Thursday, 13 October 2022

نوری محفل پہ چادر تنی نور کی نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے

عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


نوری محفل پہ چادر تنی نور کی نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے

چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں کون جلوہ نما آج کی رات ہے

عرش پر دھوم ہے فرش پر دھوم ہے، ہے وہ بدبخت جو آج محروم

پھر یہ آئے گی شب کِس کو معلوم ہے ہم پہ لطفِ خدا آج کی رات ہے

مومنو! آج گنجِ سخا لُوٹ لو، لُوٹ لو اے مریضو! شفا لُوٹ لو

عاصیو! رحمتِ مصطفیٰؐ لُوٹ لو ، بابِ رحمت کُھلا آج کی رات ہے

ابرِ رحمت ہیں محفل پہ چھائے ہوئے، آسماں سے ملائک ہیں آئے ہوئے

خود محمدﷺ ہیں تشریف لائے ہوئے کس قدر جانفزا آج کی رات ہے

مانگ لو مانگ لو چشمِ تر مانگ لو، دردِ دل اور حسنِ نظر مانگ لو

کملی والے کی نگری میں گھر مانگ لو، مانگنے کا مزا آج کی رات ہے

اس طرف نور ہے اس طرف نور ہے سارا عالم مسرت سے معمور ہے

جس کو دیکھو وہی آج مسرور ہے، مہک اٹھی فضا آج کی رات ہے

وقت لائے خدا سب مدینے چلیں، لُوٹنے رحمتوں کے خزینے چلیں

سب کے منزل کی جانب سفینے چلیں، میری صائم دعا آج کی رات ہے


صائم چشتی

No comments:

Post a Comment