Friday, 5 August 2022

گل کے ہونے کی توقع پہ جئے بیٹھی ہے

 گل کے ہونے کی توقع پہ جیے بیٹھی ہے

ہر کلی جان کو مُٹھی میں لیے بیٹھی ہے

کبھی صیاد کا کھٹکا ہے کبھی خوفِ خزاں

بلبل، اب جان ہتھیلی پہ لیے بیٹھی ہے

تیر و شمشیر سے بڑھ کر ہے تِری تِرچھی نگاہ

سیکڑوں عاشقوں کا خون کیے بیٹھی ہے

تیرے رخسار سے تشبیہ اسے دوں کیوں کر

شمع تو چربی کو آنکھوں میں دئیے بیٹھی ہے

تشنہ لب کیوں رہے اے ساقیٔ کوثر چندا

یہ تِرے جام محبت کو پیے بیٹھی ہے


ماہ لقا چندا

No comments:

Post a Comment