Showing posts with label اویس گراچ. Show all posts
Showing posts with label اویس گراچ. Show all posts

Saturday, 4 July 2026

شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں

 شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں

حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں

جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے

کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں

مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا، اور

مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں

Friday, 22 August 2025

ہوا کا تلخ لہجہ ہے چراغوں کی پریشانی

ہوا کا تلخ لہجہ ہے چراغوں کی پریشانی

چمکتے چاند سورج ہیں ستاروں کی پریشانی

کناروں میں بھی شاید ڈوب جانے کی طلب ہوگی

پتہ کیسے کریں گے ہم کناروں کی پریشانی

مرے پیارے ہماری زندگی میں اور بہت غم ہیں

محبت ہجر یہ تو ہیں ہزاروں کی پریشانی

Tuesday, 19 August 2025

عجب ہے یہ قصہ کہانی میں دم ہے

 عجب ہے یہ قصہ کہانی میں دم ہے

یہ سب نے کہا تھا کہانی میں دم ہے

پلٹ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے میرے

کسی نے پکارا کہانی میں دم ہے

مِری ڈائری کو جلانے سے پہلے

وہ کہہ کر گیا تھا کہانی میں دم ہے

Thursday, 6 January 2022

غم ضروری تھا بہت آنسو کے بننے کے لیے

غم ضروری تھا بہت آنسو کے بننے کے لیے

جبر بھی تو چاہیے آنسو نکلنے کے لیے

اے چراغو! یوں بھی ہوگا یہ ہوا تم سے ڈرے

دائمی جلنا پڑے گا شمس بننے کے لیے

جنبش چشم و لب و رخسار کی رعنائیاں

بس یہی کافی ہے ان کو یاد رکھنے کے لیے