خالی پنجرہ دھرا رہ گیا
رات موجِ ہوا
ایک چھوٹے سے کمرے کے
چھوٹے دریچے میں
آ کر کھڑی ہو گئی
بولی؛ اے بے خبر
خالی پنجرہ دھرا رہ گیا
رات موجِ ہوا
ایک چھوٹے سے کمرے کے
چھوٹے دریچے میں
آ کر کھڑی ہو گئی
بولی؛ اے بے خبر
جو گزرتا ہے گزر جائے جی
آج وہ کر لیں کہ بھر جائے جی
آج کی شب یہیں جینا مرنا
جس کو جانا ہو وہ گھر جائے جی
اس گلی سے نہیں جانا ہم کو
آن رخصت ہو کہ سر جائے جی
کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت
آپ اپنے نہیں آپ اپنے بہت
راز رکھتے نہ ہم اس تعلق کو گر
لوگ روتے بہت لوگ ہنستے بہت
دل کی تنہائیوں کا مداوا نہیں
گھوم کر ہم نے دیکھے ہیں میلے بہت
کوئی جب دل کے اندر ناچتا ہے
تو انساں ہو کہ پتھر، ناچتا ہے
تصوّر یا حقیقت ہے کہ اکثر
مِرا سر مجھ سے کٹ کر ناچتا ہے
ہُوا یوں بھی کہ مرشد کو منانے
کبھی کوئی قلندر ناچتا ہے
جس کو بھی دی صدا، وہ بڑی دیر سے ملا
جو بھی بھلا لگا، وہ بڑی دیر سے ملا
مِلتے گئے جو لوگ وہ د ل کو نہیں لگے
جس سے بھی دل لگا، وہ بڑی دیر سے ملا
باہر سے کوئی عکس نہ دل میں اتر سکا
جو عکس دل میں تھا، وہ بڑی دیر سے ملا
مسکرانا بہت آساں تھا کسی کے ہوتے
اب یہ عالم ہے کہ روتے ہیں سبھی کے ہوتے
آسمانوں سے اترنے میں اسے دیر لگی
ہم بھی تاخیر سے آتے تو اسی کے ہوتے
مانگ کر پینے کی عادت نہیں ڈالی اب تک
ہاتھ پھیلائے نہیں تشنہ لبی کے ہوتے
بہتر تو ہے یہی کہ پر و بال کاٹ دے
یا پھر کوئی فضا کے سبھی جال کاٹ دے
فنکار سنگ و چوب تراشے تو احتساب
موسم جو پیڑ پیڑ پہ اشکال کاٹ دے
اک عمر کاٹ دی ہے جہاں ہم نے کوئی اور
اک روز، ایک ماہ، یا اک سال کاٹ دے
زندگی کٹتی ہے کچھ اہلِ کرامات کے ساتھ
زہر کا جام جو دیتے ہیں مدارات کے ساتھ
ہم مسافر ہیں شبِ تار کے، پر جانتے ہیں
ان اندھیروں کا تسلط ہے فقط رات کے ساتھ
رات کے ساتھ مہ و نجم کا رشتہ ہے، مگر
جیسے ظالم کا تعلق ہو مراعات کے ساتھ
ننگے پاؤں کی آہٹ تھی یا نرم ہوا کا جھونکا تھا
پچھلے پہر کے سناٹے میں دل دیوانہ چونکا تھا
پانچوں حواس کی بزم سجا کر اُس کی یاد میں بیٹھے تھے
ہم سے پوچھو شبِ جدائی کب کب پتا کھڑکا تھا
اور بھی تھے اُس کی محفل میں باتیں سب سے ہوتی تھیں
سب کی آنکھ بچا کر اُس نے ہم کو تنہا دیکھا تھا
بکھر گیا ہوں ابھی کائنات میں گم ہوں
یہ سب فریب ہے خود اپنی ذات میں گم ہوں
اگر تُو ایک ہے، کیوں اتنے نام ہیں تیرے
میں سادہ لوح، ہجومِ صفات میں گم ہوں
تُو ہی بتا دے کہ اس میں قصور کس کا ہے
تُو خود میں گم ہے، میں لات و منات میں گم ہوں
