میری غرقابی میں ان کا بھی حوالہ کیوں نہیں
ڈوبتے دیکھا تو دریا سے نکالا کیوں نہیں
صرف میرے ہی بدن پر پتھروں کے زخم کیوں
اس کی گردن میں بھی تلواروں کی مالا کیوں نہیں
میری منزل کا تعین میرا دشمن کیوں کرے
آئینے پر عکس کیوں پڑتا نہیں تصویر کا
کالے ہیں کردار تو سورج بھی کالا کیوں نہیں
اونچے اونچے شیش محلوں میں چراغاں ہے اگر
چھوٹے چھوٹے جھونپڑوں میں اجالا کیوں نہیں
دوستی بھی تھی مظفرؔ گندے برتن کی طرح
اس کو استعمال سے پہلے کھنگالا کیوں نہیں
مظفر وارثی
No comments:
Post a Comment