Tuesday, 12 October 2021

ٹریفک سگنل میں عہد رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوں

 ٹریفک سگنل


میں عہدِ رفتہ کو ڈھونڈھتا ہوں

نئی کتابوں کے معبدوں میں

پرانے لفظوں کو پوجتا ہوں

میں منظر ہوں بشارتوں کا

مِری زبان پر میں صبحِ نو کے 

افق کے نئے جہاں کے نئے ترانے

پرانی قبریں چٹخ رہی ہیں

دِیے بُجھاؤ کہ سُرخ سُورج اُبھر رہا ہے

دلوں میں کوئی اُتر رہا ہے

نئے پرانے ہیں لفظ میری زباں پہ لیکن

میں ان کی لذّت سے بے خبر ہوں

میں بے ہُنر ہوں

میں سُرخ بھی ہوںپ میں سبز بھی ہوں

میں کچھ نہیں ہوں


عطاءالحق قاسمی

No comments:

Post a Comment