میں اک مظلوم اردو ہوں مرا دل پانی پانی ہے
زمانے نے مجھے مارا، بڑی غمگیں کہانی ہے
بلندی اور پستی کے تھپیڑے کھائے ہیں میں نے
زمانے میں، کئی اک نام ویسے پائے ہیں میں نے
کبھی میں ہندوی بھی تھی، مِرا تھا نام لشکر بھی
مجھے اب اردو کہتے ہیں، ہوں یکتا کی پیمبر بھی
مجھے خود اہل اردو اپنے ہاتھوں سے مٹاتے ہیں
زبان غیر سے، بچوں کا، مستقبل بناتے ہیں
بگاڑی ہے مِری صورت مگر کچھ شاعروں نے بھی
غلط پرواز کو، اک موڑ دے دی طائروں نے بھی
نہ ناول سے گلہ مجھ کو نہ افسانوں سے شکوہ ہے
یہ نثری شاعری کے بس، ہوا خواہوں سے شکوہ ہے
ادا بحروں کی بگڑی ہے، نہ اس کا ناز اچھا ہے
لطافت اس میں باقی ہے، نہ کچھ انداز اچھا ہے
لباس قافیہ اس میں، نہ آنچل ہے ردیفوں کا
نہ رشتہ بحر سے کچھ ہے ترقی کے حنیفوں کا
انہی اشعار عریاں سے، سیہ ہے سینہ داغوں سے
لگی ہے آگ جیسے گھر کو گھر ہی کے چراغوں سے
ہوئی کمزور میں، اہل زباں، حیراں پریشاں ہیں
برت رکھ رکھ کے چہرے پر جو ڈالے سب گریباں ہیں
انہی ہڑتال والوں سے، مِری کچھ آن باقی ہے
بظاہر، نزع کا ہے وقت، لیکن جان باقی ہے
اگر مقصود مجھ کو ہے بچانا، بات یہ سن لو
پڑھو اردو پڑھاؤ تم سبھی دن رات یہ سن لو
بہت کچھ نعرہ بازی ہے مگر یوں حل مرا کیا ہے
مجھے معلوم ہے پھر بھی کہ مسقبل مرا کیا ہے
اگر بالفرض، ہو بھی جائے یونہی فیصلہ میرا
بڑھا دے گر حکومت بھی ذرا کچھ حوصلہ میرا
اگر قسمت سے درجہ بھی، زباں اول کا مل جائے
لسانی حیثیت سے بھی، نشاں اول کا مل جائے
یہ مجھ کو فکر ہے آگے مِرا کیا حشر برپا ہو
نئی اس پود کو کیسے زباں کی فکر فردا ہو
مرا یوں حال ابتر ہے، چراغ صبح اب بھی ہوں
سمٹ جاؤں تو قطرہ ہوں، وگرنہ بحر جیسی ہوں
اٹھو، جاگو، جلاؤ تم نئی اک شمع محفل میں
اجالا پھر سے ہو جائے مِرے مایوس سے دل میں
رضیہ بصیر
رضیہ صدیقی بصیر
No comments:
Post a Comment