Saturday, 14 November 2015

بدن بدن ڈھونڈنا پڑے گا کہاں ہیں دشمن کدھر ہیں اپنے

بدن بدن ڈھونڈنا پڑے گا کہاں ہیں دشمن کدھر ہیں اپنے
جو لوگ پتھر ہیں راستے کے، وہی شریکِ سفر ہیں اپنے
اگر کسی دل میں نور ہوتا، کہیں اجالا ضرور ہوتا
شکستِ دل کی صدائیں آئیں، خموش لیکن گجر ہیں اپنے
نہ سنگ ٹوٹے نہ چشم پھوٹے، تمام تیشہ بکف ہیں جھوٹے
کوئی نہیں چاہتا کسی کو، یہاں سبھی نوحہ گر ہیں اپنے
لہو بھی ہم اپنا چاٹتے ہیں، جڑیں بھی خود اپنی کاٹتے ہیں
مخالفت کر رہے ہیں کس کی، حمایتی ہم اگر ہیں اپنے
ہماری بولی تو بل چکی ہے، ہماری گھٹڑی تو کھل چکی ہے
نہ اپنے سینے میں اپنی سانسیں، نہ اپنے جسموں پہ سر ہیں اپنے

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment