Showing posts with label عبداللہ جاوید. Show all posts
Showing posts with label عبداللہ جاوید. Show all posts

Friday, 9 July 2021

خالی پنجرہ دھرا رہ گیا

خالی پنجرہ دھرا رہ گیا


 رات موجِ ہوا

ایک چھوٹے سے کمرے کے

چھوٹے دریچے میں

آ کر کھڑی ہو گئی

بولی؛ اے بے خبر

Friday, 14 May 2021

جو گزرتا ہے گزر جائے جی

 جو گزرتا ہے گزر جائے جی

آج وہ کر لیں کہ بھر جائے جی

آج کی شب یہیں جینا مرنا

جس کو جانا ہو وہ گھر جائے جی

اس گلی سے نہیں جانا ہم کو

آن رخصت ہو کہ سر جائے جی

Saturday, 3 April 2021

کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

 کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

آپ اپنے نہیں آپ اپنے بہت

راز رکھتے نہ ہم اس تعلق کو گر

لوگ روتے بہت لوگ ہنستے بہت

دل کی تنہائیوں کا مداوا نہیں

گھوم کر ہم نے دیکھے ہیں میلے بہت

Monday, 22 February 2021

کوئی جب دل کے اندر ناچتا ہے

 کوئی جب دل کے اندر ناچتا ہے

تو انساں ہو کہ پتھر، ناچتا ہے

تصوّر یا حقیقت ہے کہ اکثر

مِرا سر مجھ سے کٹ کر ناچتا ہے

ہُوا یوں بھی کہ مرشد کو منانے

کبھی کوئی قلندر ناچتا ہے

Thursday, 18 February 2021

جس کو بھی دی صدا وہ بڑی دیر سے ملا

 جس کو بھی دی صدا، وہ بڑی دیر سے ملا

جو بھی بھلا لگا، وہ بڑی دیر سے ملا

مِلتے گئے جو لوگ وہ د ل کو نہیں لگے

جس سے بھی دل لگا، وہ بڑی دیر سے ملا

باہر سے کوئی عکس نہ دل میں اتر سکا

جو عکس دل میں تھا، وہ بڑی دیر سے ملا

Tuesday, 19 January 2021

مسکرانا بہت آساں تھا کسی کے ہوتے

 مسکرانا بہت آساں تھا کسی کے ہوتے

اب یہ عالم ہے کہ روتے ہیں سبھی کے ہوتے

آسمانوں سے اترنے میں اسے دیر لگی

ہم بھی تاخیر سے آتے تو اسی کے ہوتے

مانگ کر پینے کی عادت نہیں ڈالی اب تک

ہاتھ پھیلائے نہیں تشنہ لبی کے ہوتے

Sunday, 17 January 2021

بہتر تو ہے یہی کہ پر و بال کاٹ دے

 بہتر تو ہے یہی کہ پر و بال کاٹ دے

یا پھر کوئی فضا کے سبھی جال کاٹ دے

فنکار سنگ و چوب تراشے تو احتساب

موسم جو پیڑ پیڑ پہ اشکال کاٹ دے

اک عمر کاٹ دی ہے جہاں ہم نے کوئی اور

اک روز، ایک ماہ، یا اک سال کاٹ دے

Saturday, 16 January 2021

زندگی کٹتی ہے کچھ اہلِ کرامات کے ساتھ

 زندگی کٹتی ہے کچھ اہلِ کرامات کے ساتھ

زہر کا جام جو دیتے ہیں مدارات کے ساتھ

ہم مسافر ہیں شبِ تار کے، پر جانتے ہیں

ان اندھیروں کا تسلط ہے فقط رات کے ساتھ

رات کے ساتھ مہ و نجم کا رشتہ ہے، مگر

جیسے ظالم کا تعلق ہو مراعات کے ساتھ

Friday, 15 January 2021

ننگے پاؤں کی آہٹ تھی یا نرم ہوا کا جھونکا تھا

 ننگے پاؤں کی آہٹ تھی یا نرم ہوا کا جھونکا تھا

پچھلے پہر کے سناٹے میں دل دیوانہ چونکا تھا

پانچوں حواس کی بزم سجا کر اُس کی یاد میں بیٹھے تھے

ہم سے پوچھو شبِ جدائی کب کب پتا کھڑکا تھا

اور بھی تھے اُس کی محفل میں باتیں سب سے ہوتی تھیں

سب کی آنکھ بچا کر اُس نے ہم کو تنہا دیکھا تھا

Thursday, 14 January 2021

بکھر گیا ہوں ابھی کائنات میں گم ہوں

 بکھر گیا ہوں ابھی کائنات میں گم ہوں

یہ سب فریب ہے خود اپنی ذات میں گم ہوں

اگر تُو ایک ہے، کیوں اتنے نام ہیں تیرے

میں سادہ لوح، ہجومِ صفات میں گم ہوں

