Showing posts with label احمد ہمیش. Show all posts
Showing posts with label احمد ہمیش. Show all posts

Friday, 8 July 2022

جہاں سے ہوتا ہے پیارے خدا کا نام شروع

جہاں سے ہوتا ہے پیارے خدا کا نام شروع 

وہیں سے کرتے ہم زندگی کا کام شروع 

یہ کیسی راہ سفر ہے یہ کیسا عالم ہے 

کہ پاؤں رکھیں جہاں بھی وہیں مقام شروع 

جہاں پہ ہوتا ہے دل پہ نزول بار عذاب 

وہیں سے ہوتا ہے دنیا کا یہ نظام شروع 

Thursday, 30 June 2022

کوڑے کا ڈبا کہتا ہے مجھ سے نفرت مت کرو

 کوڑے کا ڈبا کہتا ہے

مجھ سے نفرت مت کرو

کبھی میرے بھیتر جھانک کر دیکھو

میں تمہارا دل ہوں

مجھ سے نفرت مت کرو

میں تو جوٹھے کھانوں، باسی روٹی کے ٹکڑوں اور

Sunday, 27 March 2022

صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں

صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں 

عجیب ہے بساط عشق عجب نظام الاماں 

تھے کبھی جو سرخرو وہ تو ہم نہیں رہے 

تم تو ہو چنیں چناں تمہارا نام الاماں 

گزر گئی یہ زندگی قدم قدم گھسیٹ کے 

موت بھی آ رہی ہے کیا گام بہ گام الاماں 

Thursday, 15 April 2021

دن کی گہری دھوپ نے جو جو گھاؤ دئیے ہیں

 شام


دن کی گہری دھوپ نے

جو جو گھاؤ دئیے ہیں

ان میں میرے درد کا کوئی بھید نہ ڈھونڈو

میرے دُکھ تو ان دیکھے ہیں

دیکھو

Tuesday, 13 April 2021

وہ کون تھی کہاں ملی مجھے تو کچھ پتہ نہیں

 جھونکا


وہ کون تھی، کہاں ملی

مجھے تو کچھ پتہ نہیں

مگر وہ جب چلی گئی

تو دور تک خیال میں

ہوا کا تیز شور تھا

نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی

 نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی

نہیں ہے کوئی بھی دنیا میں سلسلہ باقی 

یہ کھیل ختم کرو اقتدار کا یہ کھیل 

کہ ہے قریب اجل کے تِرا گلا باقی 

مقام عبرت فانی سے کون ہے محفوظ

کہ کون حاکمِ اسباب رہ گیا باقی

Thursday, 8 April 2021

کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے

 کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے

دل سلامت نہیں تو کیا رکھیے

لکھیے کچھ اور داستان دل

اور زمانہ کو مبتلا رکھیے

سر میں سودا رہے محبت کا

پاؤں میں خاک کی انا رکھیے

Friday, 20 November 2020

کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں

 کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں

ہمیں زندگی سے ہو بحث کیا، کوئی واقعہ تو ہوا نہیں

مگر ایسی کوئی خلش بھی تھی جو فقط ہمارا نصیب تھی

کہ جو روگ ہم نے لگا لیا، کسی اور کو تو لگا نہیں

ذرا دیکھنا کہ وہ کون ہے؟ پس رمز وحشت عاشقی

بھلا کس نے ہم کو شکست دی کبھی پہلے ایسا ہوا نہیں

تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن

 تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن

تم راہ سے بچھڑے تھے کہ بس ڈوب گیا دن

جو تم سے مہک جائے اک ایسی نہ ملی رات

جو تم سے چمک جائے اک ایسا نہ ملا دن

اک رنگئی حالات سے پتھرا گئیں آنکھیں

جس طرح کٹی رات اسی طرح کٹا دن

Thursday, 19 November 2020

ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے

 ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے

زمیں زیر و زبر کر دی گئی ہے

یہ کالی رات ہے دو چار پل کی

یہ کہنے میں سحر کر دی گئی ہے

تعارف کو ذرا پھیلا دیا ہے

کہانی مختصر کر دی گئی ہے