Wednesday, 3 March 2021

یہ سیل گریاں یہ ابر و باراں نظر سے جائے تو نیند آئے

 یہ سیلِ گریاں یہ ابرو باراں نظر سے جائے تو نیند آئے

ہمارے سینے سے بارِ غم اب خدا اٹھائے تو نیند آئے

گزشتگاں نے ہمیں محبت میں جو اذیت ادھار دی ہے

ہماری خاطر نیا تعلق اسے چکائے تو نیند آئے

خدائے برحق جو تُو نے رکھا ہے وہ تجسس ہی رتجگا ہے

سبھی حقیقت کبھی ہمیں تُو اگر بتائے تو نیند آئے

زمیں کی چادر کی تیرگی میں بھی جاگتے ہیں کہ کوئی اپنا

ہماری مرقد پہ پورے سولہ دِیے جلائے تو نیند آئے

حواس و بے ہوشیوں کے سنگم جسے پکاریں وہ سامنے ہو

ہماری آنکھوں کو نیم خوابی وہ دن دِکھائے تو نیند آئے

گزار آئی ہوں قرب و فرقت کے سارے موسم، سوائے وحشت

یہ رُت محبت میں آخری ہے، یہ بِیت جائے تو نیند آئے


ماہ نور رانا

No comments:

Post a Comment