Showing posts with label ماہ لقا چندا. Show all posts
Showing posts with label ماہ لقا چندا. Show all posts

Friday, 22 September 2023

نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

 نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب

رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب

یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے

بر آوے کس طرح اللہ اب خونخوار سے مطلب

بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ

مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب

Friday, 9 September 2022

تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

 تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو

لگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کرو

ٹسوے بہا کے ہر گھڑی زاری نہیں ہے خوب

یہ راز عشق ہے اسے مشہور مت کرو

ہر چند دل دُکھانا کسی کا برا ہے پر

رنجیدہ خاطروں کو تو رنجور مت کرو

Thursday, 18 August 2022

رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض

 رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض

دامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گُہر فیض

پُر نُور عجب کیا ہے کرے مجھ کو کرم سے

رکھتی ہے دو عالم پہ تِری ایک نظر فیض

اک جام پہ بخشے ہے یہاں رتبہ جسم کو

کس کی نِگہِ مست سے رکھتا ہے خمر فیض

Friday, 5 August 2022

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

 گل کے ہونے کی توقع پہ جیے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مُٹھی میں لیے بیٹھی ہے

کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوفِ خزاں

بلبل، اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے

تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تِری تِرچھی نگاہ

سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے

Thursday, 4 August 2022

دل ہو گیا ہے غم سے ترے داغدار خوب

 دل ہو گیا ہے غم سے تِرے داغدار خوب

پُھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوب

کب تک رہوں حجاب میں محروم وصل سے

جی میں ہے کیجے پیار سے بوس و کنار خوب

ساقی! لگا کے برف میں مے کی صراحی لا

آنکھوں میں چھا رہا ہے نشہ کا خمار خوب

Sunday, 31 July 2022

عالم تری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا

 عالم تِری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا

میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا

ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق

دانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا

گردش سے تیری چشم کے مُدت سے ہوں خراب

تس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا