Showing posts with label راشد ترین. Show all posts
Showing posts with label راشد ترین. Show all posts

Sunday, 4 October 2020

مذہب عشق کو گفتار میں رکھا ہوتا

 مذہب عشق کو گفتار میں رکھا ہوتا

ایک نیا زخم بھی دستار میں رکھا ہوتا

عین ممکن تھا خریدار بھی آ ہی جاتے

اس جوانی کو جو بازار میں رکھا ہوتا

ہم جو کچھ  روز تِرے عشق میں جلتے پھرتے

اک جلوہ سا جو دیدار میں رکھا ہوتا

کرنا تھا کسی طور یہ اقرار مرے یار

 کرنا تھا کسی طور یہ اقرار مِرے یار

کب کیسے مجھے تم سے ہوا پیار مرے یار

میں حرف تمنا ہوں سر دار ملوں گا

کیوں مجھ سے خفا ہوتے ہو اے یار مرے یار

تم ہم پہ جفاؤں کے ستم توڑ رہے ہو

ہم لوگ فقط تیرے طلب گار مرے یار

Saturday, 3 October 2020

آؤ لوٹ جاتے ہیں

 آؤ لوٹ جاتے ہیں


ایسے حبس موسم میں

میرا جی نہیں لگتا

سیر کو نکلتے ہیں

ساتھ ساتھ چلتے ہیں

دشمنوں کی بستی سے

وحشتوں کے  آنگن سے

Friday, 2 October 2020

وہ پانی کی لہروں پہ کیا لکھ رہا تھا

 وہ پانی کی لہروں پہ کیا لکھ رہا تھا

خدا جانے حرفِ دعا لکھ رہا تھا

ذرا اس کی آنکھوں سے آنسو نہ نکلے

وہ جب زندگی کو سزا لکھ رہا تھا

محبت میں نفرت ملی تھی اسے بھی

جو ہر شخص کو بے وفا لکھ رہا تھا

Thursday, 1 October 2020

کچھ پھول اگر اپنی کتابوں سے نکلتے

 کچھ پھول اگر اپنی کتابوں سے نکلتے

ہم لوگ بھی اجڑے ہوئے خوابوں سے نکلتے

ہم ان کے سوالوں میں تو الجھے ہی رہے ہیں

پھر کیسے بھلا ان کے جوابوں سے نکلتے

اک ہجر کا سایہ بھی تو آنکھوں میں بہت تھا

اے کاش کبھی ہم بھی عذابوں سے نکلتے

Wednesday, 30 September 2020

بنائی کس طرح میں نے یہ پہچان اپنوں میں

 بنائی کس طرح میں نے یہ پہچان اپنوں میں

مِرے اشعار کافی ہیں ہوا ذیشان اپنوں میں 

یہ میری سوچ کے آگے تخیل کی حسیں وادی

کچھ ایسا مرتبہ میرا کہ میں سلطان اپنوں میں

بہت مایوس رہتا ہوں یہ میری سوچ کہتی ہے

کہ جیسے ہو گیا میں بھی یہاں مہمان اپنوں میں

Monday, 28 September 2020

ہر بات سے واقف میرے الزام سے واقف

 ہر بات سے واقف میرے الزام سے واقف

اک شہر محبت ہے مِرے نام سے واقف

ہیں شہر کی گلیوں میں کئی چاہنے والے

ہم لوگ  فقط تیرے در و بام سے واقف

اک جہد مسلسل ہے، اسے پا کے رہیں گے

صحرا سے نہ واقف، نہ کسی شام سے واقف

Sunday, 27 September 2020

روتے روتے جو کبھی حرف دعا لکھتے ہیں

 روتے روتے جو کبھی حرفِ دعا لکھتے ہیں

ہم وہ مجبور کہ لوگوں کو خدا لکھتے ہیں

بھول جاتے ہیں وفاؤں کے پرانے رشتے

ہم وہ خودسر ہیں، محبت کو انا لکھتے ہیں

ہیر رانجھے  کی یا سسی کی کہانی سن لو

لکھنے والے تو اسے اب بھی سزا لکھتے ہیں

Friday, 25 September 2020

پیار کا یہ سلسلہ ہی چھوڑ دو

 پیار کا یہ سلسلہ ہی چھوڑ دو

ہر کسی سے رابطہ ہی چھوڑ دو

پاس وہ آئے کہ میں جاؤں قریب

وصل کا یہ مرحلہ ہی چھوڑ دو

آنے جانے سے بڑھے گی دشمنی

یہ گلی، یہ راستہ ہی چھوڑ دو

اشک آنکھوں میں بھر نہیں سکتے

 اشک آنکھوں میں بھر نہیں سکتے

اس گلی سے گزر نہیں سکتے

جن کی فطرت ہو دل لگی کرنا

وہ محبت تو کر نہیں سکتے

اس میں سارا قصور میرا ہے

اس پہ الزام دھر نہیں سکتے