عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھیں گے انبیاء بھی نظریں اٹھا اٹھا کے
محشر میں جب محمدﷺ آئیں گے مسکرا کے
چاہیں گے جو محمدﷺ وہ ہی خداﷻ کرے گا
سب اختیار محشر اُنﷺ کو عطا کرے گا
بخشے گی انؐ کی رحمت مجرم بلا بلا کے
اک طرف عاصیوں کو وہ بخشوا رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیکھیں گے انبیاء بھی نظریں اٹھا اٹھا کے
محشر میں جب محمدﷺ آئیں گے مسکرا کے
چاہیں گے جو محمدﷺ وہ ہی خداﷻ کرے گا
سب اختیار محشر اُنﷺ کو عطا کرے گا
بخشے گی انؐ کی رحمت مجرم بلا بلا کے
اک طرف عاصیوں کو وہ بخشوا رہے ہیں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شہسوارِ کربلا کی شہسواری کو سلام
رسمِ عشاق ہے کہ وفا کرتے ہیں
یعنی ہر حال میں حق اپنا ادا کرتے ہیں
حوصلہ حضرت شبیرؑ کا اللہ اللہ
سر جدا ہوتا ہے اور شکرِ خدا کرتے ہیں
اک طرف دنیا کی سب راحت تھی اور آرام تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
محمد مصطفیٰﷺ آئے بہاروں پر بہار آئی
زمیں کو چومنے جنت کی خوشبو بار بار آئی
جناب آمنہؑ کا چاند جب چمکا زمانے میں
قمر کی چاندنی قدموں پہ ہونے نثار آئی
حلیمہ دو جہاں قربان ہوں تیرے مقدر پر
تِرے کچے سے گھر میں رحمتِ پروردگار آئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
یا محمدﷺ محمدﷺ میں کہتا رہا نور کے موتیوں کی لڑی بن گئی
آیتوں سے ملاتا رہا آیتیں پھر جو دیکھا تو نعتِ نبیﷺ بن گئی
کون ہے جو طلبگارِ جنت نہیں یہ بھی تسلیم جنت ہے باغِ حسین
حسنِ جنت کو جب بھی سمیٹا گیا مصطفیٰؐ کے نگر کی گلی بن گئی
جب کیا تذکرہ حسن سرکارﷺ کا والضحیٰ پڑھ لیا والقمر کہہ دیا
آیتوں کی تلاوت بھی ہوتی رہی نعت بھی بن گئی بات بھی بن گئی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں کون جلوہ نما آج کی رات ہے
عرش پر دھوم ہے فرش پر دھوم ہے، ہے وہ بدبخت جو آج محروم
پھر یہ آئے گی شب کِس کو معلوم ہے ہم پہ لطفِ خدا آج کی رات ہے
مومنو! آج گنجِ سخا لُوٹ لو، لُوٹ لو اے مریضو! شفا لُوٹ لو
عاصیو! رحمتِ مصطفیٰؐ لُوٹ لو ، بابِ رحمت کُھلا آج کی رات ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کرم کا مخزن، سخا کا مرکز، عطا سراپا جنابِ زہراؑ
نبیؐ کی صورت نبیؐ کی سیرت نبیؐ کا نقشہ جنابِ زہرا
رسولِ اعظمﷺ کی پیاری دختر شہید اعظمؑ کی پاک مادر
جنابِ شیر خداؑ کی بانو، جناں کی ملکہ جنابِ زہرا
سراپا رحمت سراپا راحت سراپا عفت سراپا عصمت
رسول اکرمﷺ کے دل ٹھنڈک بتول اظہرا جنابِ زہرا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
آ، غمِ شبیرؑ آ، سینے لگا کے چوم لوں
کربلا کی خاک کو آنسو پِلا کے چوم لوں
آ میرے اصغرؑ صدا دیتی تھیں صغراؑ رات دن
آ تیری راہوں کو میں پلکیں بِچھا کے چوم لوں
یوں مخاطب لاشۂ اکبرؑ سے تھے ابنِ علیؑ
اٹھ میرے بیٹے تجھے دل میں بِٹھا کے چوم لوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
تُو شاہِ خوباں، تُو جانِ جاناں، ہے چہرہ اُم الکتاب تیراﷺ
نہ بن سکی ہے، نہ بن سکے گا، مثال تیری جواب تیراﷺ
تُو سب سے اول، تو سب سے آخر، ملا ہے حسنِ دوام تجھ کو
ہے عمر لاکھوں برس کی تیری، مگر ہے تازہ شباب تیراﷺ
خدا کی غیرت نے ڈال رکھے ہیں تجھﷺ پہ ستر ہزار پردے
جہاں میں بن جاتے طُور لاکھوں جو اک بھی اٹھتا حجاب تیراﷺ