مشکلیں بڑھتی گئیں ہر سحر و شام کے ساتھ
پھر بھی کھیلا کیے ہم گردشِ ایام کے ساتھ
روز افزوں ہی رہا حوصلہ و عزمِ سفر
منزلیں دور ہی ہوتی گئیں ہر گام کے ساتھ
آ کے اے برق! مِرا خرمنِ ہستی تو جلا
کتنی نادان کہ الجھی ہے در و بام کے ساتھ
مشکلیں بڑھتی گئیں ہر سحر و شام کے ساتھ
پھر بھی کھیلا کیے ہم گردشِ ایام کے ساتھ
روز افزوں ہی رہا حوصلہ و عزمِ سفر
منزلیں دور ہی ہوتی گئیں ہر گام کے ساتھ
آ کے اے برق! مِرا خرمنِ ہستی تو جلا
کتنی نادان کہ الجھی ہے در و بام کے ساتھ
روٹھا ہوا ہے آج ترا اعتبار بھی
دامن بچا رہا ہے غمِ انتظار بھی
دل مجھ سے کہہ رہا ہے کہ تم آ گئے قریب
سعئ نظر ہے آج مِری شرمسار بھی
مانا تِری طلب نے دیا ہے نمو مجھے
لیکن مِرا وجود ہے تیرا وقار بھی
شعور دیدۂ پُر نم ملا ہے
بہت کچھ کھو کے تیرا غم ملا ہے
نشیمن اپنے ہاتھ سے جلا کر
سرورِ گیسوئے برہم ملا ہے
خود اپنی جستجو میں گم رہے ہیں
ہمیں ایسا بھی اک عالم ملا ہے
پھول ہی جب کانٹا بن جائے
اپنا دامن کون بچائے؟
ذوقِ نظر نے کیا کیا دیکھا
اشکوں نے بھی پھُول کھِلائے
موت بھی ہے معراجِ مسرّت
کون یہ سمجھے، کون بتائے؟
تلاطم
دل آج بہت گھبراتا ہے
دل آج بہت گھبراتا ہے
طوفان و تلاطم کے پالے گرداب سنبھالے ہیں مجھ کو
اک راحت جاں ہمدم کی طرح کچھ خواب سنبھالے ہیں مجھ کو
یوں میرے غموں کے سنجیدہ آداب سنبھالے ہیں مجھ کو
سازِ خاموش میں آواز کہاں سے لاؤں
میرے ان کاکلِ برہم کی حکایت مت پوچھ
آہ اس نالۂ پیہم کی حقیقت مت پوچھ
دیکھ لے چشمِ بصیرت سے زمانے کا نظام
مجھ سے اے دوست مِرے غم کی صداقت مت پوچھ
لب رنگیں کا وہ اعجاز کہاں سے لاؤں
وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیات
ہاں ہاں یہی ادا،۔ یہی انداز التفات
وہ مسکرا رہے ہیں دھندلکوں کی اوٹ سے
یوں آزما رہی ہے مجھے تلخیٔ حیات
آئے ہیں وہ جنوں میں پشیمانیاں لیے
کیا کیا فریب دیتا ہے حسنِ تصورات
زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہا
تیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہا
دھڑکنیں سناتی ہیں لا مکاں کے افسانے
کتنی داستانوں کو سن رہے ہیں ہم تنہا
منزلیں بلاتی ہیں، جستجو مچلتی ہے
تیرگی کا عالم ہے، اور ہر قدم تنہا
مِری آرزو کا حاصل مِری زیست کا سہارا
تِرا اک حسیں تبسم،۔ تِرا جلوۂ خود آرا
تِرے درد و غم کے صدقے تِری بے رخی کے قرباں
انہیں کج ادائیوں نے مِری زیست کو سنوارا
مِری کشتی تمنا ہے عجیب کشمکش میں
کبھی ہے قریب منزل کبھی دور ہے کنارا