بدل یہ سرد سبھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
مِرے لہو کے الاؤ، بڑا اندھیر ہے
نمودِ شعر کی، افکارِ نو کی، جدت کی
ابھی نہ بات چلاؤ،۔ بڑا اندھیرا ہے
بنامِ نور و تجلی، بشوقِ نظر و نگاہ
بھلے ہمیں کو جلاؤ،۔ بڑا اندھیرا ہے
بدل یہ سرد سبھاؤ، بڑا اندھیرا ہے
مِرے لہو کے الاؤ، بڑا اندھیر ہے
نمودِ شعر کی، افکارِ نو کی، جدت کی
ابھی نہ بات چلاؤ،۔ بڑا اندھیرا ہے
بنامِ نور و تجلی، بشوقِ نظر و نگاہ
بھلے ہمیں کو جلاؤ،۔ بڑا اندھیرا ہے
جانے والوں کو کبھی مڑ کے پکارا نہ کِیا
اور اگر کر بھی لیا دوست! دوبارہ نہ کیا
دائمی قحطِ محبت سے بنا لی ہم نے
واجبی عہدِ محبت پہ گزارہ نہ کیا
میں اسی لہجۂ مانوس کو حل مانتی تھی
جو تِرے زعم نے اس لمحہ گوارہ نہ کیا
ہم جب بھی شش جہات کا نقشہ بنائیں گے
یہ طے رہا کے آپ سے اچھا بنائیں گے
جد و جہد جو شوق کی دے دی تو بادشاہ
یہ کاٹ کر پہاڑ کو رستہ بنائیں گے
ہم رنج خور لوگ تو ایسے حریص ہیں
میت سے ماں کی نظم کا نطفہ بنائیں گے
حراس و خوف ملے ثانوی سا ڈر نہ ملے
حریف وہ ہے جس کی آنکھ سے نظر نہ ملے
غزل جو تیرہ زمینوں کا ہے سفر نہ ملے
ہماری جانشیں نسلوں کو یہ حضر نہ ملے
وہ جن کے ایک اشارے پہ اپنے رب سے گئے
سرِ صلیب ہمیں وہ پیامبر نہ ملے
قصہ مہسا امینی کا
سنو لوگو! ترقی کا فسانہ، آگہی کا گیت
بدلتے موسموں کے ساتھ بدلی روشنی کا گیت
اساطیری نظاموں سے بنا اک پردگی کا گیت
کسی ما بعد جدت سے بدلتا، بہتری کا گیت
یہ قصہ ہے سنہری شال کا، عزت کا، عصمت کا
بیہمانہ رویہ سے خود اپنی ہی، حفاظت کا
ریپ
تم میری تصویریں لیک نہیں کر سکتے
میری نظمیں تمہارے تخیل سے بڑھ کر برہنہ ہیں
میں جانتی ہوں
"I think therefore I am"
لیکن تم کسی خیال کا ریپ نہیں کر سکتے
بنا سوچے بنا سمجھے اذیت میں بناتی ہوں
جہاں درکار نہ بھی ہو مصیبت، میں بناتی ہوں
مجھے دعویٰ ہے شہرِ دلبراں کی چارہ سازی کا
سو جیسی چاہتی ہوں جس کی حالت، میں بناتی ہوں
وہ سارے رنج و غم سب آہ و گریہ خود بناتا ہے
پر اس کی بے وجہ ہنسنے کی عادت میں بناتی ہوں
ریاضت
ہم نے اس جرأتِ اظہار کو دینا تھا دوام
اس لیے عمر گزاری ہے سرِ دارِ کلام
ہم نے اک تیغ کی اصنامِ تخیل کی حریف
نارِ الہام کے کنجے سے نکالی ہے ردیف
مطلع لکھا تو رگِ جاں سی سیاہی مانگی
اور مقطے کے لیے تازہ تباہی مانگی
نہیں تو پاگل
نہیں خفا میں
تمہاری پوروں نے
غیر ہونٹوں کی چاہ کر لی اگر تو کیا ہوا ہے
ہوئی کسی کی وہ جنگ
جو صرف میرے سر تھی اگر تو کیا ہے
لمس نما جادو نے تین طلسموں کا سامان کیا
آنکھ کو ششدر، دل کو ترپٹ، پوروں کو حیران کیا
ایک جھپک میں، میں نے دیکھا تین سو تیرہ بار اسے
ایسے دو سالوں میں پورا صدیوں کا نقصان کیا
رات کا پربت کاٹتے پلکیں خود پتھر ہو جاتی تھیں
پھر تم نے کچھ خواب دکھائے، آنکھوں پر احسان کیا
میں رہوں گی کس کی امان میں؟ مِرا کیا بچا ہے مکان میں؟
مِرے بام و در، مِری چھت کا جس پہ تھا انحصار، چلا گیا
یہ جگہ نہیں ہے سوال کی، کسی گریے، آنسو، ملال کی
کہ تماش بین بچے ہیں بس،۔ مِرا سوگوار چلا گیا
مِری چشمِ تر سے ذرا پرے، رگِ جاں کے سائے میں، دل کے پاس
کوئی تھا شقی، جو یہ کہہ رہا تھا؛ وہ اب کی بار چلا گیا
اُترن
کبھی کہیں پر
سنا ہے تم نے؟
کہ کوئی اپنے پرانے کپڑے، کہیں غریبوں میں بانٹ دے اور
پھر کبھی ان سے جا کے پوچھے
کہ کس نے پہنا وہ سرخ جوڑا؟
وہ سبز چادر کسے ملی تھی؟
یہ سیلِ گریاں یہ ابرو باراں نظر سے جائے تو نیند آئے
ہمارے سینے سے بارِ غم اب خدا اٹھائے تو نیند آئے
گزشتگاں نے ہمیں محبت میں جو اذیت ادھار دی ہے
ہماری خاطر نیا تعلق اسے چکائے تو نیند آئے
خدائے برحق جو تُو نے رکھا ہے وہ تجسس ہی رتجگا ہے
سبھی حقیقت کبھی ہمیں تُو اگر بتائے تو نیند آئے