آنسوو! آشکار مت ہونا
بے طرح بیقرار مت ہونا
تیری توقیر خاک ہی نہ ہو
اشک تو گریہ زار مت ہونا
درد سارے گھٹا کو پہنا دے
تُو مگر اشکبار مت ہونا
آنسوو! آشکار مت ہونا
بے طرح بیقرار مت ہونا
تیری توقیر خاک ہی نہ ہو
اشک تو گریہ زار مت ہونا
درد سارے گھٹا کو پہنا دے
تُو مگر اشکبار مت ہونا
زخم کھا کے دل پہ، جیون کا سفر ہوتا رہا
اور آنکھوں میں سمندر کا نگر ہوتا رہا
چاپ تک نہ سن سکے جب دل میں وہ داخل ہوا
دور اب نہ جائے، بس دل کو یہ ڈر ہوتا رہا
گرد رہ رہبر ہوئی اور راستے بچھتے گئے
ہر قدم ہی اب چراغِ رہگزر ہوتا رہا
درد بوئے تو ہنر کاٹے ہیں
خون ٹپکا کے سخن بانٹے ہیں
تنگ تاریک، تخیل کا نگر
صرف سناٹے ہی سناٹے ہیں
زخم کے پھول سجائے لب پہ
قلب میں دھنستے ہوئے کانٹے ہیں
سوچتی ہوں کہ چاند شاخوں پر
اور اگیں پھول آسمانوں پر
لوگ سورج پہ چل رہے ہوتے
اور زمیں، دھول، آسمانوں پر
اشرف الخلق سب پرندے ہوں
جو ہیں مقبول آسمانوں پر
آج کچھ دل اداس اور ہی ہے
جا بجا ہی نراس اور ہی ہے
میری سانسوں میں سانس ہے جس سے
اس کی سانسوں کی باس اور ہی ہے
لوگ جینے کی آرزو رکھیں
موت سے ہم کو، آس اور ہی ہے