Saturday, 14 November 2015

کام کو آدھا کر لیتے ہیں

کام کو آدھا کر لیتے ہیں
عشق زیادہ کر لیتے ہیں
درد سے جب بھر جائے دل تو
اور کشادہ کر لیتے ہیں
پیار تو ہم بھی کرتے ہیں پر
وہ کچھ زیادہ کر لیتے ہیں
میں اور دشمن فرض کا اپنے
روز اعادہ کر لیتے ہیں
ہجر کی لمبی راتوں کو ہم 
کاٹ کے آدھا کر لیتے ہیں
شاہ گرانا ہے سو آگے
ایک پیادہ کر لیتے ہیں
غم سے شادی کر کے سوچا
ایک سے زیادہ کر لیتے ہیں
عشق سے توبہ کرنے والے
پھر اک آدھا کر لیتے ہیں
ہم نے دور تو ہونا ہی تھا
آج ارادہ کر لیتے ہیں
تیری خاطر جنگ پہ فوراً 
دل آمادہ کر لیتے ہیں
تم تنہا کیا عشق کرو گے
آدھا آدھا کر لیتے ہیں
کوئی وعدہ اب نہیں کرنا
آج یہ وعدہ کر لیتے ہیں
تم کو عشق ہے، مجھ کو جلدی
سیدھا سادہ کر لیتے ہیں

عامر امیر

No comments:

Post a Comment