اک سیلِ بے پناہ کی صورت رواں ہے وقت
تنکے سمجھ رہے ہیں کہ وہم و گماں ہے وقت
پرکھو تو جیسے تیغِ دو دم ہے کھنچی ہوئی
ٹالو تو ایک اُڑتا ہوا سا دھواں ہے وقت
ہم اس کے ساتھ ہیں کہ وہ ہے اپنے ساتھ ساتھ
کس کو خبر کہ ہم ہیں رواں یا رواں ہے وقت
تِرا خیال بہت دُور لے گیا مجھ کو
زمانہ دیر تلک ڈھونڈتا رہا مجھ کو
تِرے بجائے تِری جستجو کے رستے میں
خیال و خواب کا اک سلسلہ ملا مجھ کو
صبا کے دوش سے لپٹی ہوئی صدا کی طرح
ہر ایک لمحہ اڑاتا ہوا چلا مجھ کو
سمندر کے کنارے رقص میں ہوں
ہوا میں بے سہارے رقص میں ہوں
ابھی ہے رات کا اک پہر باقی
میں لے کر چاند تارے رقص میں ہوں
مِرے اندر بھی کوئی ناچتا ہے
میں اس کے ساتھ پیارے، رقص میں ہوں
اُچھالے سنگ کوئی میری جانب
کھِلا جو پھول کوئی، کوئی پھول مرجھایا
تضادِ زیست نے ہر رنگ میں سِتم ڈھایا
جنوں سے کم تو نہیں ہے یہ شدتِ احساس
جو شاخِ گل کہیں لچکی تو سانپ لہرایا
ہر ایک لمحۂ گزراں کا احترام کرو
بچھڑنے والا کبھی لوٹ کر نہیں آیا
چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا
مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا
یہ بھی بہت ہے سیکڑوں پودے ہرے ہوئے
کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا
ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے
دریا میں ہم جو اُترے، تو دریا اُتر گیا
برسوں کے حالات بھی کل کی بات لگیں
دل کے اندر صدیاں بھی لمحات لگیں
جو کچھ ہے احساس کا جادو ہے ورنہ
آنسو بھی بے بادل کی برسات لگیں
کانٹوں کو مت کوسیے شاید کانٹے ہی
منزل کی محرومی پر سوغات لگیں
فلک پر جب ستارے ٹوٹتے ہیں
زمیں پر دل ہمارے ٹوٹتے ہیں
یہ کیسے فیصلے ہوتے ہیں اوپر
جو نیچے عہد سارے ٹوٹتے ہیں
سُبک موجوں سے بن جاتے ہیں دھارے
سُبک موجوں سے دھارے ٹوٹتے ہیں
روح کو قالب کے اندر جاننا مشکل ہوا
لفظ میں احساس کو پہچاننا مشکل ہوا
لے اڑی پتے ہوا تو شاخِ گُل بے بس ہوئی
پھول پر سائے کی چادر تاننا مشکل ہوا
اپنے خلوت خانۂ دل سے جو نکلے تو ہمیں
سب کے غم میں اپنا غم بھی جاننا مشکل ہوا
سمندر پار آ بیٹھے مگر کیا
نئے ملکوں میں بن جاتے ہیں گھر کیا
نئے ملکوں میں لگتا ہے نیا سب
زمیں کیا، آسماں کیا اور شجر کیا
ادھر کے لوگ کیا کیا سوچتے ہیں
ادھر بستے ہیں خوابوں کے نگر کیا
فاصلوں کو درمیاں پر لکھ دیا
کیا ملیں جب آسماں پر لکھ دیا
ساتھ کیسا ساتھ، سب کچھ خواب یا
خواب اک چشمِ گماں پر لکھ دیا
آپ ہی کے ہو گئے، سو ہو گئے
آپ ہی کو لوحِ جاں پر لکھ دیا