Friday, 7 August 2020

آخر اس شخص نے تھک ہار کے سرگوشی کی

آخر اس شخص نے تھک ہار کے سرگوشی کی
جو یہ کہتا تھا زباں ہوتی ہے خاموشی کی
لطف لینے نہ دیا موت نے جی اٹھنے کا
گولی مٹھی میں دبی رہ گئی بے ہوشی کی
آخری جملہ کہا بوڑھے شجر نے کٹ کر
"انتہا ہو گئی احسان فراموشی کی"
عمر بھر جنگ کا ماحول بنائے رکھا
حالتِ امن میں بھی میں نے زِرہ پوشی کی
ہجر کی طعنہ زنی ٹھیک ہے لیکن مجھ کو
اشک چھلکانے کی فرصت ہے نہ مے نوشی کی
روز تاخیر سے گھر آتا ہے میرا بیٹا
یہ منادی تو نہیں میری سبکدوشی کی

افضل خان

No comments:

Post a Comment