عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سارے احکام خدا جن کی زباں میں آئے
منزلت انؐ کی بھلا کس کے گماں میں آئے
مِرے مولاﷺ کا کرم میری زمیں کا اعجاز
سب جہانوں کے امیںﷺ مِرے جہاں میں آئے
آپﷺ کی ذات ہے وہ دائرہِ وصف و کمال
جو تصور میں سمائے نہ گماں میں آئے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
سارے احکام خدا جن کی زباں میں آئے
منزلت انؐ کی بھلا کس کے گماں میں آئے
مِرے مولاﷺ کا کرم میری زمیں کا اعجاز
سب جہانوں کے امیںﷺ مِرے جہاں میں آئے
آپﷺ کی ذات ہے وہ دائرہِ وصف و کمال
جو تصور میں سمائے نہ گماں میں آئے
ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے
شام نے اپنے رُوپ کی تھالی
موج کے آگے ایسے اُچھالی
کونپل کونپل رچ گئی لالی
حنیف اسعدی
میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا
کبھی کائنات بھی کم پڑی کبھی جسم و جاں میں سمٹ گیا
یہی حال ہے کئی سال سے نہ قرارِ دل، نہ سکونِ جاں
کبھی سانس غم کی الٹ گئی، کبھی رشتہ درد سے کٹ گیا
مِری جیتی جاگتی فصل سے یہ سلوک بادِ سموم کا
مِری کِشتِ فکر اُجڑ گئی مِرا ذہن کانٹوں سے پٹ گیا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
کوئی انﷺ کے بعد نبی ہوا؟ نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
کوئی ایسی ذاتِ ہمہ صفت، کوئی ایسا نورِ ہمہ جہت؟
کوئی مصطفےٰؐ، کوئی مجتبےٰؐ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
بجز ان کے رحمتِ ہر زماں، کوئی اور ہو تو بتائیے
نہیں ان سے پہلے کوئی نہ تھا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
گماں تھے ایسے کہ آثار تک یقیں کے نہ تھے
حضور آپ نہ ہوتے تو ہم کہیں کے نہ تھے
زمین، خاک مدینہ پہ ناز کرتی ہے
نصیب ایسے کسی اور سرزمیں کے نہ تھے
کوئی نبی نہیں میرے نبی کا ہم پایہ
تمام عہد کسی عہد آفریں کے نہ تھے
وفا کے خُوگر وفا کریں گے، یہ طے ہُوا تھا
وطن کی خاطر جیے مریں گے، یہ طے ہوا تھا
بوقتِ ہجرت قدم اٹھیں گے جو سُوئے منزل
تو بیچ رستے میں دَم نہ لیں گے یہ طے ہوا تھا
چہار جانب بہار آئی ہوئی تھی، لیکن
بہار کو اعتبار دیں گے،۔ یہ طے ہوا تھا
ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں
ابھی چراغ سرِ کہکشاں جلے بھی نہیں
جبینِ چرخ پہ گُل گُونۂ شفق مَل کر
ابھی تو شام کے سائے کہیں گئے بھی نہیں
ابھی ابھی تو جمائی ہے میں نے بزمِ خیال
ابھی افق بہ افق بام و در سجے بھی نہیں
کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
نہ دل نے دل کو ٹٹولا فضا ہی ایسی تھی
زبانِ درد سے لے کر دہانِ زخم تلک
کوئی بھی کھُل کے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی
سکوں کے درپئے آزار سب ہوئے، لیکن
جنوں سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی