مذہب عشق کو گفتار میں رکھا ہوتا
ایک نیا زخم بھی دستار میں رکھا ہوتا
عین ممکن تھا خریدار بھی آ ہی جاتے
اس جوانی کو جو بازار میں رکھا ہوتا
ہم جو کچھ روز تِرے عشق میں جلتے پھرتے
اک جلوہ سا جو دیدار میں رکھا ہوتا
چشم حیرت کو کوئی خواب بھی مل سکتا تھا
اس کو تعبیر کے دربار میں رکھا ہوتا
اس طرح شہر میں آزاد نہ پھرتے رہتے
ہم کو دشمن کے کسی وار میں رکھا ہوتا
دل مضطر کو کہیں چین نہیں ہے راشد
اس سے بہتر تھا کہ پندار میں رکھا ہوتا
راشد ترین
No comments:
Post a Comment