Showing posts with label ریحانہ قمر. Show all posts
Showing posts with label ریحانہ قمر. Show all posts

Tuesday, 20 June 2023

لفظوں میں ان کا نقش کف پا دکھائی دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لفظوں میں ان کا نقشِ کف پا دکھائی دے

نعتِ نبیﷺ کہوں تو مدینہ دکھائی دے

ہر دم ہو جس کو رحمتِ عالم تیرا خیال

طوفان میں بھی اس کو جزیرہ دکھائی دے

نعتِ نبیؐ کے ساتھ میں پڑھتی رہوں درود

مجھ کو یہی نجات کا رستہ دکھائی دے

Sunday, 1 May 2022

یہ زندگی تو ایک بہانہ ہے اور بس

 یہ زندگی تو ایک بہانہ ہے اور بس

کچھ دن کا تجھ سے ملنا ملانا ہے اور بس

ماں تھی شجر تھا اور پرندے تھے بے شمار

اب اس مکاں میں دفن خزانہ ہے اور بس

جب تک تمہاری آنکھ میں موجود ہوں تو ہوں

تم نے مجھے یہاں سے گرانا ہے اور بس

Friday, 3 September 2021

اب کسی اجنبی سے کوئی شکایت کیسی

اب کسی اجنبی سے کوئی شکایت کیسی

جب محبت ہی نہ تھی تجھ سے تو نفرت کیسی

تُو نے تو چھوڑ دیا تھا مجھے مرنے کے لیے

دیکھ چڑیوں سے ہوئی مجھ کو محبت کیسی

مدتوں بعد مِلا ہے تو بتاؤں گی تجھے

مجھ پہ گزری ہے تِرے بعد قیامت کیسی

Monday, 21 June 2021

بہے ہیں اشک نہ ابھری ہیں سسکیاں میری

 بہے ہیں اشک نہ ابھری ہیں سسکیاں میری

ہوا سناتی پھری ہے کہانیاں میری

مِری اداسی کا جب بھی انہیں ہوا معلوم

تمہارا پوچھنے آئیں سہیلیاں میری

یہ گھر کے لوگ چلے جائیں گے پہاڑوں پر

تِرے خیال میں گزریں گی چھٹیاں میری

Wednesday, 12 May 2021

غلط ایگزٹ مگر یہ زندگی کی ہائی وے پہ چلنے والے

 غلط ایگزٹ


مگر یہ زندگی کی ہائی وے پہ چلنے والے کب سمجھتے ہیں

غلط ایگزٹ سے مُڑ جائیں تو منزل چھُوٹ جاتی ہے

مجھے بھی ایک ایگزٹ پہلے مُڑنے کی اذیت ہے

مِرے پیشِ نظر بھی ایک ان دیکھی مسافت ہے

یہاں سے لوٹنا نہ منزل تک پہنچ پانا

Thursday, 6 May 2021

کوئی تہمت لگائے تو اذیت کم نہیں ہوتی

 کوئی تہمت لگائے تو اذیت کم نہیں ہوتی

مگر میں جانتا ہوں اس سے عزت کم نہیں ہوتی

یہ وہ دولت ہے جو دل کی بدولت کم نہیں ہوتی

محبت کرتے رہنے سے محبت کم نہیں ہوتی

محبت بد گمانی کو ہمیشہ ساتھ رکھتی ہے

مداوا ہو بھی جائے تو شکایت کم نہیں ہوتی

Tuesday, 2 March 2021

میں جب بھی یاد کی شمعیں جلا کے رکھتی ہوں

 میں جب بھی یاد کی شمعیں جلا کے رکھتی ہوں

یہ میری ضد ہے کہ آگے ہوا کے رکھتی ہوں

میں ٹوٹ سکتی ہوں لیکن میں جھک نہیں سکتی

شکست ذات میں پہلو انا کے رکھتی ہوں

وہ بادباں ہے اگر کشتیٔ محبت کا

میں بادبان سے رشتے ہوا کے رکھتی ہوں

Friday, 25 September 2020

محبت سے مکر جانا ضروری ہو گیا تھا

 محبت سے مُکر جانا ضروری ہو گیا تھا

پلٹ کے اپنے گھر جانا ضروری ہو گیا تھا

نظر انداز کرنے کی سزا دینی تھی تجھ کو

تیرے دل میں اتر جانا ضروری ہو گیا تھا

میں سناٹے کے جنگل سے بہت تنگ آ گئی تھی

کسی آواز پر جانا ضروری ہو گیا تھا

Saturday, 10 December 2016

بیٹھے رہے ہیں سامنے سرکار دیر تک

بیٹھے رہے ہیں سامنے سرکار دیر تک
ہوتا رہا ہے خواب میں دیدار دیر تک
ہے یاد مجھ کو آج بھی وہ شام جب کہ ہم
بیٹھے تھے زیرِ سایۂ اشجار دیر تک
اک بار ہاتھ میرا چھوا اس کے ہاتھ سے
بجتے رہے ہیں دل کے مِرے تار دیر تک

