گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے لیے
سوچنا پڑتا ہے کتنا مسکرانے کے لیے
کتنی زحمت جھیلتا ہے ایک مفلس میزبان
گھر کی بد حالی کو مہماں سے چھپانے کے لیے
بھوک ان کو لے گئی کارخانوں کی طرف
خون اپنا بیچ کر آیا ہے اک مجبور باپ
بیٹیوں کے ہاتھ پر مہندی لگانے کے لیے
زندگی جلتی ہے کتنی دوزخوں کی آگ میں
چار دیواروں کی اک جنت بنانے کے لیے
ہاۓ تہواروں نے لوگوں کو بھکاری کر دیا
قرض لینا پڑتا ہے خوشیاں منانے کے لیے
ہو رہے ہیں آج دانا! آندھیوں میں مشورے
صرف میرے گھر کا اک دیپک بجھانے کے لیے
عباس دانا
No comments:
Post a Comment