عشق سنت ہے خدا کی، عشق میراثِ ازل
عشق کا بانی مُبانی، لَا یَمُوتُ و لَمْ یَزَلْ
عشق تنہائی پسند از روزِ اول تا ابد
عشق یکتائی کا طالب، لَم یَلِد سے لَم یُو لَد
عشق نے چاہا کہ اب ہو دل لگی کا بندوبست
عشق کی تحریک پر برپا ہوا یومِ الست
عشق سنت ہے خدا کی، عشق میراثِ ازل
عشق کا بانی مُبانی، لَا یَمُوتُ و لَمْ یَزَلْ
عشق تنہائی پسند از روزِ اول تا ابد
عشق یکتائی کا طالب، لَم یَلِد سے لَم یُو لَد
عشق نے چاہا کہ اب ہو دل لگی کا بندوبست
عشق کی تحریک پر برپا ہوا یومِ الست
کوئی وار مجھ پہ ہو کارگر، مِرے دشمنوں کے حساب سے
اسی انتظار میں مر گئے کئی درجنوں کے حساب سے
مِری چھت ٹپکنے لگی تو پھر مجھے ان خیالوں نے آ لیا
کہ یہ بارشیں ذرا تیز ہیں مِرے برتنوں کے حساب سے
وہاں اک دوپٹہ تھا ریشمی، یہاں ایک رسی تھی بان کی
یہی گھر سے جلدی میں مل سکا انہیں گردنوں کے حساب
یہ لال ڈبیا میں جو پڑی ہے وہ منہ دکھائی، پڑی رہے گی
جو میں بھی رُوٹھا تو صبح تک تُو سجی سجائی پڑی رہے گی
نہ تُو نے پہنے جو اپنے ہاتھوں میں میری ان انگلیوں کے کنگن
تو سوچ لے، کتنی سُونی سُونی تِری کلائی پڑی رہے گی
ہمارے گھر سے یوں بھاگ جانے پہ کیا بنے گا، میں سوچتا ہوں
محلے بھر میں کئی مہینوں تلک دُہائی پڑی رہے گی
وہ روٹھی روٹھی یہ کہہ رہی تھی قریب آؤ، مجھے مناؤ
ہو مرد تو آگے بڑھ کے مجھ کو گلے لگاؤ، مجھے مناؤ
میں کل سے ناراض ہوں قسم سے، اور ایک کونے میں جا پڑی ہوں
ہاں میں غلط ہوں، دِکھاؤ پھر بھی تمہی جھکاؤ، مجھے مناؤ
تمہارے نخروں سے اپنی ان بن تو بڑھتی جائے گی، سن رہے ہو
تم ایک سوری سے ختم کر سکتے ہو تناؤ، مجھے مناؤ
بھلے وہ بے اصول ہے، قبول ہے
کوئی بھی اس کی بھول ہے قبول ہے
گلاب پاؤں ہیں تِرے، نہ پیار کر
یہ راستہ ببول ہے، قبول ہے؟
وہ جھونکتا ہے میری آنکھ میں تو کیا
ذرا سی ہی تو دھول ہے، قبول ہے
حسین ہونٹ اگر ہیں تو گال اپنی جگہ
ہیں تم پہ نصب سبھی خد و خال اپنی جگہ
میرے غرور نے آتے ہی گھٹنے ٹیک دئیے
تھا حسنِ یار کا جاہ و جلال اپنی جگہ
نظریہ ایک تھا پر ہم تھے مختلف جیسے
جنوب اپنی جگہ ہو شمال اپنی جگہ
وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے
ہم بھی یوں ہی تو نہ مانے تھے سیانے نکلے
میں نے محسوس کیا جب بھی کہ گھر سے نکلا
اور بھی لوگ کئی کر کے بہانے نکلے
آج کی بات پہ میں ہنستا رہا، ہنستا رہا
چوٹ تازہ جو لگی درد پرانے نکلے
تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
زخمِ دل کو کبھی اچھا نہیں ہونے دینا
میں تو دشمن کو بھی مشکل میں کمک بھیجوں گا
اتنی جلدی اسے پسپا نہیں ہونے دینا
تُو نے میرا نہیں ہونا ہے تو پھر یاد رہے
میں نے تجھ کو بھی کسی کا نہیں ہونے دینا
دیکھ کر گستاخیاں اپنے بہاؤ کے خلاف
ایک دریا ہو گیا چھوٹی سی ناؤ کے خلاف
مجھ کو روکا پیار سے لوگوں نے، سو کرنا پڑا
یہ مِرا ردِ عمل تھا اس دباؤ کے خلاف
زخم سے مرہم ہٹا دو، تاکہ یہ بھی سانس لے
مجھ کو نفرت ہے دوا سے جو ہو گھاؤ کے خلاف
نہ غور سے دیکھ میرے دل کا کباڑ ایسے
کہ میں کبھی بھی نہیں رہا تھا اجاڑ ایسے
برا ہو تیرا جو بند رکھے تھے میں نے گھر کے
تو کھول آیا بغیر پوچھے کواڑ ایسے
جو میری روح و بدن کے ٹانکے ادھیڑ ڈالے
تو میری نظروں پہ اپنی نظروں کو گاڑ ایسے