Showing posts with label افضل خان. Show all posts
Showing posts with label افضل خان. Show all posts

Wednesday, 17 July 2024

ملول ایسا ہوا منظر قضا سے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ملول ایسا ہوا منظرِ قضا سے میں

کہ روتا پیٹتا نکلا ہوں کربلا سے میں

تو اہلِ بیتؑ کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا؟

سوال مجھ سے کرے گا خدا، خدا سے میں

میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حُسینؑ

سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے میں

Tuesday, 18 April 2023

اک تناسب سے مجھے خلق خدا کھینچتی ہے

 اک تناسب سے مجھے خلق خدا کھینچتی ہے 

ڈھیل دیتی ہے ذرا اور ذرا کھینچتی ہے

پانی مقدار میں کم آنے لگے تو سمجھو

آنکھ ابرو کے مساموں سے ہوا کھینچتی ہے 

ایک جیسی ہے خدا کی بھی، غزل کی بھی زمیں 

اپنے دامن میں سبھی کو یہ بلا کھینچتی ہے 

Wednesday, 12 April 2023

کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے

 کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے 

وہ دیکھتا تھا مجھے اشک بار ہوتے ہوئے 

پرندے آئے تو گنبد پہ بیٹھ جائیں گے 

نہیں شجر کی ضرورت مزار ہوتے ہوئے 

ہے ایک اور بھی صورت رضا و کفر کے بیچ 

کہ شک بھی دل میں رہے اعتبار ہوتے ہوئے 

Friday, 16 December 2022

ایک سے پڑتے ہیں دونوں مقبروں پر پھول بھی

 ایک سے پڑتے ہیں دونوں مقبروں پر پھول بھی

جنت الفردوس میں قاتل بھی ہے مقتول بھی

دیکھ اے دنیا! ہمیں ترتیب دینا چھوڑ دے

تُو بگاڑے گی ہمارا روز کا معمول بھی

ان حسیں ہاتھوں نے لکھ کر جب مٹایا میرا نام

میں یکا یک ہو گیا گمنام بھی مقبول بھی

Tuesday, 1 November 2022

وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو

 وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو

ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو

بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری

ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو

تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے

اب جو حالات ہیں اے اہلِ زباں کیسے ہو

Friday, 15 April 2022

اک تناسب سے مجھے خلق خدا کھینچتی ہے

 اک تناسب سے مجھے خلقِ خدا کھینچتی ہے

ڈھیل دیتی ہے ذرا، اور ذرا کھینچتی ہے

پانی مقدار میں کم آنے لگے تو سمجھو

آنکھ ابرو کے مساموں سے ہوا کھنچتی ہے

بھیڑ میں ہاتھ چھڑاؤں تو سگی ماں کی طرح

بد دعا دے کے مجھے کوئی دعا کھینچتی ہے

Thursday, 7 April 2022

زیست کے عجب مسائل ہیں حل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

 زیست کے عجب مسائل ہیں حل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں 

کاندھے بوجھ کی شدت سے شل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

اک شب کی چوپال میں کیسے عمر کا نقشہ کھینچیں ہم

یہ قصے تو یار! مکمل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

ہجر کا موسم پت جھڑ جیسا جاتے جاتے جاتا ہے

کرب کے منظر آنکھ سے اوجھل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں

Saturday, 4 September 2021

بس یہ سنتے ہی سخن ختم ہمارا ہو جائے

 بس یہ سنتے ہی سخن ختم ہمارا ہو جائے

واہ، کیا کہنے، بہت خوب، دوبارا ہو جائے

رات بھر ہوتی رہے ٹوٹ کے دریا زاری

یوں بغل گیر کنارے سے کنارا ہو جائے

چاک سے ہو کے بھی صد چاک لیے پھرتا ہے

جسم کی آخری خواہش ہے کہ گارا ہو جائے

Monday, 26 October 2020

پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے

 پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے

ورنہ رہگیر کو جانے کی اجازت دی جائے

اس قدر ضبط مِری جان بھی لے سکتا ہے

کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جائے

کارِ دنیا مجھے مجنوں نہیں بننا لیکن

عشق میں نام کمانے کی اجازت دی جائے

Friday, 7 August 2020

آخر اس شخص نے تھک ہار کے سرگوشی کی

آخر اس شخص نے تھک ہار کے سرگوشی کی
جو یہ کہتا تھا زباں ہوتی ہے خاموشی کی
لطف لینے نہ دیا موت نے جی اٹھنے کا
گولی مٹھی میں دبی رہ گئی بے ہوشی کی
آخری جملہ کہا بوڑھے شجر نے کٹ کر
"انتہا ہو گئی احسان فراموشی کی"

