عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ملول ایسا ہوا منظرِ قضا سے میں
کہ روتا پیٹتا نکلا ہوں کربلا سے میں
تو اہلِ بیتؑ کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا؟
سوال مجھ سے کرے گا خدا، خدا سے میں
میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حُسینؑ
سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ملول ایسا ہوا منظرِ قضا سے میں
کہ روتا پیٹتا نکلا ہوں کربلا سے میں
تو اہلِ بیتؑ کی نصرت کو کیوں نہیں پہنچا؟
سوال مجھ سے کرے گا خدا، خدا سے میں
میں رو پڑا تو مجھے یاد آیا صبرِ حُسینؑ
سو اپنے آپ کو دینے لگا دلاسے میں
اک تناسب سے مجھے خلق خدا کھینچتی ہے
ڈھیل دیتی ہے ذرا اور ذرا کھینچتی ہے
پانی مقدار میں کم آنے لگے تو سمجھو
آنکھ ابرو کے مساموں سے ہوا کھینچتی ہے
ایک جیسی ہے خدا کی بھی، غزل کی بھی زمیں
اپنے دامن میں سبھی کو یہ بلا کھینچتی ہے
کل اپنے شہر کی بس میں سوار ہوتے ہوئے
وہ دیکھتا تھا مجھے اشک بار ہوتے ہوئے
پرندے آئے تو گنبد پہ بیٹھ جائیں گے
نہیں شجر کی ضرورت مزار ہوتے ہوئے
ہے ایک اور بھی صورت رضا و کفر کے بیچ
کہ شک بھی دل میں رہے اعتبار ہوتے ہوئے
ایک سے پڑتے ہیں دونوں مقبروں پر پھول بھی
جنت الفردوس میں قاتل بھی ہے مقتول بھی
دیکھ اے دنیا! ہمیں ترتیب دینا چھوڑ دے
تُو بگاڑے گی ہمارا روز کا معمول بھی
ان حسیں ہاتھوں نے لکھ کر جب مٹایا میرا نام
میں یکا یک ہو گیا گمنام بھی مقبول بھی
وہ جو اک شخص وہاں ہے وہ یہاں کیسے ہو
ہجر پر وصل کی حالت کا گماں کیسے ہو
بے نمو خواب میں پیوست جڑیں ہیں میری
ایک گملے میں کوئی نخل جواں کیسے ہو
تم تو الفاظ کے نشتر سے بھی مر جاتے تھے
اب جو حالات ہیں اے اہلِ زباں کیسے ہو
اک تناسب سے مجھے خلقِ خدا کھینچتی ہے
ڈھیل دیتی ہے ذرا، اور ذرا کھینچتی ہے
پانی مقدار میں کم آنے لگے تو سمجھو
آنکھ ابرو کے مساموں سے ہوا کھنچتی ہے
بھیڑ میں ہاتھ چھڑاؤں تو سگی ماں کی طرح
بد دعا دے کے مجھے کوئی دعا کھینچتی ہے
زیست کے عجب مسائل ہیں حل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
کاندھے بوجھ کی شدت سے شل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
اک شب کی چوپال میں کیسے عمر کا نقشہ کھینچیں ہم
یہ قصے تو یار! مکمل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
ہجر کا موسم پت جھڑ جیسا جاتے جاتے جاتا ہے
کرب کے منظر آنکھ سے اوجھل ہوتے ہوتے ہوتے ہیں
بس یہ سنتے ہی سخن ختم ہمارا ہو جائے
واہ، کیا کہنے، بہت خوب، دوبارا ہو جائے
رات بھر ہوتی رہے ٹوٹ کے دریا زاری
یوں بغل گیر کنارے سے کنارا ہو جائے
چاک سے ہو کے بھی صد چاک لیے پھرتا ہے
جسم کی آخری خواہش ہے کہ گارا ہو جائے
پاؤں کے زخم دکھانے کی اجازت دی جائے
ورنہ رہگیر کو جانے کی اجازت دی جائے
اس قدر ضبط مِری جان بھی لے سکتا ہے
کم سے کم اشک بہانے کی اجازت دی جائے
کارِ دنیا مجھے مجنوں نہیں بننا لیکن
عشق میں نام کمانے کی اجازت دی جائے