Saturday, 10 December 2016

بیٹھے رہے ہیں سامنے سرکار دیر تک

بیٹھے رہے ہیں سامنے سرکار دیر تک
ہوتا رہا ہے خواب میں دیدار دیر تک
ہے یاد مجھ کو آج بھی وہ شام جب کہ ہم
بیٹھے تھے زیرِ سایۂ اشجار دیر تک
اک بار ہاتھ میرا چھوا اس کے ہاتھ سے
بجتے رہے ہیں دل کے مِرے تار دیر تک
کہنے کو گرچہ ایک ذرا سی وہ بات تھی
کرتی رہی ہوں خود سے میں تکرار دیر تک
تا دیر میری سانسیں مہکتی رہیں قمرؔ 
آتی رہی ہے پھول کی مہکار دیر تک

ریحانہ قمر

No comments:

Post a Comment