Saturday, 3 April 2021

کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

 کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

آپ اپنے نہیں آپ اپنے بہت

راز رکھتے نہ ہم اس تعلق کو گر

لوگ روتے بہت لوگ ہنستے بہت

دل کی تنہائیوں کا مداوا نہیں

گھوم کر ہم نے دیکھے ہیں میلے بہت

اس ہی بنیاد پر کیوں نہ مل جائیں ہم

آپ تنہا بہت ہم اکیلے بہت

جب تھی منزل نظر میں تو رستہ تھا ایک

گم ہوئی ہے جو منزل تو رستے بہت

خواب تعبیر کے موڑ پر کھو گئے

یوں کہ تعبیرداں پڑ کے سوئے بہت

پیڑ کو کاٹنے والے دیکھیں ذرا

پیڑ پر ہیں بنے آشیانے بہت

ڈوبنے والے شاید یہ بتلا سکیں

ڈوبنے کو سہارے کے تنکے بہت


عبداللہ جاوید

No comments:

Post a Comment