میں دیکھنے میں تو حوصلے سے کھڑا ہوا تھا
مگر میں اندر سے یار پورا ڈرا ہوا تھا
تو میرے لاشے پہ اس قدر بھی نہ ہو فسردہ
میں اپنے مرنے سے پہلے بھی تو مرا ہوا تھا
یہ نیم گریہ، سکوت شب اور ذرا سی وحشت
خدا سے ملنے کا اک وسیلہ بنا ہوا تھا
میں دیکھنے میں تو حوصلے سے کھڑا ہوا تھا
مگر میں اندر سے یار پورا ڈرا ہوا تھا
تو میرے لاشے پہ اس قدر بھی نہ ہو فسردہ
میں اپنے مرنے سے پہلے بھی تو مرا ہوا تھا
یہ نیم گریہ، سکوت شب اور ذرا سی وحشت
خدا سے ملنے کا اک وسیلہ بنا ہوا تھا
ہر جگہ ہر گھڑی، ہر کہیں اک گماں
جس کے باعث کئی خواہشیں دل میں پیدا ہوئیں
جب بھی موسم کو دیکھا فسردہ اسی دید کا منتظر ہی دکھا
شام جیسے کہ اس کے نگاہیں جھپکنے سے ہو
دن بھی اُن کھڑکیوں کے قریبی فریموں سے
اُس کے لیے رابطے میں ہے کہ کب وہ انگڑائی لے
وہ غم شناس لوگوں پہ کرتا یقیں اگر
اس کے یقیں کو آخری شب تک سنبھالتے
اپنی انا کی موج میں ہے وہ اور ایک ہم
پھرتے ہیں اس کے عہد کو اب تک سنبھالتے
سب خواہشات مار کے بس اک تِری طلب
لایا ہوں دل کی غار سے لب تک سنبھالتے
کس طرح آئینے بے کار وہ سارے جائیں
جن پہ ہر روز تِرے نقش ابھارے جائیں
ہم نہ جنت میں نہ زنداں میں اتارے جائیں
چین آ جائے جو بس تجھ پہ ہی وارے جائیں
بعد از مار دیا جاؤں، مگر پہلے پہل
تیرے ہاتھوں سے مِرے بال سنوارے جائیں
سکوت توڑنے والی ہنسی پہ شعر کہے
میں خود کلام ہوا خامشی پہ شعر کہے
ادھار لی ہے چمک ان حسین آنکھوں سے
پھر اس کے بعد کہیں روشنی پہ شعر کہے
یہ تیرے چھوڑ کے جانے کا فائدہ تو ہوا
مہینوں بعد تِری رخصتی پہ شعر کہے
کچھ اس طرح سے وہ آنکھیں دکھائی دیتی ہیں
کہ جیسے دور سے جھیلیں دکھائی دیتی ہیں
کسی کا قرب کسی کے لیے قیامت ہے
پھر اس کو ہر جگہ بانہیں دکھائی دیتی ہیں
میں ایک خوف سے گھبرا کے سو نہیں پاتا
کہ مجھ کو خواب میں قبریں دکھائی دیتی ہیں
کھُلیں کِواڑ تو سب رونما ہو سینے سے
جو حشر مجھ میں بپا ہے کئی مہینے سے
نفیس ہاتھ ستاروں کی مانگ کرتے ہیں
یہ جوف پُر نہیں ہو گا کسی نگینے سے
پھر ایک اور تمنا کی آنکھ بند ہوئی
پھر ایک بار بدن تھک چکا ہے جینے سے
رمیدگی کے تنازعے سب سمٹ رہے تھے
شریر جو تھے خدا کی جانب پلٹ رہے تھے
سہانے موسم میں، ایک کمرے کا حال یوں تھا
شدید گریہ تھا، غم دریچے سے چھٹ رہے تھے
بچھڑ گیا تھا وہ جو سمجھتا تھا ہم کو، سو ہم
کثیر وحشت کی زد میں خود سے لپٹ رہے تھے