Saturday, 10 December 2016

اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے

 اپنوں سے مروت کا تقاضا نہیں کرتے 

صحراؤں میں سائے کی تمنا نہیں کرتے

مجنوں پہ نہ کر رشک، کہ جو اہلِ وفا ہیں

مر جاتے ہیں معشوق کو رسوا نہیں کرتے

ٹک دیکھ لیا آنکھوں ہی آنکھوں میں، ہنسے بھی

پر یوں تو علاجِ دلِ شیدا نہیں کرتے

کیا ہو گیا اس شہر کے لوگوں کے دلوں کو

خنجر بھی اتر جائے تو، دھڑکا نہیں کرتے

بارش کی طلب ہے، تو سمندر کی طرف جا

یہ ابر تو صحراؤں پہ برسا نہیں کرتے

دو دن کی جو باقی ہے، تحمل سے بسر کر 

جو ہونا ہے، ہو جائے گا سوچا نہیں کرتے

پچھتاوے سے بڑھ کر کوئی آزار نہیں ہے

جب دل کو لگاتے ہیں، تو رویا نہیں کرتے

مایوسی کی نعمت بڑی مشکل سے ملی ہے

پھر آس بندھاتے ہو،۔ تم اچھا نہیں کرتے

جو کچھ کہے شہرؔت کی غزل، مان لو اس کو

دل کو کبھی شاعر کے دُکھایا نہیں کرتے


شہرت بخاری

No comments:

Post a Comment