Showing posts with label نجم آفندی. Show all posts
Showing posts with label نجم آفندی. Show all posts

Wednesday, 17 July 2024

آیا وہ وقت ظہر کا مابین کارزار

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


آیا وہ وقت ظہر کا مابینِ کارزار

آگے بڑھا نماز کو حیدرؑ کا ورثہ دار

تیر آ رہے تھے لشکرِ اعدا سے بار بار

صف میں بڑھے سعیدؓ و زہیرؓ وفا شعار

یہ جاں نثاریاں تھیں جو رتبے بڑے ہوئے

الله! یہ امامؑ سے آگے کھڑے ہوئے

Saturday, 13 January 2024

اثر شہادت عظمیٰ کا جاودانی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اثر شہادتِ عظمیٰ کا جاوِدانی ہے

غمِ حسینؑ ہے باقی، جہان فانی ہے

حسینؑ نے جو دیا جان دے کے درسِ عمل

سمجھ لے کوئی تو دستورِ زندگانی ہے

لگا رکھا ہے غمِ کربلا سے سینے کو

بہت غموں سے مجھے طاقت آزمانی ہے

Wednesday, 10 January 2024

جاتے ہو کہاں دوش پہ زلفوں کو سنبھالے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


جاتے ہو کہاں دوش پہ زلفوں کو سنبھالے

مقتول کی مظلوم کی آغوش کے پالے

نازک ہیں بہت پاؤں میں پڑ جائیں گے چھالے

قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے

یہ قصۂ غم سیِّدِ والا سے کہو گے

لُوٹا ہے مسلمانوں نے، دادا سے کہو گے

Sunday, 7 January 2024

یثرب کی نینوا کے ستم پر نظر نہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


یثرب کی نینوا کے ستم پر نظر نہیں

گھر کس کا لُٹ رہا ہے کسی کو خبر نہیں

آئی اگر تو ایسی قیامت نہ آئے گی

عشرے کی صُبح صُبحِ قیامت اگر نہیں

پیشِ نظر حسینؑ کے ہیں دو جہاں مگر

اللہ پر نظر ہے،۔ کسی پر نظر نہیں

Friday, 17 November 2023

درد دل کیا کہیں رستے میں پڑا ملتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دردِ دل کیا کہیں رستے میں پڑا ملتا ہے؟

حق کے محبوبؐ سے نسبت ہو تو آ ملتا ہے

دل کا کیا حال ہو حاصل جو حضوری ہو جائے

اُسﷺ کی فرقت میں تڑپنے سے مزا ملتا ہے

کچھ خبر بھی ہے تجھے نان و نمک کے سائل؟

اُسﷺ کے کُوچے میں گدائی سے خدا ملتا ہے

Monday, 24 July 2023

اے علی کی لاڈلی آغوش زہرا کی پلی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


اے علیؑ کی لاڈلی، آغوشِ زہراؑ کی پلی

ہو بہو صورت میں زہراؑ، اور تیور میں علیؑ

اپنے بھائی کی بہن، روحِ بہارِ کربلا

پیکرِ ہمت، شریکِ کارزارِ کربلا

تیری ہستی آیۂ تطہیر کی تفسیر تھی

تیرے چہرے کی جلالت چادرِ تطہیر تھی

Friday, 16 June 2023

مسکراہٹیں سیکھیں قہر کی نگاہوں سے

 مسکراہٹیں سیکھیں قہر کی نگاہوں سے

دادِ سرکشی لے لی ہم نے کج کلاہوں سے

کیا کہیں محبت کا راز کم نگاہوں سے

ہم نے دل بنائے ہیں آنسوؤں سے آہوں سے

اپنی معرفت کا ہم ایک دن سبق دیں گے

دیکھتے چلے جاؤ اجنبی نگاہوں سے

Monday, 12 June 2023

لے لوں گا جان دے کے محبت جہاں ملے

 لے لوں گا جان دے کے محبت جہاں ملے

کچھ دن میں شاید اور یہ سودا گِراں ملے

اے کاروانِ عشق و وفا کے مسافرو

کہنا مِرا سلام بھی منزل جہاں ملے

ہموار کر مزاجِ بہار و خزاں سے دل

ممکن نہیں مزاجَ بہار و خزاں ملے

Saturday, 10 June 2023

محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے

 محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے

اداؤں میں تکلف آ نہ جائے

تِری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں

کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے

کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ

زبردستی اگر بدلا نہ جائے

Friday, 9 June 2023

بھر تو دے موت ذرا عمر کے پیمانے کو

 بھر تو دے موت ذرا عمر کے پیمانے کو

وقت لکھے گا لہو سے مِرے افسانے کو

دُشمنِ جاں ہی سہی راہبرِ منزل نہ سہی

روشنی موت دِکھاتی رہی پروانے کو

غم غلط ہوتے تھے میخانے میں کل رات کی بات

موجِ غم آج بہا لے گئی مے خانے کو

Friday, 28 October 2022

ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور

 ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور 

مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور 

اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر 

جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور 

منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا 

تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور 

Thursday, 19 August 2021

تہ خنجر کیے سجدے مسلماں ایسے ہوتے ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


 خدا کی راہ میں کارِ نمایاں ایسے ہوتے ہیں

تہِ خنجر کِیے سجدے مسلماں ایسے ہوتے ہیں

وہ پیاری پیاری شکلیں دیکھ کر آلِ پیمبرﷺ کی

ستاروں نے کہا؛ اے چاند! انساں ایسے ہوتے ہیں

جوانی رَن سے کہتی آ رہی ہے لاشِ قاسمؑ پر