کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے
مِری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے
کچھ اتنا ظُلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے
کوئی بھی رات نہ گُزری تھی رات سے پہلے
اگر وہ چھُوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں
مِلے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے
کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے
مِری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے
کچھ اتنا ظُلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے
کوئی بھی رات نہ گُزری تھی رات سے پہلے
اگر وہ چھُوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں
مِلے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے
نیا حکم نامہ
تغیر کا سیلاب آیا
تو زنجیریں ساری اٹھا لے گیا
شہنشاہیت کا
سنہرا سمندر ہوا لے گئی
اور سب کی نظر
ایک کالے عمامے کی جانب پر امید ہو کر اٹھی
پت جھڑ کی ہوا
پھر زور دکھا
پت جھڑ کی ہوا
آ میرے بدن کو چوم ذرا
میں اک تازہ
دھانی پتہ
اس موسم میں ہر اک سے جدا تنہا تنہا
جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا
خدا ہم پہ رحمت کی بارش کرے گا
یہ شیشے کی آنکھیں یہ پتھر کے چہرے
مِرا درد کس سے گُزارش کرے گا
کسی کا جو ہمدرد ہو گا زمیں پر
بہت گر کرے تو سفارش کرے گا