Thursday, 30 January 2020

میں تجھ کو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ

نہیں تھا دھیان کوئی توڑتے ہوئے سگریٹ
میں تجھ کو بھول گیا چھوڑتے ہوئے سگریٹ
سو یوں ہوا کہ پریشانیوں میں پینے لگے
غمِ حیات سے منہ موڑتے ہوئے سگریٹ
مشابہ کتنے ہیں ہم سوختہ جبینوں سے
کسی ستون سے سر پھوڑتے ہوئے سگریٹ

یہ محبت ہے بند غار میاں

یہ محبت ہے بند غار میاں
ہو رہے ہو کہاں فرار میاں
کوئی غم گدگدا رہا ہے کیا؟
ہنس رہے ہو جو بار بار میاں
کسی گِنتی میں ہم نہیں آتے
کیجیۓ خود کو کیا شمار میاں

اتنے غم تو میرے رومال میں آ جاتے ہیں

لوگ جب زعم کے جنجال میں آ جاتے ہیں
اوجِ افلاک سے پاتال میں آ جاتے ہیں
تُو بھی اے زندگی! کیا یاد کرے گی ہم کو
آج خود چل کے تِرے جال میں آ جاتے ہیں
زیرِ انگشت کسی حرف کا آنا، جیسے
شعر کچھ یوں بھی مِری فال میں آ جاتے ہیں

Wednesday, 23 November 2016

تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا

تبھی تو میں محبت کا حوالاتی نہیں ہوتا
یہاں اپنے سوا کوئی ملاقاتی نہیں ہوتا
اب اس بات پہ میرے یار الجھتے ہیں
کہ ہر بات سن لیتا ہوں، جذباتی نہیں ہوتا
گرفتارِ وفا! رونے کا کوئی ایک موسم رکھ
جو نالہ روز بہہ نکلے وہ برساتی نہیں ہوتا

راہ بھولا ہوں مگر یہ مری خامی تو نہیں

راہ بھولا ہوں مگر یہ مِری خامی تو نہیں
میں کہیں اور سے آیا ہوں مقامی تو نہیں
اونچا لہجہ ہے فقط زورِ دلائل کے لئے
یہ مِری جان! مِری تلخ کلامی تو نہیں
ان درختوں کو دعا دو کہ جو رستے میں نہ تھے
جلدی آنے کا سبب تیز خرامی تو نہیں

جب اک سراب میں پیاسوں کو پیاس اتارتی ہے

جب اک سراب میں پیاسوں کو پیاس اتارتی ہے
مِرے یقیں کو قرین قیاس اتارتی ہے
ہمارے شہر کی یہ وحشیانہ آب و ہوا
ہر ایک روح میں جنگل کی باس اتارتی ہے
یہ زندگی تو لبھانے لگی ہمیں ایسے
کہ جیسے کوئی حسینہ لباس اتارتی ہے

شکست زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا

شکستِ زندگی ویسے بھی موت ہی ہے نا
تو سچ بتا یہ ملاقات آخری ہے نا
کہا نہیں تھا مِرا جسم اور بھر یا رب
سو اب یہ خاک تِرے پاس بچ گئی ہے نا
میں خود بھی یار تجھے بھولنے کے حق میں ہوں
مگر جو بیچ میں کمبخت شاعری ہے نا

Sunday, 11 May 2014

اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے

اس لمحے تشنہ لب ریت بھی پانی ہوتی ہے
آندھی چلے تو صحرا میں طغیانی ہوتی ہے
نثر میں جو کچھ کہہ نہیں سکتا شعر میں کہتا ہوں
اس مشکل میں بھی مجھ کو آسانی ہوتی ہے
جانے کیا کیا ظلم پرندے دیکھ کے آتے ہیں
شام ڈھلے پیڑوں پر مرثیہ خوانی ہوتی ہے

ہمارے خون کے پیاسے پشیمانی سے مر جائیں

ہمارے خون کے پیاسے پشیمانی سے مر جائیں
اگر ہم ایک دن اپنی ہی نادانی سے مر جائیں
اذیت سے جنم لیتی سہولت راس آتی ہے
کوئی ایسی پڑے مشکل کہ آسانی سے مر جائیں
ادھوری ہی نظر کافی ہے اس آئینہ داری پر
اگر ہم غور سے دیکھیں تو حیرانی سے مر جائیں

کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے

کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے
وہ دیکھتا تھا مجھے اشکبار ہوتے ہوئے
پرندے آئے تو گنبد پہ بیٹھ جائیں گے
نہیں شجر کی ضرورت مزار ہوتے ہوئے
ہے ایک اور بھی صورت رضا و کفر کے بیچ
کہ شک بھی دل میں رہے اعتبار ہوتے ہوئے