Wednesday, 3 March 2021

پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے

پڑی ہے رات، کوئی غم شناس بھی نہیں ہے

شراب خانے میں آدھا گلاس بھی نہیں ہے

میں دل کو لے کے کہاں نکلوں اتنی رات گئے

مکان اس کا کہیں آس پاس بھی نہیں ہے

کسی بھی بات کو لے کر الجھتے رہتے ہیں

‏یہ ملنا جلنا ہم ایسوں کو راس بھی نہیں ہے

یہاں تو لڑکیاں اچھا سا گھر بھی چاہتی ہیں

ہمارے پاس تو اچھا لباس بھی نہیں ہے

یہ شہر تو بہت اچھا ہے اپنے گاؤں سے

کہ راہ چلتوں کا کوئی تراس بھی نہیں ہے


اسماعیل راز  

No comments:

Post a Comment