بدن بدن ڈھونڈنا پڑے گا کہاں ہیں دشمن کدھر ہیں اپنے
جو لوگ پتھر ہیں راستے کے، وہی شریکِ سفر ہیں اپنے
اگر کسی دل میں نور ہوتا، کہیں اجالا ضرور ہوتا
شکستِ دل کی صدائیں آئیں، خموش لیکن گجر ہیں اپنے
نہ سنگ ٹوٹے نہ چشم پھوٹے، تمام تیشہ بکف ہیں جھوٹے
لہو بھی ہم اپنا چاٹتے ہیں، جڑیں بھی خود اپنی کاٹتے ہیں
مخالفت کر رہے ہیں کس کی، حمایتی ہم اگر ہیں اپنے
ہماری بولی تو بل چکی ہے، ہماری گھٹڑی تو کھل چکی ہے
نہ اپنے سینے میں اپنی سانسیں، نہ اپنے جسموں پہ سر ہیں اپنے
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment