آخر اس شخص نے تھک ہار کے سرگوشی کی
جو یہ کہتا تھا زباں ہوتی ہے خاموشی کی
لطف لینے نہ دیا موت نے جی اٹھنے کا
گولی مٹھی میں دبی رہ گئی بے ہوشی کی
آخری جملہ کہا بوڑھے شجر نے کٹ کر
عمر بھر جنگ کا ماحول بنائے رکھا
حالتِ امن میں بھی میں نے زِرہ پوشی کی
ہجر کی طعنہ زنی ٹھیک ہے لیکن مجھ کو
اشک چھلکانے کی فرصت ہے نہ مے نوشی کی
روز تاخیر سے گھر آتا ہے میرا بیٹا
یہ منادی تو نہیں میری سبکدوشی کی
افضل خان
No comments:
Post a Comment