Wednesday, 3 March 2021

یہاں پہ اشک وہاں پر صدف شمار ہوا

 یہاں پہ اشک، وہاں پر صدف شمار ہوا

یہ ہجر پھیلا تو دونوں طرف شمار ہوا

مِرے مکان پہ اڑتا تھا فاختاؤں کا غول

چھڑی جو جنگ تو پہلا ہدف شمار ہوا

بس ایک شام تِرے لمس نے بھرے مِرے ہاتھ

تمام عمر ستارہ بکف شمار ہوا

مِرے ہی نام سے جانا گیا قبیلہ مِرا

میں اپنے بعد بھی ہر ایک صف شمار ہوا

یہ کارِ عشق حسؔن ارتکاز گاہی ہے

جو ہر طرف ہے، سمجھ، بر طرف شمار ہوا


شبیر حسن

No comments:

Post a Comment