ تیرا بانکپن
مِرے وطن
عظیم تیرے کوہسار، تِری چوٹیاں
ارم سے بھی حسین ہیں یہ تیری وادیاں
رات بھر جینے سے کیا شمع شبستاں کی طرح
ایک لمحہ ہے بہت شعلۂ رقصاں کی طرح
دل کے زخموں پہ بھی پھولوں کا گماں ہوتا ہے
یاد آئی ہے تِری موجِ بہاراں کی طرح
کیوں ہو خاموش رفیقانِ چمن کچھ تو کہو
صبحِ گلشن بھی نہ گزرے شبِ زنداں کی طرح
بدن تو جل گئے، سائے بچا لیے ہم نے
جہاں بھی دھوپ ملی، گھر بنا لیے ہم نے
اس امتحان میں سنگین کس طرح اٹھتی
دعا کے واسطے جب ہاتھ اٹھا لیے ہم نے
کٹھن تھی شرطِ رہِ مستقیم، کیا کرتے
ہر ایک موڑ پہ کتبے سجا لیے ہم نے