Showing posts with label قاسم جلال. Show all posts
Showing posts with label قاسم جلال. Show all posts

Sunday, 24 April 2022

سوچوں سے دماغ جل رہا ہے

سوچوں سے دماغ جل رہا ہے

صہبا سے ایاغ جل رہا ہے

سینے میں یہ داغ جل رہا ہے

یا کوئی چراغ جل رہا ہے

سینچا تھا جو باغباں نے خوں سے

آج آہ! وہ باغ جل رہا ہے

Friday, 18 March 2022

لائے ہیں پیغام کسی کا مست نشیلے موسم

 لائے ہیں پیغام کسی کا مست، نشیلے موسم

رنگ رنگیلے، چھیل چھبیلے اور سجیلے موسم

اب بجھتی سوچوں کے خالی کاسے بھر جائیں گے

کرنیں بانٹ رہے ہیں اندر کے چمکیلے موسم

پھر لہجوں میں تلخی کا عنصر بڑھتا جاتا ہے

کانچ کی بستی میں پھر اُترے ہیں پتھریلے موسم

Thursday, 6 January 2022

ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں

 ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں

خود بکھرتے جا رہے ہیں کوششِ تعمیر میں

یہ بھی سوچیں کاش عزت کیا ہے اور ذلت ہے کیا

وہ جو رسوا ہو رہے ہیں حسرتِ توقیر میں

آج نخلِ مصلحت کی چھاؤں میں ہے محوِ خواب

پرورش جس کی ہوئی تھی سایۂ شمشیر میں

Friday, 24 December 2021

اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سندر چہرے

 اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سندر چہرے

وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اکثر چہرے

دم بخود رہ گیا سفاک لٹیروں کا گروہ

گھر سے جب نکلے محافظ بھی چھپا کر چہرے

آج یادوں کے شفق رنگ دریچے مت کھول

ورنہ سونے نہیں دیں گے تجھے شب بھر چہرے

Sunday, 19 December 2021

وہ اگر ہم خیال ہو جائیں

 وہ اگر ہم خیال ہو جائیں

ختم سارے ملال ہو جائیں

وہ ہوں آمادۂ جواب اگر

ہم سراپا سوال ہو جائیں

شہر والوں کا ہے خدا حافظ

چور جب کوتوال ہو جائیں

Saturday, 18 December 2021

بانیٔ شہر ستم مظلوم کیسے ہو گیا

 بانیٔ شہرِ ستم مظلوم کیسے ہو گیا

کل جو مجرم تھا وہ اب معصوم کیسے ہو گیا

محتسب! سچ سچ بتا خلوت میں کیا سودا ہوا

مدعی انصاف سے محروم کیسے ہو گیا

طائرِ آزاد، زیرِ دام کیسے آ گیا

وہ خیالِ منتشر منظوم کیسے ہو گیا

Tuesday, 28 September 2021

اب بھی ہو ان سے ملاقات ضروری تو نہیں

 اب بھی ہو ان سے ملاقات ضروری تو نہیں

ختم ہو جائیں شکایات ضروری تو نہیں

مختلف ہے میری رائے تو ہیں کیوں حیراں آپ

سب کے یکساں ہوں خیالات ضروری تو نہیں

وقت کے ہاتھ میں ہو سکتے ہیں غم کے پتھر

لائے خوشیوں کی ہی سوغات ضروری تو نہیں