بلا کی دھوپ میں بھی نخل سایہ دار ہوں میں

بلا کی دھوپ میں بھی نخلِ سایہ دار ہوں میں
زمیں پہ تیری محبت کا اعتبار ہوں میں
سلگ رہا ہے محبت کی آگ میں وہ شخص
اور اس پہ گرتی ہوئی کوئی آبشار ہوں میں
تمہارے ہاتھ سے نکلوں تو بے کس و مجبور
تمہارے ہاتھ میں آؤں تو اختیار ہوں میں

Sunday, 6 November 2016

زندگی اصل میں آسان بھی دشوار بھی ہے

زندگی اصل میں آسان بھی، دشوار بھی ہے
ایک دیوار کہ دیوار کے اس پار بھی ہے
کیا کہوں تجھ سے کہ اس عشق سرائے کی فضا
سہم گوں بھی ہے، طلسمی بھی، پراسرار بھی ہے
دستِ قدرت نے بنایا ہے ہر اک پیکر کو
بھلا انسان سے بڑھ کر کوئی شہکار بھی ہے

پوری طرح کسی پہ ابھی کب عیاں ہوں میں

پوری طرح کسی پہ ابھی کب عیاں ہوں میں
خود اپنے واسطے کوئی رازِ نہاں ہوں میں
کھلنے لگے ہیں مجھ پہ سب اسرارِ کائنات 
حیرت سرائے عشق کی جانب رواں ہوں میں
نکلی تھی ایک روز خود اپنی تلاش میں 
یہ بھی خبر نہیں ہے مجھے اب کہاں ہوں میں

بادشاہا تیرے اعصاب پہ طاری میں تھی

بادشاہا! تیرے اعصاب پہ طاری میں تھی
وہ بھی دن تھے کہ تِری راج کماری میں تھی
درد کب تھا، وہ تِرے دل میں جنوں تھا میرا
اشک کب تھے وہ تِری آنکھ سے جاری میں تھی
یہ بھی سچ ہے کہ مجھے مار دیا ہے تُو نے
یہ بھی سچ ہے کہ تجھے جان سے پیاری میں تھی

پھولوں سے بھری راہ گزر کچھ بھی نہیں ہے

پھولوں سے بھری راہگزر کچھ بھی نہیں ہے
تم ساتھ نہیں ہو تو سفر کچھ بھی نہیں ہے
یہ چوڑیاں یہ پھول یہ وعدوں سے بھرے کارڈ
یہ کیا ہیں تِرے دل میں اگر کچھ بھی نہیں ہے
خوش ہوں کہ تِرے حرفِ تسلی کے مقابل
غم کچھ بھی نہیں، دیدۂ تر کچھ بھی نہیں ہے

Monday, 24 November 2014

کھڑکیاں مت بجا میں نہیں بولتی

کھڑکیاں مت بجا میں نہیں بولتی
جا او جھوٹی ہوا! میں نہیں بولتی
چھوڑ دے، میری دہلیز کو چھوڑ دے
تجھ سے کہہ جو دیا، میں نہیں بولتی
مجھ سے اب میٹھے لہجے میں باتیں نہ کر
میرا دل بجھ چکا، میں نہیں بولتی

سب کا احسان اٹھانے کی ضرورت کیا ہے

سب کا احسان اٹھانے کی ضرورت کیا ہے
ساتھ ہو تم، تو زمانے کی ضرورت کیا ہے
مسئلہ دونوں کا ہے، طے بھی کریں گے دونوں
شہر کو بیچ میں لانے کی ضرورت کیا ہے
دل سے طے کر کے کسی روز الگ ہو جاؤ
چھوڑنا ہے، تو بہانے کی ضرورت کیا ہے

دیکھوں گی گھر کے خواب نہ ہجرت لکھوں گی میں

دیکھوں گی گھر کے خواب نہ ہجرت لکھوں گی میں
اس بار، کوئی اور مسافت لکھوں گی میں
اس زندگی نے جو بھی مجھے دکھ دیئے، دیئے
لیکن، انہیں بھی تیری عنایت لکھوں گی میں
میری غزل میں ذکرِ زمانہ نہ آئے گا
طے یہ ہوا ہے صرف محبت لکھوں گی میں

Monday, 6 January 2014

بچپن کی وہ محرومی چلی آئی کہاں سے

بچپن کی وہ محرومی چلی آئی کہاں سے
روتی ہوئی نکلی میں کھلونوں کی دکاں سے
تم دونوں محاذوں پہ میرا ساتھ نبھانا
اِک جنگ میری خود سے ہے، اک جنگ جہاں سے
یہ گھر ہے، مگر اس کا دریچہ نہیں کوئی
اب دیکھنا یہ ہے، میں نکلتی ہوں کہاں سے