تُو ہی بتا دے کہ اس میں قصور کس کا ہے

تُو خود میں گم ہے، میں لات و منات میں گم ہوں

Wednesday, 13 January 2021

اک سیل بے پناہ کی صورت رواں ہے وقت

 اک سیلِ بے پناہ کی صورت رواں ہے وقت

تنکے سمجھ رہے ہیں کہ وہم و گماں ہے وقت

پرکھو تو جیسے تیغِ دو دم ہے کھنچی ہوئی

ٹالو تو ایک اُڑتا ہوا سا دھواں ہے وقت

ہم اس کے ساتھ ہیں کہ وہ ہے اپنے ساتھ ساتھ

کس کو خبر کہ ہم ہیں رواں یا رواں ہے وقت

ترا خیال بہت دور لے گیا مجھ کو

 تِرا خیال بہت دُور لے گیا مجھ کو

زمانہ دیر تلک ڈھونڈتا رہا مجھ کو

تِرے بجائے تِری جستجو کے رستے میں

خیال و خواب کا اک سلسلہ ملا مجھ کو

صبا کے دوش سے لپٹی ہوئی صدا کی طرح

ہر ایک لمحہ اڑاتا ہوا چلا مجھ کو

Tuesday, 12 January 2021

سمندر کے کنارے رقص میں ہوں

 سمندر کے کنارے رقص میں ہوں

ہوا میں بے سہارے رقص میں ہوں

ابھی ہے رات کا اک پہر باقی

میں لے کر چاند تارے رقص میں ہوں

مِرے اندر بھی کوئی ناچتا ہے

میں اس کے ساتھ پیارے، رقص میں ہوں

اُچھالے سنگ کوئی میری جانب

کھِلا جو پھول کوئی کوئی پھول مرجھایا

 کھِلا جو پھول کوئی، کوئی پھول مرجھایا

تضادِ زیست نے ہر رنگ میں سِتم ڈھایا

جنوں سے کم تو نہیں ہے یہ شدتِ احساس

جو شاخِ گل کہیں لچکی تو سانپ لہرایا

ہر ایک لمحۂ گزراں کا احترام کرو

بچھڑنے والا کبھی لوٹ کر نہیں آیا

Monday, 11 January 2021

چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

 چمکا جو چاند رات کا چہرہ نکھر گیا

مانگے کا نور بھی تو بڑا کام کر گیا

یہ بھی بہت ہے سیکڑوں پودے ہرے ہوئے

کیا غم جو بارشوں میں کوئی پھول مر گیا

ساحل پہ لوگ یوں ہی کھڑے دیکھتے رہے

دریا میں ہم جو اُترے، تو دریا اُتر گیا

برسوں کے حالات بھی کل کی بات لگیں

 برسوں کے حالات بھی کل کی بات لگیں

دل کے اندر صدیاں بھی لمحات لگیں

جو کچھ ہے احساس کا جادو ہے ورنہ

آنسو بھی بے بادل کی برسات لگیں

کانٹوں کو مت کوسیے شاید کانٹے ہی

منزل کی محرومی پر سوغات لگیں

Sunday, 10 January 2021

فلک پر جب ستارے ٹوٹتے ہیں

 فلک پر جب ستارے ٹوٹتے ہیں

زمیں پر دل ہمارے ٹوٹتے ہیں

یہ کیسے فیصلے ہوتے ہیں اوپر

جو نیچے عہد سارے ٹوٹتے ہیں

سُبک موجوں سے بن جاتے ہیں دھارے

سُبک موجوں سے دھارے ٹوٹتے ہیں

Saturday, 9 January 2021

روح کو قالب کے اندر جاننا مشکل ہوا

 روح کو قالب کے اندر جاننا مشکل ہوا

لفظ میں احساس کو پہچاننا مشکل ہوا

لے اڑی پتے ہوا تو شاخِ گُل بے بس ہوئی

پھول پر سائے کی چادر تاننا مشکل ہوا

اپنے خلوت خانۂ دل سے جو نکلے تو ہمیں

سب کے غم میں اپنا غم بھی جاننا مشکل ہوا

Saturday, 28 November 2020

سمندر پار آ بیٹھے مگر کیا

 سمندر پار آ بیٹھے مگر کیا

نئے ملکوں میں بن جاتے ہیں گھر کیا

نئے ملکوں میں لگتا ہے نیا سب

زمیں کیا، آسماں کیا اور شجر کیا

ادھر کے لوگ کیا کیا سوچتے ہیں

ادھر بستے ہیں خوابوں کے نگر کیا

Tuesday, 24 November 2020

فاصلوں کو درمیاں پر لکھ دیا

 فاصلوں کو درمیاں پر لکھ دیا

کیا ملیں جب آسماں پر لکھ دیا

ساتھ کیسا ساتھ، سب کچھ خواب یا

خواب اک چشمِ گماں پر لکھ دیا

آپ ہی کے ہو گئے، سو ہو گئے

آپ ہی کو لوحِ جاں پر لکھ دیا