عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آیا وہ وقت ظہر کا مابینِ کارزار
آگے بڑھا نماز کو حیدرؑ کا ورثہ دار
تیر آ رہے تھے لشکرِ اعدا سے بار بار
صف میں بڑھے سعیدؓ و زہیرؓ وفا شعار
یہ جاں نثاریاں تھیں جو رتبے بڑے ہوئے
الله! یہ امامؑ سے آگے کھڑے ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آیا وہ وقت ظہر کا مابینِ کارزار
آگے بڑھا نماز کو حیدرؑ کا ورثہ دار
تیر آ رہے تھے لشکرِ اعدا سے بار بار
صف میں بڑھے سعیدؓ و زہیرؓ وفا شعار
یہ جاں نثاریاں تھیں جو رتبے بڑے ہوئے
الله! یہ امامؑ سے آگے کھڑے ہوئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اثر شہادتِ عظمیٰ کا جاوِدانی ہے
غمِ حسینؑ ہے باقی، جہان فانی ہے
حسینؑ نے جو دیا جان دے کے درسِ عمل
سمجھ لے کوئی تو دستورِ زندگانی ہے
لگا رکھا ہے غمِ کربلا سے سینے کو
بہت غموں سے مجھے طاقت آزمانی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
جاتے ہو کہاں دوش پہ زلفوں کو سنبھالے
مقتول کی مظلوم کی آغوش کے پالے
نازک ہیں بہت پاؤں میں پڑ جائیں گے چھالے
قربان میں اے راہِ نجف پوچھنے والے
یہ قصۂ غم سیِّدِ والا سے کہو گے
لُوٹا ہے مسلمانوں نے، دادا سے کہو گے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یثرب کی نینوا کے ستم پر نظر نہیں
گھر کس کا لُٹ رہا ہے کسی کو خبر نہیں
آئی اگر تو ایسی قیامت نہ آئے گی
عشرے کی صُبح صُبحِ قیامت اگر نہیں
پیشِ نظر حسینؑ کے ہیں دو جہاں مگر
اللہ پر نظر ہے،۔ کسی پر نظر نہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دردِ دل کیا کہیں رستے میں پڑا ملتا ہے؟
حق کے محبوبؐ سے نسبت ہو تو آ ملتا ہے
دل کا کیا حال ہو حاصل جو حضوری ہو جائے
اُسﷺ کی فرقت میں تڑپنے سے مزا ملتا ہے
کچھ خبر بھی ہے تجھے نان و نمک کے سائل؟
اُسﷺ کے کُوچے میں گدائی سے خدا ملتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
اے علیؑ کی لاڈلی، آغوشِ زہراؑ کی پلی
ہو بہو صورت میں زہراؑ، اور تیور میں علیؑ
اپنے بھائی کی بہن، روحِ بہارِ کربلا
پیکرِ ہمت، شریکِ کارزارِ کربلا
تیری ہستی آیۂ تطہیر کی تفسیر تھی
تیرے چہرے کی جلالت چادرِ تطہیر تھی
مسکراہٹیں سیکھیں قہر کی نگاہوں سے
دادِ سرکشی لے لی ہم نے کج کلاہوں سے
کیا کہیں محبت کا راز کم نگاہوں سے
ہم نے دل بنائے ہیں آنسوؤں سے آہوں سے
اپنی معرفت کا ہم ایک دن سبق دیں گے
دیکھتے چلے جاؤ اجنبی نگاہوں سے
لے لوں گا جان دے کے محبت جہاں ملے
کچھ دن میں شاید اور یہ سودا گِراں ملے
اے کاروانِ عشق و وفا کے مسافرو
کہنا مِرا سلام بھی منزل جہاں ملے
ہموار کر مزاجِ بہار و خزاں سے دل
ممکن نہیں مزاجَ بہار و خزاں ملے
محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے
اداؤں میں تکلف آ نہ جائے
تِری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں
کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے
کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ
زبردستی اگر بدلا نہ جائے
بھر تو دے موت ذرا عمر کے پیمانے کو
وقت لکھے گا لہو سے مِرے افسانے کو
دُشمنِ جاں ہی سہی راہبرِ منزل نہ سہی
روشنی موت دِکھاتی رہی پروانے کو
غم غلط ہوتے تھے میخانے میں کل رات کی بات
موجِ غم آج بہا لے گئی مے خانے کو
ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور
اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر
جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور
منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا
تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
خدا کی راہ میں کارِ نمایاں ایسے ہوتے ہیں
تہِ خنجر کِیے سجدے مسلماں ایسے ہوتے ہیں
وہ پیاری پیاری شکلیں دیکھ کر آلِ پیمبرﷺ کی
ستاروں نے کہا؛ اے چاند! انساں ایسے ہوتے ہیں
جوانی رَن سے کہتی آ رہی ہے لاشِ قاسمؑ پر