نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب
رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب
یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے
بر آوے کس طرح اللہ اب خونخوار سے مطلب
بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ
مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب
نہ گل سے ہے غرض تیرے نہ ہے گلزار سے مطلب
رکھا چشم نظر شبنم میں اپنے یار سے مطلب
یہ دل دام نگہ میں ترک کے بس جا ہی اٹکا ہے
بر آوے کس طرح اللہ اب خونخوار سے مطلب
بجز حق کے نہیں ہے غیر سے ہرگز توقع کچھ
مگر دنیا کے لوگوں میں مجھے ہے پیار سے مطلب
تم منہ لگا کے غیروں کو مغرور مت کرو
لگ چلنا ایسے دیسوں سے دستور مت کرو
ٹسوے بہا کے ہر گھڑی زاری نہیں ہے خوب
یہ راز عشق ہے اسے مشہور مت کرو
ہر چند دل دُکھانا کسی کا برا ہے پر
رنجیدہ خاطروں کو تو رنجور مت کرو
رکھتے ہیں میرے اشک سے یہ دیدۂ تر فیض
دامن میں لیا اپنے ہے دریا نے گُہر فیض
پُر نُور عجب کیا ہے کرے مجھ کو کرم سے
رکھتی ہے دو عالم پہ تِری ایک نظر فیض
اک جام پہ بخشے ہے یہاں رتبہ جسم کو
کس کی نِگہِ مست سے رکھتا ہے خمر فیض
گل کے ہونے کی توقع پہ جیے بیٹھی ہے
ہر کلی جان کو مُٹھی میں لیے بیٹھی ہے
کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوفِ خزاں
بلبل، اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے
تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تِری تِرچھی نگاہ
سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے
دل ہو گیا ہے غم سے تِرے داغدار خوب
پُھولا ہے کیا ہی جوش سے یہ لالہ زار خوب
کب تک رہوں حجاب میں محروم وصل سے
جی میں ہے کیجے پیار سے بوس و کنار خوب
ساقی! لگا کے برف میں مے کی صراحی لا
آنکھوں میں چھا رہا ہے نشہ کا خمار خوب
عالم تِری نگہ سے ہے سرشار دیکھنا
میری طرف بھی ٹک تو بھلا یار دیکھنا
ناداں سے ایک عمر رہا مجھ کو ربط عشق
دانا سے اب پڑا ہے سروکار دیکھنا
گردش سے تیری چشم کے مُدت سے ہوں خراب
تس پر کرے ہے مجھ سے یہ اقرار دیکھنا