Showing posts with label حسنین آفندی. Show all posts
Showing posts with label حسنین آفندی. Show all posts

Sunday, 17 March 2024

میں دیکھنے میں تو حوصلے سے کھڑا ہوا تھا

 میں دیکھنے میں تو حوصلے سے کھڑا ہوا تھا

مگر میں اندر سے یار پورا ڈرا ہوا تھا

تو میرے لاشے پہ اس قدر بھی نہ ہو فسردہ

میں اپنے مرنے سے پہلے بھی تو مرا ہوا تھا

یہ نیم گریہ، سکوت شب اور ذرا سی وحشت

خدا سے ملنے کا اک وسیلہ بنا ہوا تھا

Friday, 14 July 2023

ہر جگہ ہر گھڑی ہر کہیں اک گماں

 ہر جگہ ہر گھڑی، ہر کہیں اک گماں 

جس کے باعث کئی خواہشیں دل میں پیدا ہوئیں

جب بھی موسم کو دیکھا فسردہ اسی دید کا منتظر ہی دکھا

شام جیسے کہ اس کے نگاہیں جھپکنے سے ہو 

دن بھی اُن کھڑکیوں کے قریبی فریموں سے 

اُس کے لیے رابطے میں ہے کہ کب وہ انگڑائی لے

Sunday, 25 July 2021

وہ غم شناس لوگوں پہ کرتا یقیں اگر

 وہ غم شناس لوگوں پہ کرتا یقیں اگر

اس کے یقیں کو آخری شب تک سنبھالتے 

اپنی انا کی موج میں ہے وہ اور ایک ہم

پھرتے ہیں اس کے عہد کو اب تک سنبھالتے

سب خواہشات مار کے بس اک تِری طلب

لایا ہوں دل کی غار سے لب تک سنبھالتے 

Friday, 23 July 2021

کس طرح آئینے بے کار وہ سارے جائیں

 کس طرح آئینے بے کار وہ سارے جائیں

جن پہ ہر روز تِرے نقش ابھارے جائیں

ہم نہ جنت میں نہ زنداں میں اتارے جائیں

چین آ جائے جو بس تجھ پہ ہی وارے جائیں

بعد از مار دیا جاؤں، مگر پہلے پہل

تیرے ہاتھوں سے مِرے بال سنوارے جائیں

Wednesday, 21 July 2021

سکوت توڑنے والی ہنسی پہ شعر کہے

 سکوت توڑنے والی ہنسی پہ شعر کہے 

میں خود کلام ہوا خامشی پہ شعر کہے 

ادھار لی ہے چمک ان حسین آنکھوں سے 

پھر اس کے بعد کہیں روشنی پہ شعر کہے

یہ تیرے چھوڑ کے جانے کا فائدہ تو ہوا

مہینوں بعد تِری رخصتی پہ شعر کہے

Tuesday, 20 July 2021

کچھ اس طرح سے وہ آنکھیں دکھائی دیتی ہیں

 کچھ اس طرح سے وہ آنکھیں دکھائی دیتی ہیں 

کہ جیسے دور سے جھیلیں دکھائی دیتی ہیں 

کسی کا قرب کسی کے لیے قیامت ہے 

پھر اس کو ہر جگہ بانہیں دکھائی دیتی ہیں

میں ایک خوف سے گھبرا کے سو نہیں پاتا 

کہ مجھ کو خواب میں قبریں دکھائی دیتی ہیں

Thursday, 18 March 2021

کھلیں کواڑ تو سب رونما ہو سینے سے

 کھُلیں کِواڑ تو سب رونما ہو سینے سے

جو حشر مجھ میں بپا ہے کئی مہینے سے

نفیس ہاتھ ستاروں کی مانگ کرتے ہیں

یہ جوف پُر نہیں ہو گا کسی نگینے سے

پھر ایک اور تمنا کی آنکھ بند ہوئی

پھر ایک بار بدن تھک چکا ہے جینے سے

Friday, 13 November 2020

شدید گریہ تھا غم دریچے سے چھٹ رہے تھے

 رمیدگی کے تنازعے سب سمٹ رہے تھے

شریر جو تھے خدا کی جانب پلٹ رہے تھے

سہانے موسم میں، ایک کمرے کا حال یوں تھا

شدید گریہ تھا، غم دریچے سے چھٹ رہے تھے

بچھڑ گیا تھا وہ جو سمجھتا تھا ہم کو، سو ہم

کثیر وحشت کی زد میں خود سے لپٹ رہے تھے