Showing posts with label عطاءالحق قاسمی. Show all posts
Showing posts with label عطاءالحق قاسمی. Show all posts

Saturday, 7 September 2024

میرا وطن ہے عظمت انساں کا پاسباں

 انسانیت کی جاں


میرے وطن کے لوگ ہیں انسانیت کی جاں

میرا وطن ہے عظمت انساں کا پاسباں


میرے وطن کے لوگ مروت لیے ہوئے

انساں کا درد اس کی محبت لیے ہوئے

ہر ظلم کے خلاف بغاوت لیے ہوئے

رکھ دیں اڑا کے جور و ستم کی یہ دھجیاں

میرا وطن ہے عظمت انساں کا پاسباں

Tuesday, 19 October 2021

منزلیں بھی یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھنا

منزلیں بھی، یہ شکستہ بال و پر بھی دیکھنا

تم، سفر بھی دیکھنا، رختِ سفر بھی دیکھنا

حالِ دل تو کُھل چکا اس شہر میں ہر شخص پر

ہاں مگر اس شہر میں اک بے خبر بھی دیکھنا

راستہ دیں یہ سُلگتی بستیاں تو ایک دن

قریۂ جاں میں اترنا، یہ نگر بھی دیکھنا

Friday, 15 October 2021

وہ دشت کرب و بلا میں اترنے دیتا نہیں

 وہ دشتِ کرب و بلا میں اترنے دیتا نہیں

ہوائے تیز میں مجھ کو بکھرنے دیتا نہیں

زمیں کو چومنا چاہوں کہ وہ زمیں پہ ہے

وہ آسمان سے مجھ کو اترنے دیتا نہیں

جھپکنے دیتا نہیں آنکھ وہ شبِ خلوت

مِرے لہو کو وہ آرام کرنے دیتا نہیں

Wednesday, 13 October 2021

بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے

 بھٹک رہی ہے عطا خلق بے اماں پھر سے

سروں سے کھینچ لیے کس نے سائباں پھر سے

دلوں سے خوف نکلتا نہیں عذابوں کا

زمیں نے اوڑھ لیے سر پر آسماں پھر سے

میں تیری یاد سے نکلا تو اپنی یاد آئی

ابھر رہے ہیں مٹے شہر کے نشاں پھر سے

وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے

 وہ ایک شام جو پردیس میں اترتی ہے

تمہیں خبر ہی نہیں دل پہ کیا گزرتی ہے 

تمہیں خبر ہی نہیں میرے دن گزرنے کی 

تمہیں خبر ہی نہیں رات کیسے کٹتی ہے 

عجب زمین پہ اترا ہوں اس کے رنگ عجیب 

پرے دھکیلتی ہے، پاؤں بھی پکڑتی ہے 

Tuesday, 12 October 2021

ٹریفک سگنل میں عہد رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوں

 ٹریفک سگنل


میں عہدِ رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوں

نئی کتابوں کے معبدوں میں

پرانے لفظوں کو پوجتا ہوں

میں منظر ہوں بشارتوں کا

مِری زبان پر میں صبحِ نو کے 

افق کے نئے جہاں کے نئے ترانے

وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں

وہ گرد ہے کہ وقت سے اوجھل تو میں بھی ہوں

پھر بھی غبار جیسا کوئی پل تو میں بھی ہوں

خواہش کی وحشتوں کا یہ جنگل ہے پُر خطر

مجھ سے بھی احتیاط کہ جنگل تو میں بھی ہوں

لگتا نہیں کہ اس سے مراسم بحال ہوں

میں کیا کروں کہ تھوڑا سا پاگل تو میں بھی ہوں

Wednesday, 1 January 2020

جو چاہتا تھا اسے میں نے وہ ملال دیا

 جو چاہتا تھا اسے میں نے وہ ملال دیا

بٹھا کے دِل میں اسے دِل سے پھر نکال دیا

کہاں رہا ہوں میں محرومِ لذتِ آزاد

کسی نے ہجر، کسی نے مجھے وصال دیا

مجھے یقین نہیں تھا نکل سکے گا کبھی

یہ میں نے کعبۂ دِل سے وہ بت نکال دیا