Showing posts with label زیبا کاکوروی. Show all posts
Showing posts with label زیبا کاکوروی. Show all posts

Sunday, 23 March 2025

مشکلیں بڑھتی گئیں ہر سحر و شام کے ساتھ

 مشکلیں بڑھتی گئیں ہر سحر و شام کے ساتھ

پھر بھی کھیلا کیے ہم گردشِ ایام کے ساتھ

روز افزوں ہی رہا حوصلہ و عزمِ سفر

منزلیں دور ہی ہوتی گئیں ہر گام کے ساتھ

آ کے اے برق! مِرا خرمنِ ہستی تو جلا

کتنی نادان کہ الجھی ہے در و بام کے ساتھ

Thursday, 9 January 2025

روٹھا ہوا ہے آج ترا اعتبار بھی

 روٹھا ہوا ہے آج ترا اعتبار بھی

دامن بچا رہا ہے غمِ انتظار بھی

دل مجھ سے کہہ رہا ہے کہ تم آ گئے قریب

سعئ نظر ہے آج مِری شرمسار بھی

مانا تِری طلب نے دیا ہے نمو مجھے

لیکن مِرا وجود ہے تیرا وقار بھی

Friday, 27 December 2024

شعور دیدۂ پر نم ملا ہے

 شعور دیدۂ پُر نم ملا ہے

بہت کچھ کھو کے تیرا غم ملا ہے

نشیمن اپنے ہاتھ سے جلا کر

سرورِ گیسوئے برہم ملا ہے

خود اپنی جستجو میں گم رہے ہیں

ہمیں ایسا بھی اک عالم ملا ہے

Thursday, 26 December 2024

پھول ہی جب کانٹا بن جائے

 پھول ہی جب کانٹا بن جائے

اپنا دامن کون بچائے؟

ذوقِ نظر نے کیا کیا دیکھا

اشکوں نے بھی پھُول کھِلائے

موت بھی ہے معراجِ مسرّت

کون یہ سمجھے، کون بتائے؟

Thursday, 25 May 2023

تلاطم دل آج بہت گھبراتا ہے

 تلاطم


دل آج بہت گھبراتا ہے 


دل آج بہت گھبراتا ہے 

طوفان و تلاطم کے پالے گرداب سنبھالے ہیں مجھ کو 

اک راحت جاں ہمدم کی طرح کچھ خواب سنبھالے ہیں مجھ کو 

یوں میرے غموں کے سنجیدہ آداب سنبھالے ہیں مجھ کو 

Sunday, 30 April 2023

ساز خاموش میں آواز کہاں سے لاؤں

 سازِ خاموش میں آواز کہاں سے لاؤں 


میرے ان کاکلِ برہم کی حکایت مت پوچھ 

آہ اس نالۂ پیہم کی حقیقت مت پوچھ 

دیکھ لے چشمِ بصیرت سے زمانے کا نظام 

مجھ سے اے دوست مِرے غم کی صداقت مت پوچھ 

لب رنگیں کا وہ اعجاز کہاں سے لاؤں 

Saturday, 29 April 2023

وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیات

 وہ ہنس پڑا جنوں یہ مچلنے لگی حیات

ہاں ہاں یہی ادا،۔ یہی انداز التفات

وہ مسکرا رہے ہیں دھندلکوں کی اوٹ سے

یوں آزما رہی ہے مجھے تلخیٔ حیات

آئے ہیں وہ جنوں میں پشیمانیاں لیے

کیا کیا فریب دیتا ہے حسنِ تصورات

Wednesday, 16 November 2022

زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہا

زندگی نکھر آئی جھیل کر ستم تنہا

تیرے در سے ہاتھ آیا بس یہی کرم تنہا

دھڑکنیں سناتی ہیں لا مکاں کے افسانے

کتنی داستانوں کو سن رہے ہیں ہم تنہا

منزلیں بلاتی ہیں، جستجو مچلتی ہے

تیرگی کا عالم ہے، اور ہر قدم تنہا

Tuesday, 8 November 2022

مری آرزو کا حاصل مری زیست کا سہارا

مِری آرزو کا حاصل مِری زیست کا سہارا

تِرا اک حسیں تبسم،۔ تِرا جلوۂ خود آرا

تِرے درد و غم کے صدقے تِری بے رخی کے قرباں

انہیں کج ادائیوں نے مِری زیست کو سنوارا

مِری کشتی تمنا ہے عجیب کشمکش میں

کبھی ہے قریب منزل کبھی دور ہے کنارا