Showing posts with label ماہ نور رانا. Show all posts
Showing posts with label ماہ نور رانا. Show all posts

Wednesday, 5 April 2023

بدل یہ سرد سبھاؤ بڑا اندھیرا ہے

 بدل یہ سرد سبھاؤ، بڑا اندھیرا ہے

مِرے لہو کے الاؤ، بڑا اندھیر ہے

نمودِ شعر کی، افکارِ نو کی، جدت کی

ابھی نہ بات چلاؤ،۔ بڑا اندھیرا ہے

بنامِ نور و تجلی، بشوقِ نظر و نگاہ

بھلے ہمیں کو جلاؤ،۔ بڑا اندھیرا ہے

Wednesday, 15 March 2023

جانے والوں کو کبھی مڑ کے پکارا نہ کیا

 جانے والوں کو کبھی مڑ کے پکارا نہ کِیا

اور اگر کر بھی لیا دوست! دوبارہ نہ کیا

دائمی قحطِ محبت سے بنا لی ہم نے

واجبی عہدِ محبت پہ گزارہ نہ کیا

میں اسی لہجۂ مانوس کو حل مانتی تھی

جو تِرے زعم نے اس لمحہ گوارہ نہ کیا

Saturday, 7 January 2023

ہم جب بھی شش جہات کا نقشہ بنائیں گے

 ہم جب بھی شش جہات کا نقشہ بنائیں گے

یہ طے رہا کے آپ سے اچھا بنائیں گے

جد و جہد جو شوق کی دے دی تو بادشاہ

یہ کاٹ کر پہاڑ کو رستہ بنائیں گے

ہم رنج خور لوگ تو ایسے حریص ہیں

میت سے ماں کی نظم کا نطفہ بنائیں گے

Saturday, 17 December 2022

حراس و خوف ملے ثانوی سا ڈر نہ ملے

 حراس و خوف ملے ثانوی سا ڈر نہ ملے

حریف وہ ہے جس کی آنکھ سے نظر نہ ملے

غزل جو تیرہ زمینوں کا ہے سفر نہ ملے

ہماری جانشیں نسلوں کو یہ حضر نہ ملے

وہ جن کے ایک اشارے پہ اپنے رب سے گئے

سرِ صلیب ہمیں وہ پیامبر نہ ملے

Tuesday, 6 December 2022

سنو لوگو ترقی کا فسانہ آگہی کا گیت

 قصہ مہسا امینی کا


سنو لوگو! ترقی کا فسانہ، آگہی کا گیت

بدلتے موسموں کے ساتھ بدلی روشنی کا گیت

اساطیری نظاموں سے بنا اک پردگی کا گیت

کسی ما بعد جدت سے بدلتا، بہتری کا گیت


یہ قصہ ہے سنہری شال کا، عزت کا، عصمت کا

بیہمانہ رویہ سے خود اپنی ہی، حفاظت کا

Tuesday, 18 October 2022

تم کسی خیال کا ریپ نہیں کر سکتے

ریپ


تم میری تصویریں لیک نہیں کر سکتے

میری نظمیں تمہارے تخیل سے بڑھ کر برہنہ ہیں

میں جانتی ہوں

"I think therefore I am"

لیکن تم کسی خیال کا ریپ نہیں کر سکتے

Sunday, 16 October 2022

بنا سوچے بنا سمجھے اذیت میں بناتی ہوں

 بنا سوچے بنا سمجھے اذیت میں بناتی ہوں

جہاں درکار نہ بھی ہو مصیبت، میں بناتی ہوں

مجھے دعویٰ ہے شہرِ دلبراں کی چارہ سازی کا

سو جیسی چاہتی ہوں جس کی حالت، میں بناتی ہوں

وہ سارے رنج و غم سب آہ و گریہ خود بناتا ہے

پر اس کی بے وجہ ہنسنے کی عادت میں بناتی ہوں

Friday, 14 October 2022

ہم نے اس جرأت اظہار کو دینا تھا دوام

 ریاضت


ہم نے اس جرأتِ اظہار کو دینا تھا دوام

اس لیے عمر گزاری ہے سرِ دارِ کلام

ہم نے اک تیغ کی اصنامِ تخیل کی حریف

نارِ الہام کے کنجے سے نکالی ہے ردیف

مطلع لکھا تو رگِ جاں سی سیاہی مانگی

اور مقطے کے لیے تازہ تباہی مانگی

Thursday, 14 July 2022

نہیں تو پاگل نہیں خفا میں

 نہیں تو پاگل 

نہیں خفا میں

تمہاری پوروں نے 

غیر ہونٹوں کی چاہ کر لی اگر تو کیا ہوا ہے

ہوئی کسی کی وہ جنگ 

جو صرف میرے سر تھی اگر تو کیا ہے

Sunday, 3 July 2022

لمس نما جادو نے تین طلسموں کا سامان کیا

 لمس نما جادو نے تین طلسموں کا سامان کیا

آنکھ کو ششدر، دل کو ترپٹ، پوروں کو حیران کیا

ایک جھپک میں، میں نے دیکھا تین سو تیرہ بار اسے

ایسے دو سالوں میں پورا صدیوں کا نقصان کیا

رات کا پربت کاٹتے پلکیں خود پتھر ہو جاتی تھیں

پھر تم نے کچھ خواب دکھائے، آنکھوں پر احسان کیا

Wednesday, 29 June 2022

میں رہوں گی کس کی امان میں مرا کیا بچا ہے مکان میں

 میں رہوں گی کس کی امان میں؟ مِرا کیا بچا ہے مکان میں؟

مِرے بام و در، مِری چھت کا جس پہ تھا انحصار، چلا گیا

یہ جگہ نہیں ہے سوال کی، کسی گریے، آنسو، ملال کی

کہ تماش بین بچے ہیں بس،۔ مِرا سوگوار چلا گیا

مِری چشمِ تر سے ذرا پرے، رگِ جاں کے سائے میں، دل کے پاس

کوئی تھا شقی، جو یہ کہہ رہا تھا؛ وہ اب کی بار چلا گیا

Tuesday, 3 August 2021

میری اترن کو کس نے پہنا

 اُترن


کبھی کہیں پر

سنا ہے تم نے؟

کہ کوئی اپنے پرانے کپڑے، کہیں غریبوں میں بانٹ دے اور

پھر کبھی ان سے جا کے پوچھے

کہ کس نے پہنا وہ سرخ جوڑا؟

وہ سبز چادر کسے ملی تھی؟

Wednesday, 3 March 2021

یہ سیل گریاں یہ ابر و باراں نظر سے جائے تو نیند آئے

 یہ سیلِ گریاں یہ ابرو باراں نظر سے جائے تو نیند آئے

ہمارے سینے سے بارِ غم اب خدا اٹھائے تو نیند آئے

گزشتگاں نے ہمیں محبت میں جو اذیت ادھار دی ہے

ہماری خاطر نیا تعلق اسے چکائے تو نیند آئے

خدائے برحق جو تُو نے رکھا ہے وہ تجسس ہی رتجگا ہے

سبھی حقیقت کبھی ہمیں تُو اگر بتائے تو نیند آئے