Showing posts with label اطہر صدیقی. Show all posts
Showing posts with label اطہر صدیقی. Show all posts

Tuesday, 1 March 2022

ترے انتظار میں کیا ملا ترے اعتبار نے کیا دیا

 تِرے انتظار میں کیا ملا، تِرے اعتبار نے کیا دیا

کبھی کوئی زخم تپاں ہوا کبھی کوئی داغ کھلا دیا

یہ شب سفر بھی وبال ہے نہ فراق ہے نہ وصال ہے

اسی شب نے نیند حرام کی اسی شب نے ہم کو سلا دیا

مِرے شہرِ گل مِری ارضِ جاں کہیں کوئی ان کا بھی ہے نشاں

تِری بے خیال ہواؤں نے جنہیں راستے سے ہٹا دیا

Sunday, 2 January 2022

اے سوز دروں رنگ وفا اور ہی کچھ ہے

 اے سوزِ دروں رنگِ وفا اور ہی کچھ ہے

اب دل کے دھڑکنے کی صدا اور ہی کچھ ہے

کوچے میں تِرے شورِ فغاں کم نہیں لیکن

درویشِ دعا گو کی صدا اور ہی کچھ ہے

دلکش ہے بہت پیرہن لالہ و گل بھی

لیکن تِرا انداز‌ِ قبا اور ہی کچھ ہے

Friday, 3 December 2021

سارے موسم ہیں مہربان سے کچھ

 سارے موسم ہیں مہربان سے کچھ

روز اترتا ہے آسمان سے کچھ

ہر عبارت سوال جیسی ہے

لفظ غائب ہیں درمیان سے کچھ

کس کی لو نے جلا دیا کس کو

راکھ میں ہیں ابھی نشان سے کچھ

Wednesday, 1 December 2021

اس ہجوم بے اماں میں کوئی اپنا بھی تو ہو

 اس ہجومِ بے اماں میں کوئی اپنا بھی تو ہو

میں گلے کس کو لگاؤں کوئی زندہ بھی تو ہو

برگِ آوارہ ہوا نا آشنا بے مہر پھول

آتے جاتے موسموں میں کوئی ٹھہرا بھی تو ہو

سب گھروں میں لذتِ آسودگی ہے خیمہ زن

میں صدا کیا دوں یہاں پر کوئی سنتا بھی تو ہو

Tuesday, 30 November 2021

جو مجھ پہ قرض ہے اس کو اتار جاؤں میں

 جو مجھ پہ قرض ہے اس کو اتار جاؤں میں

یہ اور بات ہے جیتو کہ ہار جاؤں میں

کبھی میں خواب میں دیکھوں ہری بھری فصلیں

کبھی خیال کے دریا کے پار جاؤں میں

💢اک اور معرکۂ جبر و اختیار سہی💢

💢اک اور لمحۂ تازہ گزار جاؤں میں💢

Saturday, 25 September 2021

گرفت سایۂ دیوار سے نکل آیا

 گرفتِ سایۂ دیوار سے نکل آیا

میں ایک عمر کے آزار سے نکل آیا

نہ جاننا بھی تو اک جاننے کی صورت ہے

عجیب رُخ مِرے انکار سے نکل آیا

میں اپنی قیمتِ احساس کے جواز میں تھا

سو یہ ہوا کہ میں بازار سے نکل آیا