مذہب عشق کو گفتار میں رکھا ہوتا
ایک نیا زخم بھی دستار میں رکھا ہوتا
عین ممکن تھا خریدار بھی آ ہی جاتے
اس جوانی کو جو بازار میں رکھا ہوتا
ہم جو کچھ روز تِرے عشق میں جلتے پھرتے
اک جلوہ سا جو دیدار میں رکھا ہوتا
مذہب عشق کو گفتار میں رکھا ہوتا
ایک نیا زخم بھی دستار میں رکھا ہوتا
عین ممکن تھا خریدار بھی آ ہی جاتے
اس جوانی کو جو بازار میں رکھا ہوتا
ہم جو کچھ روز تِرے عشق میں جلتے پھرتے
اک جلوہ سا جو دیدار میں رکھا ہوتا
کرنا تھا کسی طور یہ اقرار مِرے یار
کب کیسے مجھے تم سے ہوا پیار مرے یار
میں حرف تمنا ہوں سر دار ملوں گا
کیوں مجھ سے خفا ہوتے ہو اے یار مرے یار
تم ہم پہ جفاؤں کے ستم توڑ رہے ہو
ہم لوگ فقط تیرے طلب گار مرے یار
آؤ لوٹ جاتے ہیں
ایسے حبس موسم میں
میرا جی نہیں لگتا
سیر کو نکلتے ہیں
ساتھ ساتھ چلتے ہیں
دشمنوں کی بستی سے
وحشتوں کے آنگن سے
وہ پانی کی لہروں پہ کیا لکھ رہا تھا
خدا جانے حرفِ دعا لکھ رہا تھا
ذرا اس کی آنکھوں سے آنسو نہ نکلے
وہ جب زندگی کو سزا لکھ رہا تھا
محبت میں نفرت ملی تھی اسے بھی
جو ہر شخص کو بے وفا لکھ رہا تھا
کچھ پھول اگر اپنی کتابوں سے نکلتے
ہم لوگ بھی اجڑے ہوئے خوابوں سے نکلتے
ہم ان کے سوالوں میں تو الجھے ہی رہے ہیں
پھر کیسے بھلا ان کے جوابوں سے نکلتے
اک ہجر کا سایہ بھی تو آنکھوں میں بہت تھا
اے کاش کبھی ہم بھی عذابوں سے نکلتے
بنائی کس طرح میں نے یہ پہچان اپنوں میں
مِرے اشعار کافی ہیں ہوا ذیشان اپنوں میں
یہ میری سوچ کے آگے تخیل کی حسیں وادی
کچھ ایسا مرتبہ میرا کہ میں سلطان اپنوں میں
بہت مایوس رہتا ہوں یہ میری سوچ کہتی ہے
کہ جیسے ہو گیا میں بھی یہاں مہمان اپنوں میں
ہر بات سے واقف میرے الزام سے واقف
اک شہر محبت ہے مِرے نام سے واقف
ہیں شہر کی گلیوں میں کئی چاہنے والے
ہم لوگ فقط تیرے در و بام سے واقف
اک جہد مسلسل ہے، اسے پا کے رہیں گے
صحرا سے نہ واقف، نہ کسی شام سے واقف
روتے روتے جو کبھی حرفِ دعا لکھتے ہیں
ہم وہ مجبور کہ لوگوں کو خدا لکھتے ہیں
بھول جاتے ہیں وفاؤں کے پرانے رشتے
ہم وہ خودسر ہیں، محبت کو انا لکھتے ہیں
ہیر رانجھے کی یا سسی کی کہانی سن لو
لکھنے والے تو اسے اب بھی سزا لکھتے ہیں
پیار کا یہ سلسلہ ہی چھوڑ دو
ہر کسی سے رابطہ ہی چھوڑ دو
پاس وہ آئے کہ میں جاؤں قریب
وصل کا یہ مرحلہ ہی چھوڑ دو
آنے جانے سے بڑھے گی دشمنی
یہ گلی، یہ راستہ ہی چھوڑ دو
اشک آنکھوں میں بھر نہیں سکتے
اس گلی سے گزر نہیں سکتے
جن کی فطرت ہو دل لگی کرنا
وہ محبت تو کر نہیں سکتے
اس میں سارا قصور میرا ہے
اس پہ الزام دھر نہیں سکتے