Showing posts with label جاوید وششٹ. Show all posts
Showing posts with label جاوید وششٹ. Show all posts

Saturday, 5 April 2025

دل کی خاطر ہی زمانے کی بلا ہو جیسے

 دل کی خاطر ہی زمانے کی بلا ہو جیسے

زندگی اپنے گناہوں کی سزا ہو جیسے

دل کی وادی میں تمناؤں کی رنگا رنگی

کوئی میلہ کسی بستی میں لگا ہو جیسے

ہاں پکارا ہے غم زیست نے یوں بھی ہم کو

پیار میں ڈوبی ہوئی تیری صدا ہو جیسے

Sunday, 14 July 2024

اک برہمن ہند تجھے پیار کرے ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اک برہمنِ ہند تجھے پیار کرے ہے

چُوٹی سے ہمالہ کی نمسکار کرے ہے

جو برہم کو جانے اسے کہتے ہیں برہمن

کچھ جان کے اپنا مجھے آدھار کرے ہے

کاشی میں بھی کعبے کی زیارت اسے حاصل

تیری ہی محبت یہ چمتکار کرے ہے

Thursday, 6 June 2024

عزیز آئے مدد کو نہ غمگسار آئے

 عزیز آئے مدد کو نہ غم گسار آئے

زمانے بھر کو مصیبت میں ہم پکار آئے

سمجھ سکی نہ خرد جب تِرے اشارے کو

جنوں نصیب ہمیں تھے جو سُوئے دار آئے

ملے گا تحفۂ دل کے عوض نشاط کہ غم

کسے خبر ہے کہ جیت آئے ہم کہ ہار آئے

Sunday, 27 March 2022

عیش رفتہ نے بہت خون رلایا ہے مجھے

عیشِ رفتہ نے بہت خون رُلایا ہے مجھے

پھول کی سیج نے کانٹوں پہ سلایا ہے مجھے

دے کے اک شعلۂ گُفتار جگایا ہے مجھے

عہدِ خوابیدہ نے بے درد بنایا ہے مجھے

زرد رُو خار بھی ہے عاشق سلمائے بہار

شوخ کلیوں نے اشاروں میں بتایا ہے مجھے

Monday, 14 February 2022

تشنہ لب کہتے رہے سنتی رہی پیاسی رات

تشنہ لب کہتے رہے سنتی رہی پیاسی رات

صبح تک چلتی رہی درد تہ جام کی بات

یہ ہوس پیشہ، ہوس کار، ہوس خُو دنیا

خوب ہے جس میں بھٹکتی ہے گزرگاہِ نجات

پڑتے ہی دل پہ کسی شوخ نظر کا پرتو

جگمگانے لگی دھڑکن تو سجے محسوسات