عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لفظوں میں ان کا نقشِ کف پا دکھائی دے
نعتِ نبیﷺ کہوں تو مدینہ دکھائی دے
ہر دم ہو جس کو رحمتِ عالم تیرا خیال
طوفان میں بھی اس کو جزیرہ دکھائی دے
نعتِ نبیؐ کے ساتھ میں پڑھتی رہوں درود
مجھ کو یہی نجات کا رستہ دکھائی دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لفظوں میں ان کا نقشِ کف پا دکھائی دے
نعتِ نبیﷺ کہوں تو مدینہ دکھائی دے
ہر دم ہو جس کو رحمتِ عالم تیرا خیال
طوفان میں بھی اس کو جزیرہ دکھائی دے
نعتِ نبیؐ کے ساتھ میں پڑھتی رہوں درود
مجھ کو یہی نجات کا رستہ دکھائی دے
یہ زندگی تو ایک بہانہ ہے اور بس
کچھ دن کا تجھ سے ملنا ملانا ہے اور بس
ماں تھی شجر تھا اور پرندے تھے بے شمار
اب اس مکاں میں دفن خزانہ ہے اور بس
جب تک تمہاری آنکھ میں موجود ہوں تو ہوں
تم نے مجھے یہاں سے گرانا ہے اور بس
اب کسی اجنبی سے کوئی شکایت کیسی
جب محبت ہی نہ تھی تجھ سے تو نفرت کیسی
تُو نے تو چھوڑ دیا تھا مجھے مرنے کے لیے
دیکھ چڑیوں سے ہوئی مجھ کو محبت کیسی
مدتوں بعد مِلا ہے تو بتاؤں گی تجھے
مجھ پہ گزری ہے تِرے بعد قیامت کیسی
بہے ہیں اشک نہ ابھری ہیں سسکیاں میری
ہوا سناتی پھری ہے کہانیاں میری
مِری اداسی کا جب بھی انہیں ہوا معلوم
تمہارا پوچھنے آئیں سہیلیاں میری
یہ گھر کے لوگ چلے جائیں گے پہاڑوں پر
تِرے خیال میں گزریں گی چھٹیاں میری
غلط ایگزٹ
مگر یہ زندگی کی ہائی وے پہ چلنے والے کب سمجھتے ہیں
غلط ایگزٹ سے مُڑ جائیں تو منزل چھُوٹ جاتی ہے
مجھے بھی ایک ایگزٹ پہلے مُڑنے کی اذیت ہے
مِرے پیشِ نظر بھی ایک ان دیکھی مسافت ہے
یہاں سے لوٹنا نہ منزل تک پہنچ پانا
کوئی تہمت لگائے تو اذیت کم نہیں ہوتی
مگر میں جانتا ہوں اس سے عزت کم نہیں ہوتی
یہ وہ دولت ہے جو دل کی بدولت کم نہیں ہوتی
محبت کرتے رہنے سے محبت کم نہیں ہوتی
محبت بد گمانی کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہے
مداوا ہو بھی جائے تو شکایت کم نہیں ہوتی
میں جب بھی یاد کی شمعیں جلا کے رکھتی ہوں
یہ میری ضد ہے کہ آگے ہوا کے رکھتی ہوں
میں ٹوٹ سکتی ہوں لیکن میں جھک نہیں سکتی
شکست ذات میں پہلو انا کے رکھتی ہوں
وہ بادباں ہے اگر کشتیٔ محبت کا
میں بادبان سے رشتے ہوا کے رکھتی ہوں
محبت سے مُکر جانا ضروری ہو گیا تھا
پلٹ کے اپنے گھر جانا ضروری ہو گیا تھا
نظر انداز کرنے کی سزا دینی تھی تجھ کو
تیرے دل میں اتر جانا ضروری ہو گیا تھا
میں سناٹے کے جنگل سے بہت تنگ آ گئی تھی
کسی آواز پر جانا ضروری ہو گیا تھا