Saturday, 14 November 2015

میری غرقابی میں ان کا بھی حوالہ کیوں نہیں

میری غرقابی میں ان کا بھی حوالہ کیوں نہیں
ڈوبتے دیکھا تو دریا سے نکالا کیوں نہیں
صرف میرے ہی بدن پر پتھروں کے زخم کیوں
اس کی گردن میں بھی تلواروں کی مالا کیوں نہیں
میری منزل کا تعین میرا دشمن کیوں کرے
راستہ پاتال کیوں میرا، ہمالہ کیوں نہیں 
آئینے پر عکس کیوں پڑتا نہیں تصویر کا
کالے ہیں کردار تو سورج بھی کالا کیوں نہیں
اونچے اونچے شیش محلوں میں چراغاں ہے اگر
چھوٹے چھوٹے جھونپڑوں میں اجالا کیوں نہیں
دوستی بھی تھی مظفرؔ گندے برتن کی طرح
اس کو استعمال سے پہلے کھنگالا کیوں نہیں

مظفر وارثی

No comments:

Post a Comment