Showing posts with label عامر امیر. Show all posts
Showing posts with label عامر امیر. Show all posts

Thursday, 1 June 2023

عشق سنت ہے خدا کی عشق میراث ازل

 عشق سنت ہے خدا کی، عشق میراثِ ازل

عشق کا بانی مُبانی، لَا یَمُوتُ و لَمْ یَزَلْ

عشق تنہائی پسند از روزِ اول تا ابد

عشق یکتائی کا طالب، لَم یَلِد سے لَم یُو لَد

عشق نے چاہا کہ اب ہو دل لگی کا بندوبست

عشق کی تحریک پر برپا ہوا یومِ الست

Saturday, 7 January 2023

کوئی وار مجھ پہ ہو کارگر مرے دشمنوں کے حساب سے

 کوئی وار مجھ پہ ہو کارگر، مِرے دشمنوں کے حساب سے 

اسی انتظار میں مر گئے کئی درجنوں کے حساب سے

مِری چھت ٹپکنے لگی تو پھر مجھے ان خیالوں نے آ لیا 

کہ یہ بارشیں ذرا تیز ہیں مِرے برتنوں کے حساب سے

وہاں اک دوپٹہ تھا ریشمی، یہاں ایک رسی تھی بان کی

یہی گھر سے جلدی میں مل سکا انہیں گردنوں کے حساب 

Saturday, 8 October 2022

یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی پڑی رہے گی

 یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی، پڑی رہے گی 

جو میں بھی رُوٹھا تو صبح تک تُو سجی سجائی پڑی رہے گی

نہ تُو نے پہنے جو اپنے ہاتھوں میں میری ان انگلیوں کے کنگن

تو سوچ لے، کتنی سُونی سُونی تِری کلائی پڑی رہے گی

ہمارے گھر سے یوں بھاگ جانے پہ کیا بنے گا، میں سوچتا ہوں

محلے بھر میں کئی مہینوں تلک دُہائی پڑی رہے گی

Monday, 18 July 2022

وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ مجھے مناؤ

 وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ، مجھے مناؤ

ہو مرد تو آگے بڑھ کے مجھ کو گلے لگاؤ، مجھے مناؤ

میں کل سے ناراض ہوں قسم سے، اور ایک کونے میں جا پڑی ہوں

ہاں میں غلط ہوں، دِکھاؤ پھر بھی تمہی جھکاؤ، مجھے مناؤ

تمہارے نخروں سے اپنی ان بن تو بڑھتی جائے گی، سن رہے ہو

تم ایک سوری سے ختم کر سکتے ہو تناؤ، مجھے مناؤ

Friday, 29 April 2022

بھلے وہ بے اصول ہے قبول ہے

 بھلے وہ بے اصول ہے، قبول ہے 

کوئی بھی اس کی بھول ہے قبول ہے 

گلاب پاؤں ہیں تِرے، نہ پیار کر

یہ راستہ ببول ہے، قبول ہے؟

وہ جھونکتا ہے میری آنکھ میں تو کیا

ذرا سی ہی تو دھول ہے، قبول ہے

Sunday, 24 April 2022

حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ

 حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ

ہیں تم پہ نصب سبھی خد و خال اپنی جگہ

میرے غرور نے آتے ہی گھٹنے ٹیک دئیے

تھا حسنِ یار کا جاہ و جلال اپنی جگہ

نظریہ ایک تھا پر ہم تھے مختلف جیسے

جنوب اپنی جگہ ہو شمال اپنی جگہ

Monday, 16 August 2021

وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے

 وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے

ہم بھی یوں ہی تو نہ مانے تھے سیانے نکلے

میں نے محسوس کیا جب بھی کہ گھر سے نکلا

اور بھی لوگ کئی کر کے بہانے نکلے

آج کی بات پہ میں ہنستا رہا، ہنستا رہا

چوٹ تازہ جو لگی درد پرانے نکلے

Tuesday, 6 April 2021

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا

 تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا

زخمِ دل کو کبھی اچھا نہیں ہونے دینا

میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا

اتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا

تُو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے

میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا

Thursday, 29 October 2020

دیکھ کر گستاخیاں اپنے بہاؤ کے خلاف

دیکھ کر گستاخیاں اپنے بہاؤ کے خلاف

ایک دریا ہو گیا چھوٹی سی ناؤ کے خلاف

مجھ کو روکا پیار سے لوگوں نے، سو کرنا پڑا

یہ مِرا ردِ عمل تھا اس دباؤ کے خلاف

زخم سے مرہم ہٹا دو، تاکہ یہ بھی سانس لے

مجھ کو نفرت ہے دوا سے جو ہو گھاؤ کے خلاف

Thursday, 22 October 2020

نہ غور سے دیکھ میرے دل کا کباڑ ایسے

 نہ غور سے دیکھ میرے دل کا کباڑ ایسے

کہ میں کبھی بھی نہیں رہا تھا اجاڑ ایسے

برا ہو تیرا جو بند رکھے تھے میں نے گھر کے

تو کھول آیا بغیر پوچھے کواڑ ایسے

جو میری روح و بدن کے ٹانکے ادھیڑ ڈالے

تو میری نظروں پہ اپنی نظروں کو گاڑ ایسے

Saturday, 10 February 2018

بجائے کوئی شہنائی مجھے اچھا نہیں لگتا

بجائے کوئی شہنائی، مجھے اچھا نہیں لگتا
محبت کا تماشائی، مجھے اچھا نہیں لگتا
وہ جب بچھڑے تھے ہم تو یاد ہے گرمی کی چھٹیاں تھیں؟
تبھی سے ماہِ جولائی، مجھے اچھا نہیں لگتا
وہ شرماتی ہے اتنا کہ ہمیشہ اس کی باتوں کا
قریباً ایک چوتھائی، مجھے اچھا نہیں لگتا

عشق میں نے لکھ ڈالا قومیت کے خانے میں

عشق" میں نے لکھ ڈالا "قومیت" کے خانے میں"
‎اور "تیرا دل" لکھا "شہریت" کے خانے میں
‎مجھ کو تجربوں نے ہی باپ بن کے پالا ہے
‎سوچتا ہوں کیا لکھوں "ولدیت" کے خانے میں؟
‎میرا ساتھ دیتی ہے، میرے ساتھ رہتی ہے
‎میں نے لکھا "تنہائی"، "زوجیت" کے خانے میں

Tuesday, 17 November 2015

گناہ کیا ہے حرام کیا ہے حلال کیا ہے سوال یہ ہے

گناہ کیا ہے، حرام کیا ہے، حلال کیا ہے، سوال یہ ہے 
مجھے محبت سے کوئی روکے مجال کیا ہے، سوال یہ ہے 
وفا بھی میری، ادا بھی میری، دغا بھی میری، جفا بھی میری 
تو پھر محبت میں یار تیرا کمال کیا ہے، سوال یہ ہے 
ہیں بال بکھرے، ہے چال بہکی، یہ کون ہے آئینے میں میرے  
اور اس سے بڑھ کر کہ اسکے گالوں پہ لال کیا ہے، سوال یہ ہے

بغاوتیں بھی بہت بے وفائیاں بھی بہت

بغاوتیں بھی بہت، بے وفائیاں بھی بہت
محبتیں یوں تمہاری نباہیاں بھی بہت
وہی جو ہم نے سہی بے وفائی وہ سہتا
مِرے رقیب سے ہیں میری بھلائیاں بھی بہت
بہت سی حسرتیں بوڑھی ہوئی ہیں گھر بیٹھے
مگر کہ وقت پہ ہم نے بیاہیاں بھی بہت

لگا ہے جان کو جو روگ جانے والا نہیں

لگا ہے جان کو جو روگ جانے والا نہیں
مجھے پتہ ہے کہ اب تُو منانے والا نہیں
مکانِ دل میں کوئی آ کے بس گیا آسیب
وہ جانتا ہے یہاں کوئی آنے والا نہیں
مجھے لگا تھا وہ سب کچھ بھلا کے آئے گا
مجھے نہیں تھا پتہ وہ بھلانے والا نہیں

Saturday, 14 November 2015

محبت برملا ہے یہ اشاروں سے نہیں ہوتی

محبت برملا ہے یہ اشاروں سے نہیں ہوتی 
سمندر کیا ہے، آگہی کناروں سے نہیں ہوتی 
مِری قسمت ہے میرے ہاتھ میں، ہے کون جو بدلے 
کہ یہ جرأت تو خود میرے ستاروں سے نہیں ہوتی 
کسی اُمت، کسی مِلت کی اونچائی حقیقت میں 
معیاروں سے تو ہوتی ہے مِناروں سے نہیں ہوتی 

دل کو وہی آزار ہے کچھ کرنا پڑے گا

دل کو وہی آزار ہے کچھ کرنا پڑے گا
پھر عشق سے دو چار ہے کچھ کرنا پڑے گا
ہے نام یا عزت یا محبت یا کمائی
ہر کام ہی دشوار ہے کچھ کرنا پڑے گا
یہ حکم ہے بولوں وہی جو حکم ہو اس کا
یہ شاہ کا دربار ہے، کچھ کرنا پڑے گا

جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں اچھا نہیں رہا

جھوٹا ہوں دھوکے باز ہوں، اچھا نہیں رہا
میں ہو گیا جوان اب بچہ نہیں رہا
اب رو کہ عشق راس تو آتا ہے مگر کم
دیکھا میں بارہا تجھے کہتا نہیں رہا
یہ کہہ رہا تھا آئینہ جھوٹا نہیں ہوں میں
میں کہہ رہا تھا، آئینہ سچا نہیں رہا

کام کو آدھا کر لیتے ہیں

کام کو آدھا کر لیتے ہیں
عشق زیادہ کر لیتے ہیں
درد سے جب بھر جائے دل تو
اور کشادہ کر لیتے ہیں
پیار تو ہم بھی کرتے ہیں پر
وہ کچھ زیادہ کر لیتے ہیں

Wednesday, 28 October 2015

جدائیوں کے زمانے کب تک نجانے کب تک

جدائیوں کے زمانے کب تک، نجانے کب تک 
تم آؤ گے یہ بتانے کب تک، نجانے کب تک
میں روٹھ بیٹھا ہوں جب سے، تم سے یہ سوچتا ہوں 
کہ آ رہے ہو منانے کب تک، نجانے کب تک
اب آ بھی جاؤ کہ تازگی زندگی میں آئے 
میں غم سنبھالوں پرانے کب تک، نجانے کب تک