اٹھائے انگلیاں سب پر، حساب اپنا نہیں رکھتا
سوال اوروں سے کرتا ہے، جواب اپنا نہیں رکھتا
وہ دنیا کو بدلنے کے لیے بے چین رہتا ہے
کوئی منشور یا کوئی نصاب اپنا نہیں رکھتا
وہ ہم سے گفتگو کرتے ہوئے بھی آئینہ دیکھے
کھلی آنکھیں بھی داغوں کی طرح ہیں اسکے چہرے پر
وہ نیندوں کا بھی مجرم ہے جو خواب اپنا نہیں رکھتا
سکونِ قلب وہ کیسے کسی کو بانٹ سکتا ہے
کسی کے ذہن میں جو اضطراب اپنا نہیں رکھتا
کھلے دریاؤں میں کیسے وہ لڑ سکتا ہے دشمن سے
مظفرؔ جو ٹھکانہ زیرِ آب اپنا نہیں رکھتا
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment