Showing posts with label حنیف اسعدی. Show all posts
Showing posts with label حنیف اسعدی. Show all posts

Friday, 16 January 2026

سارے احکام خدا جن کی زباں میں آئے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


سارے احکام خدا جن کی زباں میں آئے

منزلت انؐ کی بھلا کس کے گماں میں آئے

مِرے مولاﷺ کا کرم میری زمیں کا اعجاز

سب جہانوں کے امیںﷺ مِرے جہاں میں آئے

آپﷺ کی ذات ہے وہ دائرہِ وصف و کمال

جو تصور میں سمائے نہ گماں میں آئے

Sunday, 19 November 2023

شام نے اپنے روپ کی تھالی

 ماہیا٭/ثلاثی/سہ حرفی/*ہائیکو/تروینی/ترائلے


شام نے اپنے رُوپ کی تھالی 

موج کے آگے ایسے اُچھالی 

کونپل کونپل رچ گئی لالی


حنیف اسعدی

Tuesday, 9 November 2021

میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا

 میں جو اپنے حال سے کٹ گیا تو کئی زمانوں میں بٹ گیا

کبھی کائنات بھی کم پڑی کبھی جسم و جاں میں سمٹ گیا

یہی حال ہے کئی سال سے نہ قرارِ دل، نہ سکونِ جاں

کبھی سانس غم کی الٹ گئی، کبھی رشتہ درد سے کٹ گیا

مِری جیتی جاگتی فصل سے یہ سلوک بادِ سموم کا

مِری کِشتِ فکر اُجڑ گئی مِرا ذہن کانٹوں سے پٹ گیا

Monday, 25 October 2021

کوئی ان کے بعد نبی ہوا نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


کوئی انﷺ کے بعد نبی ہوا؟ نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

کہ خدا نے خود بھی تو کہہ دیا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

کوئی ایسی ذاتِ ہمہ صفت، کوئی ایسا نورِ ہمہ جہت؟

کوئی مصطفےٰؐ، کوئی مجتبےٰؐ، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

بجز ان کے رحمتِ ہر زماں، کوئی اور ہو تو بتائیے

نہیں ان سے پہلے کوئی نہ تھا، نہیں ان کے بعد کوئی نہیں

گماں تھے ایسے کہ آثار تک یقیں کے نہ تھے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


 گماں تھے ایسے کہ آثار تک یقیں کے نہ تھے

حضور آپ نہ ہوتے تو ہم کہیں کے نہ تھے

زمین، خاک مدینہ پہ ناز کرتی ہے

نصیب ایسے کسی اور سرزمیں کے نہ تھے

کوئی نبی نہیں میرے نبی کا ہم پایہ

تمام عہد کسی عہد آفریں کے نہ تھے

Sunday, 24 October 2021

وفا کے خوگر وفا کریں گے یہ طے ہوا تھا

 وفا کے خُوگر وفا کریں گے، یہ طے ہُوا تھا 

وطن کی خاطر جیے مریں گے، یہ طے ہوا تھا 

بوقتِ ہجرت قدم اٹھیں گے جو سُوئے منزل 

تو بیچ رستے میں دَم نہ لیں گے یہ طے ہوا تھا 

چہار جانب بہار آئی ہوئی تھی، لیکن 

بہار کو اعتبار دیں گے،۔ یہ طے ہوا تھا 

Thursday, 22 April 2021

ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں

 ابھی نہ جاؤ ابھی راستے سجے بھی نہیں

ابھی چراغ سرِ کہکشاں جلے بھی نہیں

جبینِ چرخ پہ گُل گُونۂ شفق مَل کر

ابھی تو شام کے سائے کہیں گئے بھی نہیں

ابھی ابھی تو جمائی ہے میں نے بزمِ خیال

ابھی افق بہ افق بام و در سجے بھی نہیں

Wednesday, 21 April 2021

کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

 کسی سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

نہ دل نے دل کو ٹٹولا فضا ہی ایسی تھی

زبانِ درد سے لے کر دہانِ زخم تلک

کوئی بھی کھُل کے نہ بولا فضا ہی ایسی تھی

سکوں کے درپئے آزار سب ہوئے، لیکن

جنوں سے کوئی نہ بولا فضا ہی ایسی تھی