جام تہی قبول نہ تھا، غم سمو لیے
پھولوں کے انتظار میں کانٹے چبھو لیے
محرومئ دوام بھی کیا لطف دے گئی
یہ سوچ کر ہنسے ہیں کہ اک عمر رو لیے
ہم ہیں وہ سادہ لوح کہ پا کر رضائے دوست
جس سمت سے بھی بانگِ جرس آئی دشت میں
دیوانگانِ شوق اسی سمت ہو لیے
پچھلا پہر ہے شب کا کہ ہے شام کا سماں
وہ کیا بتا سکیں گے جو اک نیند سو لیے
کیا جبر ہے، ثبوتِ وفا پیش کیجیۓ
اور ان کا نام آئے تو پھر لب نہ کھولیے
محسؔن زبان دیجیۓ بزم خموش کو
مہمل ہے آج لفظ سخن، کچھ تو بولیے
محسن بھوپالی
No comments:
Post a Comment