Showing posts with label سلطان سبحانی. Show all posts
Showing posts with label سلطان سبحانی. Show all posts

Tuesday, 19 May 2026

کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے

 کوئی بھی بات نہ تھی واردات سے پہلے

مِری ہی ذات تھی اس کائنات سے پہلے

کچھ اتنا ظُلم ہوا ہے کہ مجھ کو لگتا ہے

کوئی بھی رات نہ گُزری تھی رات سے پہلے

اگر وہ چھُوٹ گیا بات یہ نئی تو نہیں

مِلے تھے ہات بہت اس کے ہات سے پہلے

Monday, 26 August 2024

خون ہی خون ہر سمت بہنے لگا

 نیا حکم نامہ


تغیر کا سیلاب آیا

تو زنجیریں ساری اٹھا لے گیا

شہنشاہیت کا

سنہرا سمندر ہوا لے گئی

اور سب کی نظر

ایک کالے عمامے کی جانب پر امید ہو کر اٹھی

Wednesday, 3 July 2024

پھر زور دکھا پت جھڑ کی ہوا

 پت جھڑ کی ہوا


پھر زور دکھا

پت جھڑ کی ہوا

آ میرے بدن کو چوم ذرا

میں اک تازہ

دھانی پتہ

اس موسم میں ہر اک سے جدا تنہا تنہا

Saturday, 22 June 2024

جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا

 جہاں دار جتنی بھی سازش کرے گا

خدا ہم پہ رحمت کی بارش کرے گا

یہ شیشے کی آنکھیں یہ پتھر کے چہرے

مِرا درد کس سے گُزارش کرے گا

کسی کا جو ہمدرد ہو گا زمیں پر

بہت گر کرے تو سفارش کرے گا