Friday, 7 August 2020

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے لئے

گردش دوراں سے اک لمحہ چرانے لیے
سوچنا پڑتا ہے کتنا مسکرانے کے لیے
کتنی زحمت جھیلتا ہے ایک مفلس میزبان 
گھر کی بد حالی کو مہماں سے چھپانے کے لیے 
بھوک ان کو لے  گئی کارخانوں کی طرف
گھر سے بچے نکلے تھے سکول  جانے کے لیے
خون اپنا بیچ کر آیا ہے اک مجبور باپ
بیٹیوں کے ہاتھ پر مہندی لگانے کے لیے
زندگی جلتی ہے کتنی دوزخوں کی آگ میں
چار دیواروں کی اک جنت بنانے کے لیے
ہاۓ تہواروں نے لوگوں کو بھکاری کر دیا
قرض لینا پڑتا ہے خوشیاں منانے کے لیے
ہو رہے ہیں آج دانا! آندھیوں میں مشورے
صرف میرے گھر کا اک دیپک بجھانے کے لیے

عباس دانا

No comments:

Post a Comment