شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں
حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں
جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے
کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں
مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا، اور
مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں
شکن کے ساتھ جیتے ہیں تھکن کی دسترس میں ہیں
حقیقت میں سبھی اپنے بدن کی دسترس میں ہیں
جمال نکہت شام و سحر بھی انجمن میں ہے
کلی بھنورے گل و بلبل چمن کی دسترس میں ہیں
مجھے پرواز کر کے آسماں میں ڈوبنا تھا، اور
مجھے یہ یاد تھا ہم سب بدن کی دسترس میں ہیں
ہوا کا تلخ لہجہ ہے چراغوں کی پریشانی
چمکتے چاند سورج ہیں ستاروں کی پریشانی
کناروں میں بھی شاید ڈوب جانے کی طلب ہوگی
پتہ کیسے کریں گے ہم کناروں کی پریشانی
مرے پیارے ہماری زندگی میں اور بہت غم ہیں
محبت ہجر یہ تو ہیں ہزاروں کی پریشانی
عجب ہے یہ قصہ کہانی میں دم ہے
یہ سب نے کہا تھا کہانی میں دم ہے
پلٹ ہی رہا تھا کہ پیچھے سے میرے
کسی نے پکارا کہانی میں دم ہے
مِری ڈائری کو جلانے سے پہلے
وہ کہہ کر گیا تھا کہانی میں دم ہے
غم ضروری تھا بہت آنسو کے بننے کے لیے
جبر بھی تو چاہیے آنسو نکلنے کے لیے
اے چراغو! یوں بھی ہوگا یہ ہوا تم سے ڈرے
دائمی جلنا پڑے گا شمس بننے کے لیے
جنبش چشم و لب و رخسار کی رعنائیاں
بس یہی کافی ہے ان کو یاد رکھنے کے لیے