دل کی خاطر ہی زمانے کی بلا ہو جیسے
زندگی اپنے گناہوں کی سزا ہو جیسے
دل کی وادی میں تمناؤں کی رنگا رنگی
کوئی میلہ کسی بستی میں لگا ہو جیسے
ہاں پکارا ہے غم زیست نے یوں بھی ہم کو
پیار میں ڈوبی ہوئی تیری صدا ہو جیسے
دل کی خاطر ہی زمانے کی بلا ہو جیسے
زندگی اپنے گناہوں کی سزا ہو جیسے
دل کی وادی میں تمناؤں کی رنگا رنگی
کوئی میلہ کسی بستی میں لگا ہو جیسے
ہاں پکارا ہے غم زیست نے یوں بھی ہم کو
پیار میں ڈوبی ہوئی تیری صدا ہو جیسے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اک برہمنِ ہند تجھے پیار کرے ہے
چُوٹی سے ہمالہ کی نمسکار کرے ہے
جو برہم کو جانے اسے کہتے ہیں برہمن
کچھ جان کے اپنا مجھے آدھار کرے ہے
کاشی میں بھی کعبے کی زیارت اسے حاصل
تیری ہی محبت یہ چمتکار کرے ہے
عزیز آئے مدد کو نہ غم گسار آئے
زمانے بھر کو مصیبت میں ہم پکار آئے
سمجھ سکی نہ خرد جب تِرے اشارے کو
جنوں نصیب ہمیں تھے جو سُوئے دار آئے
ملے گا تحفۂ دل کے عوض نشاط کہ غم
کسے خبر ہے کہ جیت آئے ہم کہ ہار آئے
عیشِ رفتہ نے بہت خون رُلایا ہے مجھے
پھول کی سیج نے کانٹوں پہ سلایا ہے مجھے
دے کے اک شعلۂ گُفتار جگایا ہے مجھے
عہدِ خوابیدہ نے بے درد بنایا ہے مجھے
زرد رُو خار بھی ہے عاشق سلمائے بہار
شوخ کلیوں نے اشاروں میں بتایا ہے مجھے
تشنہ لب کہتے رہے سنتی رہی پیاسی رات
صبح تک چلتی رہی درد تہ جام کی بات
یہ ہوس پیشہ، ہوس کار، ہوس خُو دنیا
خوب ہے جس میں بھٹکتی ہے گزرگاہِ نجات
پڑتے ہی دل پہ کسی شوخ نظر کا پرتو
جگمگانے لگی دھڑکن تو سجے محسوسات