جہاں سے ہوتا ہے پیارے خدا کا نام شروع
وہیں سے کرتے ہم زندگی کا کام شروع
یہ کیسی راہ سفر ہے یہ کیسا عالم ہے
کہ پاؤں رکھیں جہاں بھی وہیں مقام شروع
جہاں پہ ہوتا ہے دل پہ نزول بار عذاب
وہیں سے ہوتا ہے دنیا کا یہ نظام شروع
جہاں سے ہوتا ہے پیارے خدا کا نام شروع
وہیں سے کرتے ہم زندگی کا کام شروع
یہ کیسی راہ سفر ہے یہ کیسا عالم ہے
کہ پاؤں رکھیں جہاں بھی وہیں مقام شروع
جہاں پہ ہوتا ہے دل پہ نزول بار عذاب
وہیں سے ہوتا ہے دنیا کا یہ نظام شروع
کوڑے کا ڈبا کہتا ہے
مجھ سے نفرت مت کرو
کبھی میرے بھیتر جھانک کر دیکھو
میں تمہارا دل ہوں
مجھ سے نفرت مت کرو
میں تو جوٹھے کھانوں، باسی روٹی کے ٹکڑوں اور
صبح فراق الاماں وصل کی شام الاماں
عجیب ہے بساط عشق عجب نظام الاماں
تھے کبھی جو سرخرو وہ تو ہم نہیں رہے
تم تو ہو چنیں چناں تمہارا نام الاماں
گزر گئی یہ زندگی قدم قدم گھسیٹ کے
موت بھی آ رہی ہے کیا گام بہ گام الاماں
شام
دن کی گہری دھوپ نے
جو جو گھاؤ دئیے ہیں
ان میں میرے درد کا کوئی بھید نہ ڈھونڈو
میرے دُکھ تو ان دیکھے ہیں
دیکھو
جھونکا
وہ کون تھی، کہاں ملی
مجھے تو کچھ پتہ نہیں
مگر وہ جب چلی گئی
تو دور تک خیال میں
ہوا کا تیز شور تھا
نہ گھر ہے کوئی نہ سامان کچھ رہا باقی
نہیں ہے کوئی بھی دنیا میں سلسلہ باقی
یہ کھیل ختم کرو اقتدار کا یہ کھیل
کہ ہے قریب اجل کے تِرا گلا باقی
مقام عبرت فانی سے کون ہے محفوظ
کہ کون حاکمِ اسباب رہ گیا باقی
کس توقع پہ کیا اٹھا رکھیے
دل سلامت نہیں تو کیا رکھیے
لکھیے کچھ اور داستان دل
اور زمانہ کو مبتلا رکھیے
سر میں سودا رہے محبت کا
پاؤں میں خاک کی انا رکھیے
کبھی تم نے کچھ تو دیا نہیں کبھی ہم نے کچھ تو لیا نہیں
ہمیں زندگی سے ہو بحث کیا، کوئی واقعہ تو ہوا نہیں
مگر ایسی کوئی خلش بھی تھی جو فقط ہمارا نصیب تھی
کہ جو روگ ہم نے لگا لیا، کسی اور کو تو لگا نہیں
ذرا دیکھنا کہ وہ کون ہے؟ پس رمز وحشت عاشقی
بھلا کس نے ہم کو شکست دی کبھی پہلے ایسا ہوا نہیں
تم ساتھ چلے تھے تو مرے ساتھ چلا دن
تم راہ سے بچھڑے تھے کہ بس ڈوب گیا دن
جو تم سے مہک جائے اک ایسی نہ ملی رات
جو تم سے چمک جائے اک ایسا نہ ملا دن
اک رنگئی حالات سے پتھرا گئیں آنکھیں
جس طرح کٹی رات اسی طرح کٹا دن
ادھر کی شے ادھر کر دی گئی ہے
زمیں زیر و زبر کر دی گئی ہے
یہ کالی رات ہے دو چار پل کی
یہ کہنے میں سحر کر دی گئی ہے
تعارف کو ذرا پھیلا دیا ہے
کہانی مختصر کر دی گئی ہے