انسانیت کی جاں
میرے وطن کے لوگ ہیں انسانیت کی جاں
میرا وطن ہے عظمت انساں کا پاسباں
میرے وطن کے لوگ مروت لیے ہوئے
انساں کا درد اس کی محبت لیے ہوئے
ہر ظلم کے خلاف بغاوت لیے ہوئے
رکھ دیں اڑا کے جور و ستم کی یہ دھجیاں
میرا وطن ہے عظمت انساں کا پاسباں
انسانیت کی جاں
میرے وطن کے لوگ ہیں انسانیت کی جاں
میرا وطن ہے عظمت انساں کا پاسباں
میرے وطن کے لوگ مروت لیے ہوئے
انساں کا درد اس کی محبت لیے ہوئے
ہر ظلم کے خلاف بغاوت لیے ہوئے
رکھ دیں اڑا کے جور و ستم کی یہ دھجیاں
میرا وطن ہے عظمت انساں کا پاسباں
منزلیں بھی، یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھنا
تم، سفر بھی دیکھنا، رختِ سفر بھی دیکھنا
حالِ دل تو کُھل چکا اس شہر میں ہر شخص پر
ہاں مگر اس شہر میں اک بے خبر بھی دیکھنا
راستہ دیں یہ سُلگتی بستیاں تو ایک دن
قریۂ جاں میں اترنا، یہ نگر بھی دیکھنا
وہ دشتِ کرب و بلا میں اترنے دیتا نہیں
ہوائے تیز میں مجھ کو بکھرنے دیتا نہیں
زمیں کو چومنا چاہوں کہ وہ زمیں پہ ہے
وہ آسمان سے مجھ کو اترنے دیتا نہیں
جھپکنے دیتا نہیں آنکھ وہ شبِ خلوت
مِرے لہو کو وہ آرام کرنے دیتا نہیں
بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے
سروں سے کھینچ لیے کس نے سائباں پھر سے
دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کا
زمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے
میں تیری یاد سے نکلا تو اپنی یاد آئی
ابھر رہے ہیں مٹے شہر کے نشاں پھر سے
وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے
تمہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے
تمہیں خبر ہی نہیں میرے دن گزرنے کی
تمہیں خبر ہی نہیں رات کیسے کٹتی ہے
عجب زمین پہ اترا ہوں اس کے رنگ عجیب
پرے دھکیلتی ہے، پاؤں بھی پکڑتی ہے
ٹریفک سگنل
میں عہدِ رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوں
نئی کتابوں کے معبدوں میں
پرانے لفظوں کو پوجتا ہوں
میں منظر ہوں بشارتوں کا
مِری زبان پر میں صبحِ نو کے
افق کے نئے جہاں کے نئے ترانے
وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں
پھر بھی غبار جیسا کوئی پل تو میں بھی ہوں
خواہش کی وحشتوں کا یہ جنگل ہے پُر خطر
مجھ سے بھی احتیاط کہ جنگل تو میں بھی ہوں
لگتا نہیں کہ اس سے مراسم بحال ہوں
میں کیا کروں کہ تھوڑا سا پاگل تو میں بھی ہوں
جو چاہتا تھا اسے میں نے وہ ملال دیا
بٹھا کے دِل میں اسے دِل سے پھر نکال دیا
کہاں رہا ہوں میں محرومِ لذتِ آزاد
کسی نے ہجر، کسی نے مجھے وصال دیا
مجھے یقین نہیں تھا نکل سکے گا کبھی
یہ میں نے کعبۂ دِل سے وہ بت نکال دیا