سوچوں سے دماغ جل رہا ہے
صہبا سے ایاغ جل رہا ہے
سینے میں یہ داغ جل رہا ہے
یا کوئی چراغ جل رہا ہے
سینچا تھا جو باغباں نے خوں سے
آج آہ! وہ باغ جل رہا ہے
سوچوں سے دماغ جل رہا ہے
صہبا سے ایاغ جل رہا ہے
سینے میں یہ داغ جل رہا ہے
یا کوئی چراغ جل رہا ہے
سینچا تھا جو باغباں نے خوں سے
آج آہ! وہ باغ جل رہا ہے
لائے ہیں پیغام کسی کا مست، نشیلے موسم
رنگ رنگیلے، چھیل چھبیلے اور سجیلے موسم
اب بجھتی سوچوں کے خالی کاسے بھر جائیں گے
کرنیں بانٹ رہے ہیں اندر کے چمکیلے موسم
پھر لہجوں میں تلخی کا عنصر بڑھتا جاتا ہے
کانچ کی بستی میں پھر اُترے ہیں پتھریلے موسم
ہم تشخص کھو رہے ہیں ذات کی تشہیر میں
خود بکھرتے جا رہے ہیں کوششِ تعمیر میں
یہ بھی سوچیں کاش عزت کیا ہے اور ذلت ہے کیا
وہ جو رسوا ہو رہے ہیں حسرتِ توقیر میں
آج نخلِ مصلحت کی چھاؤں میں ہے محوِ خواب
پرورش جس کی ہوئی تھی سایۂ شمشیر میں
اتنا مسرور نہ ہو دیکھ کے سندر چہرے
وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں اکثر چہرے
دم بخود رہ گیا سفاک لٹیروں کا گروہ
گھر سے جب نکلے محافظ بھی چھپا کر چہرے
آج یادوں کے شفق رنگ دریچے مت کھول
ورنہ سونے نہیں دیں گے تجھے شب بھر چہرے
وہ اگر ہم خیال ہو جائیں
ختم سارے ملال ہو جائیں
وہ ہوں آمادۂ جواب اگر
ہم سراپا سوال ہو جائیں
شہر والوں کا ہے خدا حافظ
چور جب کوتوال ہو جائیں
بانیٔ شہرِ ستم مظلوم کیسے ہو گیا
کل جو مجرم تھا وہ اب معصوم کیسے ہو گیا
محتسب! سچ سچ بتا خلوت میں کیا سودا ہوا
مدعی انصاف سے محروم کیسے ہو گیا
طائرِ آزاد، زیرِ دام کیسے آ گیا
وہ خیالِ منتشر منظوم کیسے ہو گیا
اب بھی ہو ان سے ملاقات ضروری تو نہیں
ختم ہو جائیں شکایات ضروری تو نہیں
مختلف ہے میری رائے تو ہیں کیوں حیراں آپ
سب کے یکساں ہوں خیالات ضروری تو نہیں
وقت کے ہاتھ میں ہو سکتے ہیں غم کے پتھر
لائے خوشیوں کی ہی سوغات ضروری تو نہیں