کس طرح آئینے بے کار وہ سارے جائیں
جن پہ ہر روز تِرے نقش ابھارے جائیں
ہم نہ جنت میں نہ زنداں میں اتارے جائیں
چین آ جائے جو بس تجھ پہ ہی وارے جائیں
بعد از مار دیا جاؤں، مگر پہلے پہل
تیرے ہاتھوں سے مِرے بال سنوارے جائیں
کیا گزرتی ہے پھر ان پر تجھے معلوم کہاں
تیری آنکھوں کو ترس کر جو نظارے جائیں
آخری وقت ہو سجدہ جو میسر تیرا
سر جھکائیں تو تِرے سامنے مارے جائیں
اس سے بڑھ کر کوئی خواہش ہی نہیں ہے حسنین
تیرے ہونٹوں سے کسی روز پکارے جائیں
حسنین آفندی
No comments:
Post a Comment