Showing posts with label ساجدہ انور. Show all posts
Showing posts with label ساجدہ انور. Show all posts

Sunday, 6 March 2022

آنسوو آشکار مت ہونا

آنسوو! آشکار مت ہونا

بے طرح بیقرار مت ہونا

تیری توقیر خاک ہی نہ ہو

اشک تو گریہ زار مت ہونا

درد سارے گھٹا کو پہنا دے

تُو مگر اشکبار مت ہونا

Monday, 21 February 2022

زخم کھا کے دل پہ جیون کا سفر ہوتا رہا

 زخم کھا کے دل پہ، جیون کا سفر ہوتا رہا

اور آنکھوں میں سمندر کا نگر ہوتا رہا

چاپ تک نہ سن سکے جب دل میں وہ داخل ہوا

دور اب نہ جائے، بس دل کو یہ ڈر ہوتا رہا

گرد رہ رہبر ہوئی اور راستے بچھتے گئے

ہر قدم ہی اب چراغِ رہگزر ہوتا رہا

Wednesday, 16 February 2022

درد بوئے تو ہنر کاٹے ہیں

 درد بوئے تو ہنر کاٹے ہیں

خون ٹپکا کے سخن بانٹے ہیں

تنگ تاریک، تخیل کا نگر

صرف سناٹے ہی سناٹے ہیں

زخم کے پھول سجائے لب پہ

قلب میں دھنستے ہوئے کانٹے ہیں

Monday, 14 February 2022

سوچتی ہوں کہ چاند شاخوں پر

 سوچتی ہوں کہ چاند شاخوں پر

اور اگیں پھول آسمانوں پر

لوگ سورج پہ چل رہے ہوتے

اور زمیں، دھول، آسمانوں پر

اشرف الخلق سب پرندے ہوں

جو ہیں مقبول آسمانوں پر

Sunday, 13 February 2022

آج کچھ دل اداس اور ہی ہے

 آج کچھ دل اداس اور ہی ہے

جا بجا ہی نراس اور ہی ہے

میری سانسوں میں سانس ہے جس سے

اس کی سانسوں کی باس اور ہی ہے

لوگ جینے کی آرزو رکھیں

موت سے ہم کو، آس اور ہی ہے